کیا میٹھے مشروبات کینسر کا باعث بنتے ہیں؟

مشروب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میٹھے مشروبات استعمال کرنے والے ہر ایک ہزار افراد میں سے 22 افراد کینسر کے مرض میں مبتلا تھے

فرانس سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ میٹھے مشروبات جن میں سوڈا ڈرنکس اور پھلوں کے جوس شامل ہیں کینسر کے مرض کا باعث بن سکتے ہیں۔

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ایک لاکھ افراد کا پانچ برسوں تک جائزہ لیا گیا ہے۔

سوربون پیرس یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم نے اندازہ لگایا ہے کہ اس کی وجہ خون میں شوگر لیول کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس تحقیق کو مصدقہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور ماہرین کو اس پر مزید تحقیق کرنے کا کہا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چائے انڈیا کا قومی مشروب بنے گا؟

'چینی مکمل طور پر چھوڑنا ایک بڑی غلطی تھی'

کیا میٹھی چیزیں واقعی آپ کے لیے نقصان دہ ہیں؟

’ذیابیطس کی علامات مرض سے برسوں پہلے ظاہر ہو جاتی ہیں‘

میٹھے مشروبات کی تعریف کیا ہے؟

محققین کے مطابق ہر وہ مشروب جس میں پانچ فیصد سے زیادہ شکر (مٹھاس) ہے وہ میٹھے مشروبات کی تعریف میں آتا ہے اور اس میں پھلوں کے قدرتی جوس، سافٹ ڈرنکس، میٹھے ملک شیک، انرجی ڈرنکس اور چینی ملی ہوئی چائے اور کافی بھی شامل ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے اس ضمن میں ڈائٹ ڈرنکس کا بھی جائزہ لیا جن میں زیرو کیلری مصنوعی مٹھاس کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان کو اس میں کینسر کے مرض کے خطرہ کا کوئی نشان نہیں ملا۔

کینسر کے مرض کا خطرہ کتنا بڑا ہے؟

اس تحقیق کے مطابق ہفتے میں میٹھے مشروب کے دو کین پینے یا ایک دن میں اضافی 100 ملی لیٹر میٹھے مشروبات پینے سے کینسر کا مرض لاحق ہونے کا خطرہ 18 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسا کرنے والے ہر ایک ہزار افراد میں سے 22 افراد کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔

لہذا اگر یہ تمام افراد 100 ملی لیٹر اضافی میٹھے مشروبات کا استعمال کرتے تو تحقیق کرنے والوں کے مطابق ان نتائج میں چار مزید افراد کا اضافہ ہوتا یعنی پانچ برسوں میں یہ تعداد 22 سے بڑھ کر26 افراد ہوتی۔

برطانیہ کے کیسنر ریسرچ سینٹر کے ڈاکٹر گراہم وہیلر کا کہنا تھا کہ 'یہ فرض کیا جاتا ہے کہ کیسنر کا مرض اور میٹھے مشروبات کے استعمال میں ایک غیر روائیتی تعلق ہے جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔'

اس تحقیق کے دوران سامنے آنے والے 2193 کینسر کے مریضوں میں سے 693 مریض چھاتی کے سرطان، 291 پروسٹیٹ کینسر اور 166 کولوریکٹل کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔

کیا اس کے کوئی حتمی شواہد ہیں؟

نہیں، جس طرح سے یہ تحقیق ہوئی ہے یہ صرف ڈیٹا میں اس رحجان کی نشاندہی کر سکتی ہے، ان کی وضاحت نہیں کر سکتی۔

تو اس تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ افراد جو میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں یعنی 185 ملی لیٹر روزانہ ان میں کینسر کا مرض زیادہ ہے بانسبت ان افراد کے جن کا استعمال روزانہ 30 ملی لیٹر سے کم کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماہرین کے مطابق ہر وہ مشروب جس میں پانچ فیصد سے زیادہ مٹھاس ہے وہ میٹھے مشروبات کی تعریف میں آتا ہے

اس کی ایک ممکنہ تشریح یہ ہو سکتی ہے کہ میٹھے مشروبات کینسر کا باعث بن رہے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ زیادہ میٹھے مشروب استعمال کرنے والے افراد میں کھانے کی عادتیں اچھی نہیں تھیں جیسا کہ وہ زیادہ خوراک کے ساتھ ساتھ نمک کا استعمال بھی زیادہ کرتے تھے۔ جس سے میٹھے مشروب کے استعمال اور کینسر کے تعلق کو بہت تقویت نہیں ملتی۔

لہذا تحقیق کے نتیجے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میٹھے مشروبات کینسر کا باعث بنتے ہیں۔

ٹیسیڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر آمیلیہ کا کہنا ہے کہ 'جبکہ یہ تحقیق میٹھے مشروبات اور کینسر کے مرض کے درمیان کسی تعلق کو حتمی طور پر بیان نہیں کر سکتی مگر یہ میٹھے کے کم استعمال کے بارے میں چلنے والی حالیہ مہم کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہماری خوراک میں میٹھے کے استعمال کو کم کرنے کی انتہائی اہمیت ہے۔'

کیا اس کی وجہ صرف موٹاپا ہے؟

موٹاپا کینسر کی ایک بڑی وجہ ہے اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال وزن بڑھنے میں مدد کرتا ہے۔ البتہ تحقیق کے مطابق یہ مکمل تصویر نہیں ہے۔

تحقیق کرنے والے ایک محقق ڈاکٹر متھلڈا ٹووئیر نے بی بی سی کو بتایا 'میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال سے بڑھنے والے وزن اور موٹاپے کا کیسنر سے یقینی طور پر تعلق ہے لیکن تحقیق نے اس تعلق پر مکمل وضاحت نہیں کی ہے۔'

اب کیا سوچ بچار جاری ہے؟

تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق 'واضح طور پر میٹھے سے جوڑتا ہے' اور انھوں نے اس کی وجہ خون میں موجود شوگر لیول کو قرار دیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض مشروبات میں شامل چند کیمیکلز جیسا کہ ان مشروبات کو جاذب نظر بنانے والے رنگ وغیرہ بھی اس کا سبب ہو سکتے ہیں۔

تاہم اس تحقیق میں اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز کی ڈائٹیشین کیتھرین کولنز کا کہنا تھا کہ 'میں اس حیاتیاتی امکانات میں کوئی مماثلت نہیں دیکھتی جیسا کہ وزن بڑھنے کا ذیابیطس سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کو اکثر اس سے جوڑا ایک خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔'

محقیقین کا کیا کہنا ہے؟

سوربون پیرس سائٹ یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ایسی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان نتائج کی تصدیق کی جا سکے۔

ڈاکٹر ٹوئیر کا کہنا ہے کہ 'میٹھے مشروبات کو دل کے امراض، موٹاپے، ذیابیطس اور وزن کے بڑھنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے لیکن اب نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اس کا تعلق کینسر کے مرض سے بھی ہو سکتا ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے اس بات کو مزید تقویت ملتی ہے کہ میٹھے مشروبات پر ٹیکس لگانا اچھا خیال ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'متوازن غذا میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال محفوظ ہے'

ان کی تحقیق کے مطابق 'یہ اعداد و شمار موجودہ غذائیت کی سفارشات سے مطابقت رکھتا ہے کہ میٹھے مشروبات کے استعمال کو محدود کرنے کے لئے سو فیصد پھل کے رس کے ساتھ ساتھ ان مشروبات کو نشانہ بنانے کے ٹیکس اور مارکیٹنگ کی پابندی لگائی جائے۔'

برطانیہ نے سنہ 2018 میں ایک چینی ٹیکس متعارف کروایا، جس کے باعث مینوفیکچررز نے ان کی پیداوار میں زیادہ میٹھے مشروبات پر ایک اضافی ادائیگی کی ہے۔

مشروبات تیار کرنے والے کمپنیوں کا کیا کہنا ہے؟

برطانوی سافٹ ڈرنکس ایسوسی ایشن نے کہا کہ یہ تحقیق 'ان وجوہات کے ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرتی جیسا کہ اس کے مصنفین نے اس سے فوراً اخذ کیے ہیں۔'

اس ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل گیون پارٹنگنٹن کا مزید کہنا تھا کہ 'متوازن غذا میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال محفوظ ہے۔'

سافٹ ڈرنکس کی صنعت تسلیم کرتی ہے کہ موٹاپے سے نمٹنے میں مدد کرنے میں اس کو اہم کردار ادا کرنا ہے، لہذا ہم نے کیلوری اور مٹھاس میں کمی کی راہ اپنائی ہے۔'

اسی بارے میں