ماحولیاتی تبدیلی: آپ آلو، چاکلیٹ یا کافی کے بغیر زندگی کے لیے تیار ہیں؟

کافی کے پیالے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption درجۂ حرارت میں ہر ایک ڈگری کے اضافے کے ساتھ چائے اور کافی کی ایک تہائی فصل ختم ہوتی جائے گی

ہمیں اپنی بعض مرغوب غذاؤں کو الوداع کہنا پڑ سکتا ہے اور اس سب کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی ہے۔

جس طرح درجۂ حرارت اور موسم کے مزاج میں تغیر پیدا ہوگا فصلیں اگنے میں دشواری ہو سکتی ہے، مچھلیاں اور دوسرے جاندار مر سکتے ہیں۔

تو پھر مستقبل میں آپ کے دسترخوان سے کون سی چیزیں غائب ہو سکتی ہیں اور کیوں؟

کافی اور چائے

آپ اپنی صبح کی چائے یا کافی کا اچھی طرح مزا لے لیں کیونکہ چاہے آپ کافی کے دلدادہ ہوں یا چائے کے عاشق دونوں کے متعلق چیزیں بہت امید ا‌فزا نظر نہیں آ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’غذا کا مستقبل‘: لیبارٹری میں تیار شدہ گوشت

آئندہ پانچ برس 150 سالہ موسمی تاریخ کے ’گرم ترین سال‘

کیا ہم کیڑے کھا کر دنیا کو بچا سکتے ہیں؟

عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے سبب کافی پیدا کرنے والے علاقوں میں سنہ 2050 تک ممکنہ طور پر نصف کی کمی واقع ہو سکتی ہے جبکہ سنہ 2080 تک کافی کی جنگلی اقسام تقریباً ناپید ہو جائیں گی۔

تنزانیہ جو کہ کافی برآمد کرنے والا اہم ملک ہے وہاں گذشتہ 50 سالوں میں کافی کی پیداوار نصف رہ گئی ہے۔

اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ کافی کی عدم موجودگی میں آپ چائے پینے لگیں گے تو آپ کو بتا دیں کہ انڈیا کے سائنسدانوں کے پاس اس کے متعلق بھی اچھی خبر نہیں ہے۔

چائے کی کاشت کی آبیاری کرنے والے مون سون میں شدت کے سبب اس فصل کے ذائقے پر پہلے سے ہی اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔

اس لیے مستقبل قریب میں زیادہ پانی والی چائے کے لیے بھی تیار ہو جائیں۔

چاکلیٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ واقعی عالمی حدت کا غیر متوقع شکار ہے۔ کوکو کی پھلیوں کو زیادہ درجۂ حرارت کے ساتھ بہت زیادہ رطوبت چاہیے لیکن اس کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز استحکام ہے۔

کوکو کے پودے اتنے ہی ناز نخرے والے ہوتے ہیں جتنا کہ کافی کے پودے اور درجۂ حرارت، بارش، زمین کی خصوصیت، سورج کی روشنی یا پھر ہوا کی رفتار میں ذرا بھی تبدیلی اس کی فصل کو بہت زیادہ متاثر کر سکتی ہے۔

انڈونیشیا اور افریقی ممالک نے کوکو کے بجائے تاڑ اور ربر کے پودے جیسی دوسری زیادہ قابل اعتماد فصلیں اگانا شروع کر دی ہیں۔

40 سال کے عرصے میں گھانا اور آئیوری کوسٹ میں مزید دو ڈگری تک درجۂ حرارت بڑھنے کا خدشہ ہے۔ یہ دو ممالک دنیا کے دو تہائی کوکو کی برآمد کے ذمہ دار ہیں۔

اس کے نتیجے میں سستے داموں پر چاکلیٹ کا حصول یقیناً ختم ہو جائے گا۔

مچھلی اور چپس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سمندری جاندار درجۂ حرارت میں تبدیلی کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ سمندر کے گرم ہونے کے نتیجے میں وہ شمال کا رخ کریں گے

چاکلیٹ کے بارے میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ ٹھیک ہے، یہ برا ہوا لیکن دوسری کم مانگ والی عام چيزوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ مثلاً مچھلی اور آلو؟

خیال رہے کہ مچھلیاں سائز میں چھوٹی ہو رہی ہیں اور اس کی ایک وجہ گرم سمندر میں آکسیجن کی سطح کا مسلسل کم ہونا ہے۔ سمندر کے پانی میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی شمولیت پانی کو مزید تیزابی بنا رہی ہے جس کی وجہ سے صدفی مچھلیوں کو اپنی کھال بنانا مشکل ہو رہا ہے۔

اس کے ٹھوس شواہد جال میں نظر آتے ہیں جہاں عالمی سطح پر پانچ فیصد کی کمی واقع ہو چکی ہے اور جو شمالی سمندروں میں ماہی گیری کرتے ہیں ان کی مچھلیوں میں ایک تہائی کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

آلو کے بارے میں کیا ہوگا؟

ہر چند کہ آلو زمین کے نیچے پیدا ہوتے ہیں لیکن بار بار کی خشک سالی کے ان پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔

برطانیہ کی میڈیا نے بتایا ہے کہ برطانیہ میں سنہ 2018 کے ایک ہی زیادہ گرم موسم میں آلو کی فصل میں ایک چوتھائی کمی دیکھی گئی جبکہ دوسری سبزی ترکاریوں کے سائز میں تین سینٹی میٹر کی کمی دیکھی گئی۔

فرانسیسی برانڈی، وسکی اور بیئر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جنوب مغربی فرانس میں 600 سال سے جاری کوگنیک (برانڈی کی ایک قسم) کی صنعت کو بحران کا سامنا ہے۔ درجۂ حرارت میں اضافے کے نتیجے میں ان کے انگور اتنے میٹھے ہوتے جا رہے ہیں کہ ان کی کشید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

اس کے پیدا کرنے والے مناسب متبادل کے لیے ہر سال تحقیق پر ہزاروں یورو خرچ کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

مزید شمال یعنی سکاٹ لینڈ میں وسکی بنانے والے بھی اپنا سر کھجا رہے ہیں۔ عالمی حدت اور بار بار آنے والی خشک سالی نے تازہ پانی کی فراہمی کو متاثر کیا ہے۔

گذشتہ موسم گرما میں بہت سے وسکی تیار کرنے والوں کو اپنا کاروبار بند کرنا پڑا اور ماہر موسمیات نے شدید موسم کی مستقبل میں پیش گوئی کر رکھی ہے۔

برطانیہ کی نیشنل ویدر سروس کے مطابق برطانوی جزائر میں گرم اور خشک موسم گرما میں صنعتی انقلاب سے قبل کے زمانے کے مقابلے میں 30 گنا زیادتی ہوئی ہے۔

برطانیہ اور آئرلیند میں اب ہر آٹھ سال بعد شدید گرمی کا امکان ہے اور کئی دوسرے ممالک کی بھی یہی کہانی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خشک سالی بہت عام ہوتی جار رہی ہے

اسی قسم کے مسائل سے چیک جمہوریہ سے لے کر امریکہ تک کے بیئر بنانے والے دو چار ہیں۔ انھیں خشک سالی کے سبب خراب فصل اور پانی کی کمی کی دوہری مار کا سامنا ہے۔

میرا مسئلہ نہیں؟

آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی مصنوعات سے آپ کا لینا دینا نہیں یا وہ آپ کے لیے انتہائی ضروری نہیں۔ لیکن اس بات پر غور کریں کہ عالمی سطح پر فوڈ چین میں آنے والی اس ڈرامائی تبدیلی سے سینکڑوں ہزار لوگوں کے روزگار چلے جائيں گے۔

قیمتوں میں اضافے کی بات ہی نہیں کیونکہ فصلوں کے خراب ہونے یا نہ ہونے کے نتیجے میں قیمت میں اضافہ ناگزیر ہے۔ خوراک میں کمی سے انسانی بحران پیدا ہو جائے گا جو سیاسی عدم استحکام میں اضافے کا سبب ہوگا۔ اس لیے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اب یہ محض آپ کی صبح کی چائے کا مسئلہ نہیں رہ گیا ہے۔

اسی بارے میں