جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیوز: کیا فورینزک تجزیہ ہر قسم کی ممکنہ جعل سازی پکڑ سکتا ہے؟

فورینزک تجزیہ (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تجزیہ کار زیادہ تر تصدیق کرتے وقت وہ سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں جو انھوں نے اپنی سائنسی تحقیق کی روشنی میں خود تیار کیا ہو

پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر گذشتہ سنیچر سے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ آڈیو اور ویڈیوز کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز ان مبینہ آڈیوز اور ویڈیوز کو منظر عام پر لے کر آئی تھیں۔

ان میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک لیگی کارکن ناصر بٹ سے ملاقات اور گفتگو کرتے ہوئے دکھائی اور سنائی دے رہے ہیں اور اس دوران وہ بتاتے ہیں کہ گذشتہ برس دسمبر میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات برس قید کی سزا کا فیصلہ انھوں نے دباؤ میں آ کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ججوں کی آڈیوز، ویڈیوز اور تاریخی اعترافات

’نواز شریف کو جیل بھیجنے والے جج دباؤ میں تھے‘

مریم نواز نے جج ارشد ملک کی دو مبینہ ویڈیوز جاری کر دیں

گذشتہ روز اپنے دعوؤں کو تقویت دینے کے لیے مریم نواز جج ارشد ملک کی دو مزید مبینہ ویڈیوز سامنے لائی ہیں جب کہ ان کا دعوی ہے کہ ان کے پاس دیکھانے اور سنانے کو مزید بہت کچھ ہے۔

ان ویڈیوز کو منظر عام پر لانے کے بعد مریم نواز نے احتساب عدالت کے جج پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں جبکہ جج ارشد ملک نے ان الزامات کی پرزور تردید بھی کی ہے۔

تاہم اس سب کے ساتھ ساتھ یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا یہ مبینہ ویڈیوز اور آڈیوز اصلی ہیں یا جعلی؟ ایک جانب حکومتی حلقے ان کو جھوٹ اور بلیک میلنگ کا پلندہ قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب نون لیگ ان کا فورینزک تجزیہ کروانے پر زور دے رہی ہے۔

آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ویڈیو کا فورینزک تجزیہ ہوتا کیا ہے اور کیا ویڈیو سے کی گئی چھیڑچھاڑ اور میں کی گئی ہر قسم کی ترامیم یا جعلسازی اس تجزیے کے ذریعے پکڑی جا سکتی ہے؟

فرانزک تجزیہ ویڈیو میں رد و بدل کیسے پکڑتا ہے؟

برطانیہ کے شہر برمنگھم میں واقع ورڈن فورینزکس نامی ایجنسی سے وابستہ فورینزک میڈیا ایگزامینر جیمز زالک کے مطابق ویڈیو کے فورینزک کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے یعنی گلوبل اور لوکل۔

گلوبل تجزیے کے ذریعے یہ تو بتایا جا سکتا ہے کہ ویڈیو ریکارڈنگ میں ترمیم کی گئی ہے یا نہیں، تاہم یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ وہ ترمیم اس میں کس جگہ کی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کے برعکس لوکل تـجزیے میں یہ پتا لگایا جاتا ہے کہ یہ ترامیم ریکارڈنگ میں ٹھیک کن کن مقامات پر کی گئی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز احتساب عدالت کے جج کی مبینہ آڈیوز اور ویڈیوز کو گذشتہ ہفتے پہلی مرتبہ منظر عام پر لے کر آئی تھیں

تجزیے کے لیے کیا طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے؟

فورینزک کے ماہر جیمز زالک کے مطابق ویڈیو کے فورینزک تجزیے کے لیے بہت سے سافٹ ویئر موجود ہیں تاہم 'تجزیہ کار زیادہ تر تصدیق کرتے وقت وہ سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں جو انھوں نے اپنی سائنسی تحقیق کی روشنی میں خود تیار کیا ہو۔'

ان کا کہنا ہے تصدیق کار تجزیے کی مختلف اقسام کا استعمال کرتے ہوئے ویڈیو کے مختلف پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ہر ویڈیو میں کم از کم دو سٹریمز یا دھارے پائے جاتے ہیں یعنی ایک تصویری اور دوسرا صوتی۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے تصویری دھارے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ’تصویری دھارا ویڈیو فریمز پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں ممکنہ ترامیم کا پتہ چلانے کے لیے جائزے کے دوران یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس دھارے کے بہاؤ میں کوئی تضاد تو نہیں یا پھر کوئی فریم گرا ہوا یا غائب تو نہیں ہے۔‘

جیمز زالک کہتے ہیں کہ ’سکرین پر نظر آنے والے اس کے وقت اور اس کے حقیقی دورانیے کے درمیان ممکنہ تضاد اور صوتی دھارے کے ساتھ اس کی مطابقت کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ دونوں دھاروں میں دہرا دباؤ بھی ترامیم کی نشاندہی کر سکتا ہے۔‘

جیمز زالک کے مطابق اس کے بعد ویڈیو میں موجود آڈیو سٹریم یعنی صوتی دھارے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے مرحلوں، توانائی، دباؤ کی سطح اور طویل مدتی سپکٹرم کی اوسط کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

آخر میں فائل کنٹینر یعنی کمپیوٹر پر موجود وہ ڈبا جس میں ویڈیو کی فائل موجود ہوتی ہے اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس میں فائل کی ساخت، خصوصیات، ای ایکس آئی ایف ڈیٹا اور فائل کے ہیڈر اور فوٹر کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

'جب تمام تر تجزیے مکمل کر لیے جائیں تو ان کے نتائج کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر دیکھا جاتا ہے اور اس کے بعد ہی تجزیہ کار اپنی رائے دے سکتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فرانزک تجزیہ ویڈیوز میں جعل سازی پکڑ سکتا ہے؟

جیمز زالک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں 'ایسا بہت مشکل ہے کہ جعل سازی پکڑی نہ جا سکے۔'

مگر کیا پاکستان میں کسی ادارے کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ مکمل فرانزک تجزیہ کر کے یہ بتا سکیں کہ ویڈیو ہر لحاظ سے اصل ہے یا اس میں جعل سازی کا شائبہ موجود ہے؟

پاکستان کا جدید ترین فورینزک ادارہ پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی لاہور میں واقع ہے۔

ان کے پاس ویڈیو کے فورینزک تجزیے کی صلاحیت موجود تو ہے مگر وہ ہر لحاظ سے مکمل اور جدید نہیں کہی جا سکتی۔ ’

پی ایف ایس اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ایجنسی 'ویڈیو کا فورینزک تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم ان کے پاس یہ سہولت میسر نہیں کہ وہ یہ بتا سکیں کہ کیا ویڈیو میں سنائی دینے والی آواز اصلی ہے یا اس میں ترمیم یا تخفیف کی گئی ہے۔'

پاکستان میں ویڈیو کا تجزیہ کیسے کیا جاتا ہے؟

ڈاکٹر محمد اقبال نے بتایا کہ ان کے ہاں 'ویڈیو کا تجزیہ فریم بائی فریم طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اور یہ مینوئل (دستی) بھی ہو سکتا ہے اور سوفٹ ویئر کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس میں اگر ان کے پاس ویڈیو کا میٹا ڈیٹا دستیاب ہو تو بہتر ہے، ورنہ اس کے بغیر بھی انھی دو طریقوں سے ویڈیو کا تجزیہ کرتے ہیں۔

میٹا ڈیٹا اس اضافی تحریری مواد کو کہا جاتا ہے جو ویڈیو کو پہچاننے میں مدد دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک تیسرے طریقے میں ویڈیو کے فریموں کو اوور لیپ یعنی ایک دوسرے کے اوپر چڑھا کر دیکھا جاتا ہے۔

'اور اس میں اس بنیاد پر مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ وہ فائل جس میں دلچسپی ہو اس کے کناروں وغیرہ پر کیا کوئی ردوبدل کیا گیا ہے۔'

Image caption پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی کے پاس ویڈیو کے صوتی تجزیے کی سہولت موجود نہیں ہے

صوتی تجزیے کی سہولت نہیں

پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اقبال کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ویڈیو کے صوتی تجزیے کی سہولت موجود نہیں ہے۔

'ہر ویڈیو کے ساتھ آواز ہوتی ہے۔ تاہم اگر اصل آواز کو بند کر کے اس کے اوپر دوسری آواز ریکارڈ کی گئی ہے تو میرا نہیں خیال کہ ہم یہ بتا پائیں گے۔ ہم نہیں بتا سکتے کہ وہ آواز اصلی ہے یا اس کے ساتھ ردوبدل کیا گیا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ البتہ دنیا میں ایسے سافٹ ویئر موجود ہیں جو یہ بتا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد اقبال کا کہنا تھا کہ ایسے سافٹ ویئر پنجاب کے پاس اس لیے میسر نہیں کیونکہ ’یہ سافٹ ویئر بہت مہنگے ہوتے ہیں اور ہم ان پر آنے والے خرچ کا جواز اس لیے نہیں دے سکتے کہ ہمارے پاس اس قسم کے تجزیوں کی درخواستیں بہت کم آتی ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ کچھ ایسا ہی وائس میچ یا صوتی تجزیے کے ساتھ بھی ہے۔

ویڈیو میں آواز کا ردوبدل کیسے پکڑا جاتا ہے؟

جیمز زالک کے مطابق ویڈیو میں آواز کا ردوبدل پکڑنا ممکن ہے۔

'اس کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا آواز اور تصویر کے درمیان مطابقت ہے یا نہیں۔'

مثال کے طور پر کیا تصویر پہلے اور آواز بعد میں آ رہی ہے یا پھر اس کا الٹ ہو رہا ہے۔ تصویر اور آواز کے دونوں دھاروں کو آمنے سامنے رکھ کر یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کیا آواز کا دھارا تصویر کے دھارے سے چھوٹا تو نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آڈیو کے اندر ترامیم کے لیے استعمال کیے جانے والے کسی سافٹ ویئر کی نشانیاں اس میں باقی رہ جانے کے بارے میں فائل کنٹینر کے تجزیے سے پتا چل سکتی ہیں۔

اسی طرح صوتی دھارے کا علیحدہ سے جائزہ لے کر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی فریکوئینسی، بینڈ وڈتھ، دباؤ کی حدود اور کوڈیک میں مطابقت ہے یا نہیں۔

کیا سوشل میڈیا پر موجود کسی بھی ویڈیو کی تصدیق ممکن ہے؟

جیمز زالک کا کہنا تھا کہ اس کا دارومدار زیادہ تر سوشل میڈیا کی قسم پر ہوتا ہے تاہم پھر بھی 'ایسا ممکن ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود ویڈیو کی اصلیت کے حوالے سے تصدیق کی جا سکے۔'

اس کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بہت سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ کو تبدیل کر دیتے ہیں۔

'اس کے باوجود ویڈیو اور آڈیو کے دھاروں کے تجزیے سے اس ویڈیو کے اصلی یا نقلی ہونے کے حوالے سے تصدیق کی جا سکتی ہے کیونکہ تبدیلی کے بعد بھی ممکنہ ترامیم کی نشانیاں اس میں باقی رہ جاتی ہیں۔'

جیمز زالک کا کہنا تھا کہ ویڈیوز کے تجزیے کے لیے اس قدر زیادہ سافٹ ویئر موجود ہیں جن کے بارے میں ایک عام آدمی یا ویڈیو میں ردوبدل کرنے والا عام شخص نہیں جانتا یا انہیں سمجھ نہیں سکتا۔

اس لیے 'بہت مشکل ہے کہ اصلی ویڈیو میں کسی بھی قسم کی ترامیم یا ردوبدل پکڑا نہ جا سکے۔'

اسی بارے میں