ٹوئٹر اور انسٹاگرام نے نفرت انگیز مواد کے خلاف نئے قوانین متعارف کروا دیے

سوشل میڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم شدید تنقید کی زد میں ہیں کہ وہ نفرت کو بڑھاوا دینے والے مواد کے بارے میں مؤثر کارروائی نہیں کر رہے۔

دنیا کے دو بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے نفرت، گالم گلوچ اور ٹرولنگ کے حوالے سے اپنے موجودہ قوانین میں تبدیلیاں کرنے اور نئے قوانین متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

فیس بُک کی ملکیت انسٹاگرام اور ٹوئٹر نے ایسے اقدامات کا اعلان کیا ہے جس کے نتیجے میں ان ویب سائٹس کے مطابق نفرت، ہراس اور گالم گلوچ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اب مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے ان برائیوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اب ایسے الفاظ یا فقروں کے استعمال پر آپ کو بلاک اور آپ کے کمنٹ یا ٹویٹ کو ہٹایا جا سکتا ہے جو پلیٹ فارم کے قواعد کے خلاف ہوں۔

یہ ایک ایسے موقعے پر کیا جا رہا ہے جب پاکستان ٹوئٹر پر اخلاق باختہ اور غلیظ ٹرینڈز معمول بنتے جارہے ہیں۔

ٹوئٹر کے غیر انسانی زبان کے خلاف نئے قواعد

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ٹوئٹر نے اپنے بلاگ میں مثال پیش کرتے ہوئے یہ کمنٹ لکھے ہیں جن میں واضح نفرت کا اظہار کیا گیا۔ ایسے یا اس سے ملتی جلتی ٹویٹس کے خلاف ٹوئٹر اب کارروائی کرے گا۔

اس میں سب سے اہم اعلان ٹوئٹر کی جانب سے 9 جولائی کو کیا گیا جس میں اس نے بتایا گیا کہ پلیٹ فارم کی ’بنیادی توجہ آف لائن نقصانات پر ہے اور تحقیق ثابت کرتی ہے کہ غیر انسانی زبان اس کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ مہینوں پر محیط تحقیق کے بعد ہم نے نفرت انگیز طرز عمل کے بارے میں قوانین کو بڑھانے کا فیصلہ کیا اور اب ہم اس میں ایسی زبان شامل کر رہے ہیں جس میں لوگ دوسروں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر غیر انسانی قرار دیتے ہیں۔'

اس کے بعد ٹوئٹر نے اعلان کیا کہ وہ 9 جولائی سے ایسی ٹویٹس کو ہٹا دے گا جو اس بنیاد پر ٹوئٹر کو رپورٹ کی جائیں گی۔

ایسی ٹویٹس جو 9 جولائی سے قبل کی گئیں اور جن میں اس قاعدے کو توڑا گیا ہو گا انہیں اگر رپورٹ کیا گیا تو انھیں ڈیلیٹ کیا جائے گا۔ مگر اس کے نتیجے میں اکاؤنٹ بند نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ واقعہ اس قاعدے کے بننے سے پہلے کا ہے۔'

مختصراً یہ کہ ٹوئٹر پر دوسروں کو کیڑے مکوڑے یا جانور کہنا یا اس قسم کی تشبہیات استعمال کرنا جس کی بنیاد مذہب پر ہو وہ اس قاعدے کے تحت ہٹا دی جائے گی۔

ٹوئٹر نے اپنے بلاگ میں مثال دی ہے کہ ٹویٹس جیسا کہ کسی مذہبی گروہ کے بارے میں لکھنا کہ 'اسے سزا ملنی چاہیے' یا یہ لکھنا 'ہم گھٹیا جانوروں سے نجات کے لیے کچھ نہیں کر رہے' ایسی مثالیں ہیں جنہیں ہٹایا جانا ضروری ہے۔

انسٹاگرام کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے نفرت پر قابو پانے کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption انسٹاگرام پر نفرت انگیز مواد ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس کے خاتمے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انسٹاگرام نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر نیا فیچر متعارف کروائے گا جس کی مدد سے وہ آن لائن ہراساں کرنے جیسے رویوں کو ختم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

اس کے ذریعے انسٹاگرام برے رویوں کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسے صارفین کو بلاک نہ کرنا پڑے۔ مگر انٹرنیٹ پر ہراس پھیلانا ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور انسٹاگرام اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہا ہے۔

ان نئے فیچرز میں ایسے فیچرز ہیں جو نفرت انگیز یا برے میسیج لکھنے والوں کو بتائیں گے کہ ان کا کمنٹ تکلیف دہ یا نامناسب ہے اس سے پہلے کہ وہ اسے پوسٹ کریں۔

اس کے نتیجے میں انسٹا گرام کا خیال ہے کہ لوگوں کو سوچنے کا موقع مل جائے گا اور شاید وہ اپنا کمنٹ بدل لیں اور ان کا نشانہ بننے والا شخص ان کی برائی سے محفوظ رہے۔

انسٹاگرام کے مطابق اس فیچر کے ابتدائی تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ اپنے کمنٹس پر نظرِ ثانی کرتے ہیں۔ اور بعد میں نسبتاً کم شدت والا کمنٹ لکھتے ہیں۔

تو جب کوئی صارف گندا یا نفرت پر مبنی میسیج یا کمنٹ لکھنے لگے گا تو اس سے انسٹاگرام پوچھے گا 'کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ یہ پوسٹ کرنا چاہتے ہیں؟' اور پھر اس صارف کو موقع دیا جائے گا کہ وہ اسے پوسٹ کرنے سے قبل بدل سکے۔

اسی بارے میں