ڈپریشن اور شکٹزوفرینیا میں مبتلا اپنی اولاد کی قاتل روسی مائیں

Illustration
Image caption امریکہ میں ماہرِ نفسیات یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ ہر چار میں سے ایک ماں کے زہن میں اپنے بچے کو مارنے کے بارے میں خیالات آتے ہیں

روس میں ہر سال درجنوں خواتین کو اپنے ہی بچوں کے قتل کے جرم میں سزائیں دی جاتی ہیں۔ ان ملزمان میں متعدد بچوں والی، گھر پر رہنے والی اور کامیاب کاروباری خواتین بھی شامل ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ صرف ایک روسی مسئلہ نہیں ہے۔ امریکہ میں ماہرِ نفسیات یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ ہر چار میں سے ایک ماں کے ذہن میں اپنے بچے کو مارنے کے بارے میں خیالات آتے ہیں۔

تاہم روس میں متعدد ممالک کی طرح یہ سوچ عام ہے کہ انسان کو جینے کے لیے مضبوط ہونا پڑتا ہے اس لیے نفسیاتی مسائل کے بارے میں بات نہ کرنے میں ہی عافیت ہے۔ آپ کو ایسے مواقع پر آگے بڑھنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

ان کہانیوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد ہونے والا ڈپریشن متعدد مرتبہ یا تو تشخیص نہیں ہو پاتا یا اس کا وقت پر علاج نہیں کیا جاتا۔ اکثر قریبی رشتہ دار بھی اس عارضے کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں اور جب تک ان کو خبر ہوتی ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

متنازع موضوعات

بی بی سی رشیا کی صحافی اولیسیا گراسیمینکو اور سویتلانا ریٹر نے روس میں ایسی خواتین سے بات کی تاکہ اندازہ لگا سکیں کہ مائیں اپنے ہی بچوں کو کیوں قتل کرتی ہیں۔

ان کی تحقیقات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم مامتا سے متعلق افسانوں اور متنازع موضوعات سے متعلق خاموشی کو کیسے ختم کر سکتے ہیں اور ماؤں پر موجود نفسیاتی دباؤ کی حقیقت بیان کر سکیں تاکہ بچوں کے قتل جیسے سانحوں سے بچا جا سکے۔

Illustration
Image caption کسی نے الیونا کو بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو پیش آنے والے نفسیاتی مسائل کے بارے میں نہیں بتایا۔

الیونا

الیونا نامی ماہرِ معاشیات اپنے شوہر پیوٹر سے شادی کے بعد خوش تھیں اور وہ اپنے ہونے والے بچے کے بارے میں پرجوش بھی تھیں۔

انھوں نے چھوٹے بچے کے کپڑے اور بچہ گاڑی خریدی اور الیونا نے بچے کی پیدائش سے قبل معلوماتی کلاسز بھی لیں۔ لیکن کسی نے انھیں بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو پیش آنے والے نفسیاتی مسائل کے بارے میں نہیں بتایا۔

بچے کی پیدائش کے بعد الیونا کو کم خوابی کا عارضہ لاحق ہو گیا اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں۔

بعد میں پتا چلا کہ ان کے ساتھ ماضی میں ایک نفسیاتی مسئلہ ہوا تھا اور اب ایک ماہرِ نفسیات نے انھیں کچھ ادویات دیں ہیں جن سے انھیں کچھ افاقہ ہوا۔

ایک دن پیوٹر گھر پہنچے تو انھوں نے اپنے سات ماہ کے بچے کو باتھ روم میں مردہ حالت میں پایا اور الیونا بعد میں انھیں ماسکو کے مضافات میں ایک جھیل کے کنارے بیٹھی ملیں۔

اپنے بچے کو ڈبونے کے بعد الیونا نے ایک واڈکا کی بوتل پی لی تھی تاکہ وہ خود بھی ڈوب جائیں لیکن وہ بے ہوش ہو گئیں۔

Illustration
Image caption ان کا یہ ماننا ہے کہ اگر کوئی الیونا کے سامنے بچہ پیدا ہونے کے بعد ہونے والے ڈپریشن کا زکر بھی کر لیتا تو وہ اس سانحے سے بچ سکتے تھے

اب ان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے۔

پریشان حال پیوٹر الیونا کے کیس کی ہر تاریخ پر جاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اپنی اہلیہ کی ہمت بندھا سکیں۔

انھیں یقین ہے کہ اگر کوئی الیونا کے سامنے بچہ پیدا ہونے کے بعد ہونے والے ڈپریشن کا ذکر بھی کر لیتا تو اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس کی نیت بری نہیں تھی بس ان کا نفسیاتی نظام اس لمحے ڈھیر ہو گیا تھا۔ اگر ان کا علاج کسی صحیح ڈاکٹر نے کیا ہوتا یا میں خود انھیں ہسپتال لے کر گیا ہوتا تو شاید یہ کبھی نہ ہوتا۔‘

روس کے ماہرِین جرائم کہتے ہیں کہ 80 فیصد خواتین اپنے بچے کو مارنے سے پہلے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں اور کم خوابی، سر درد اور حیض کی بےقاعدگی کے بارے میں شکایت کرتی ہیں۔‘

Illustration
Image caption روس کی عدالتوں میں سنہ 2018 میں 33 ایسے کیسوں کی سماعت کی گئی تھی

یہ کون ہیں؟

روس کے قانون کے مطابق یہ ایک ایسا جرم ہے جس کا نہ صرف کم جائزہ لیا جاتا ہے بلکہ اس پر بات کرنا بھی متنازع سمجھا جاتا ہے۔ اسے فیلیسائڈ کہتے ہیں یعنی ماں کا اپنے بچے کو قتل کرنا۔

اسی جرم کی دو اور اقسام بھی ہیں جن میں سے ایک کو نیونیٹیسائڈ کہتے ہیں یعنی جب ماں ایک نوزائیدہ بچے کو قتل کرتی ہے اور دوسری کو انفینٹیسائڈ کہتے ہیں یعنی جب ماں دو سال سے کم عمر بچے کو مارتی ہے۔

روس کی عدالتوں میں سنہ 2018 میں 33 ایسے مقدمات کی سماعت کی گئی تھی۔

چند ماہرین یہ مانتے ہیں کہ اس سے آٹھ گنا زیادہ معاملات ایسے ہیں جو کبھی عدالت تک نہیں پہنچتے۔

فورینزک ماہرِ نفسیات اور ماسکو میں طبِ نفسی کے ادارے سربسکی انسٹیٹیوٹ میں تحقیق کرنے والی مارگریٹا کچیوا کا کہنا ہے کہ ہمارے ہسپتال میں 20 میں سے تین یا چار ایسی خواتین ہوتی ہیں جنھوں نے اپنے بچوں کو قتل کیا ہوتا ہے۔

اکاؤنٹنٹ، استانی، بےروزگار خاتون، سماجی بہبود کی مشیر، ویٹریس، ڈیزائن سکول کی گریجویٹ، ایک بڑے گھرانے کی ماں، دکان کی اسسٹنٹ ان سمیت بی بی سی روسی نے جن 30 خواتین کا انٹرویو کیا ان تمام کی کہانیاں مختلف پائیں۔

پہلے سے متعین کیے جانے والے خیالات کے برعکس بہت سی خواتین جو اپنے بچوں کو قتل کرتی ہیں ان کے پاس خاوند، گھر، نوکری سب ہوتے ہیں اور انھیں منشیات کی لت بھی نہیں پڑی ہوتی۔

ڈاکٹر جانتے ہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد نفسیاتی بیماریوں کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔

خواتین کو یہ دیرینہ عارضہ لاحق ہو سکتا ہے اور اس کی علامات عام دنوں میں نظر نہیں آتیں۔ البتہ جب خواتین کے جسم پر شدید دباؤ پڑتا ہے تو اس کی شدت میں اضافہ تین صورتوں میں ہو سکتا ہے۔

وہ تین صورتیں ہیں حمل، بچے کے ہیدائش اور حیض کا رک جانا۔

Illustration
Image caption 'دیکھو ، مجھے لگتا ہے میں نے اپنے بچے کو قتل کر دیا۔'

’دیکھو، مجھے لگتا ہے میں نے بچے کو مار دیا‘

38 برس کی استانی اینا اور ان کے 18 اور 10 برس کے بیٹے اپنی ہونے والی بہن کی پیدائش کا اپنے والدین کے ساتھ بےصبری سے انتظار کر رہے تھے۔

لیکن سات جولائی سنہ 2018 کو اینا نے ایمبولینس کو خود فون کیا۔ وہ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی شدید تکلیف کا شکار تھیں اور اب معاملات مزید بگڑ رہے تھے۔

اینا کا خیال تھا کہ شاید وہ یہ درد برداشت کر لیں گی اور ایک ماہرِ نفسیات نے انھیں آرام کا مشورہ بھی دیا۔

جن دنوں ان کے شوہر کام کے سلسلے میں ماسکو گئے ہوئے تھے تو ایک دن وہ بیڈ خریدنے کے بہانے اپنے بچوں کو اپنی ایک دوست کے گھر چھوڑ کر اپنی والدہ کی قبر پر پہنچ گئیں۔

اگلے دن وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو لے کر ننگے پاؤں باہر نکل گئیں اور پولیس افسران کے روکنے پر ان کو بھی نہ بتا سکیں کہ وہ کہاں جا رہی ہیں۔

ان کی ساس انھیں واپس گھر لے گئیں اور اس وقت مبینہ طور پر اینا نے اپنے بچے کے منہ پر تکیہ رکھ کر اس کا سانس روکنے کی کوشش کی۔

جب سات جولائی کو ایمبولینس پہنچی تو انھوں نے ڈاکٹر کو خود بتایا کہ ’دیکھو ، مجھے لگتا ہے میں نے اپنے بچے کو قتل کر دیا۔‘

طبی عملہ بچے کو بچانے میں کامیاب ہو گیا اور اینا کو ہسپتال داخل کرا دیا گیا۔ بعد میں ان میں شدید شکٹزوفرینیا کی تشخیص ہوئی۔

ڈاکٹر کچیوا نے بتایا کہ ’آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ مکمل پاگل پن نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک خاتون جنھوں نے ایک نفسیاتی بیماری کے نتیجے میں اپنے بچے کو قتل کیا ہو وہ اس سے پہلے مکمل طور پر ٹھیک ہوں۔‘

’او میرا خدا، یہ میں نے کیا کر دیا؟ اب میں کیسے جی سکوں گی‘

21 برس کی ارینا نے اپنے بچے کے ساتھ عمارت کی نویں منزل سے چھلانگ لگائی۔

ان کے بچے کی پیدائش کے وقت ان کے شوہر فوجی ڈیوٹی پر تھے اور انھوں نے واپس آ کر ارینا کے ساتھ برا سلوک روا رکھا تھا جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن میں چلی گئی تھیں۔

وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک سال سے رہ رہی تھیں۔ خودکشی اور اولاد کشی کی کوشش سے ایک دن پہلے انھوں نے پولیس کو کال کی اور کہا کہ ان کے شوہر انھیں مارنے کے لیے چھری تیز کر رہے ہیں۔

معجزانہ طور پر ماں اور بچہ دونوں اس چھلانگ کے بعد محفوظ رہے اور ارینا کو ہسپتال کے بعد پولیس کی حراست میں رکھنا پڑا۔ ماہرین نے ان میں بھی سکٹزوفرینیا کی تشخیص کر دی۔

وہ مائیں جنھیں سکٹزوفرینیا یا پھر ڈپریشن کے عارضے لاحق ہوتے ہیں، دونوں اپنی اولاد کو قتل کرنے کا ایک ہی مقصد بتاتی ہیں۔

’یہ اس کے لیے بہتر ہے کیونکہ میں ایک بہت بری ماں ہوں‘ یا ’یہ دنیا بہت بری ہے، میرے بچے کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اس میں نہ رہے۔‘

ڈاکٹر کچیوا کہتی ہیں کہ ’جرم کے بعد انھیں سکون نہیں ملتا اور وہ پہلے، دوسرے یا تیسرے موقع پر اپنی جان لے لیتی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ایسی خواتین کو اکثر اس وقت ان کے ادارے میں لایا جاتا ہے جب ان کے گھر والوں میں سے کسی کو یہ بات سمجھ آ جاتی ہے۔

جب ان کا علاج کیا جاتا ہے تو انھیں مکمل طور پر ٹھیک ہونے میں چھ ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

امریکہ کی طرح روس میں بھی عدالتیں یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ایسی ماؤں کو کس قسم کی سزا دی جائے جو اپنے بچوں کو قتل کر دیتی ہیں۔

اگر فورینزک ماہر نفسیات ان ماؤں کو پاگل قرار نہیں دیتے تو انھیں ایک لمبا عرصہ جیلوں میں گزارنا پڑتا ہے۔

Illustration
Image caption تحقیق کے مطابق 80 فیصد خواتین جو اپنے دو سال سے کم عمر بچوں کی جان لیتی ہیں وہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں

ان میں سے بہت ساری خواتین کے ساتھ بچپن میں جنسی استحصال کے واقعات پیش آ چکے ہوتے ہیں۔

روسی فورینزک ماہرینِ نفسیات کی تحقیق کے مطابق 80 فیصد خواتین جو اپنے دو سال سے کم عمر بچوں کی جان لیتی ہیں وہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں سے 85 فیصد کو شادی شدہ زندگی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق ان اعداد و شمار کا واضح طور پر باہمی تعلق ہے۔ جھوٹ، لڑائیاں، نفرت اور شراب نوشی جیسی چیزیں ایک نوعمر لڑکی کی زندگی کا لازمی حصہ بن جاتی ہیں اور یہ سب وہ شادی کے بعد اپنے گھروں میں بھی لے جاتی ہیں۔

اپنے والدین سے خراب تعلقات بھی ایک ماں کو بچے کی طرف جارحانہ رویہ اپنانے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایسی مائیں جو اپنے بچوں کو قتل کرتی ہیں وہ ان کے لیے اپنے دل میں موجود محبت چھپا لیتی ہیں۔

کچیوا کا کہنا ہے کہ ’گھریلو تشدد کا شکار ہونا مستقبل میں اس طرح کے جرائم کی بنیاد بنتا ہے۔‘

’ان میں سے زیادہ تر خواتین کو بچپن میں جذباتی، جنسی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

Illustration
Image caption 'ان میں سے زیادہ تر خواتین کو بچپن میں جزباتی، جنسی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔'

بہت سے وکلا ایسی خواتین کا دفاع کرنے سے معذرت کر لیتے ہیں جو اپنے بچوں کو مار دیتی ہیں۔

’میں سوچتی تھی کہ ایسا میرے ساتھ نہیں ہو سکتا‘

اداکارہ مرینا کلیسچیوا ایک مختلف جرم میں جیل کاٹ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جیل کی انتظامیہ عام طور پر اس بات کو جیل میں موجود دوسرے قیدیوں سے مخفی رکھتی ہے کہ ان کے ساتھ قاتل مائیں بھی قید کاٹ رہی ہیں۔

’میں ایسی خواتین سے ملی ہوں لیکن جب تک کوئی ایسی قیدی جو ان کے علاقے سے تعلق رکھتی ہو ان کا راز افشا نہ کر دے کسی کو پتا نہیں چلتا کہ وہ کس جرم میں قید کاٹ رہی ہیں۔ ان کے جیل میں کوئی دوست نہیں ہوتے اور وہ خاموش رہتی ہیں اور اپنے کام سے کام رکھتی ہیں کیونکہ اگر وہ کسی قسم کی بحث کا حصہ بن جائیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی انھیں روند ڈالے۔‘

ماسکو میں ایک ماہرِ نفسیات یاکوو کوچیٹوو کا کہنا ہے کہ خواتین اپنی ان قاتل سوچوں کو نظر انداز کرتی ہیں اور دوسروں پر غصہ نکال کر اپنا دفاع کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ ایک خاتون کی مشکلات سمجھنے کی کوشش کریں اور ان پر ترس کھائیں اور ان سے ہمدردی کا مظاہرہ کریں تو پھر آپ کو بھی ان احساسات سے گزرنا پڑے گا جن سے وہ گزر چکی ہیں لیکن کوئی ایسا کرنے کو تیار نہیں ہے۔‘

Illustration
Image caption ’میں جھنجھلا جاتی تھی اور بچے کو سونے سے پہلے جھولا دیتے وقت اسے زور زور سے جھٹکتی تھی۔ وہ سہم جاتا تھا اور مزید رونا شروع کر دیتا تھا۔'

33 برس کی تاتیانا ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی میں کام کرتی ہیں اور کارپوریٹ کلائنٹس کے ساتھ کام کرنے کی ماہر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں اس طرح کی ماؤں کو برا سمجھتی تھی اور میں سوچتی تھی کہ ایسا میرے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ خرید و فروخت، کاروبار کے سلسلے میں سفر اور دوستوں کو دیکھ کر میرے دل میں بچے کی خواہش جاگی۔

’مجھے لگتا تھا کہ اس حوالے سے میری تیاری بہت اچھی ہے لیکن حالات اس کے برعکس ثابت ہوئے۔‘

ان کے مطابق ’بچہ پیدا کرنے کا عمل انتہائی مشکل تھا اور دائیوں کا رویہ اس عمل کی تکمیل کے دوران بہت سخت تھا۔ بعد میں میں بچہ کی پیدائش کے مناظر کی جانب لوٹ جاتی تھی اور مجھے واضح اور دردناک خواب بھی آنے لگے تھے جس کے بعد جب میری آنکھ کھلتی تھی تو میرا دل زور سے دھڑک رہا ہوتا تھا۔

’میری چھاتی سوج گئی تھی، وزن بڑھ رہا تھا، بال گر رہے تھے اور ساتھ ہی السر بھی ہو رہے تھے۔ اس سب کی وجہ سے مجھے اپنے بچے پر غصہ آتا تھا کہ جیسے اس نے میری زندگی مجھ سے چھین لی ہو۔‘

جب ان کا بچہ دانت نکلنے کے عمل کی وجہ سے رات کو سو نہیں پاتا تھا یا روتا تھا تو تاتیانا رو پڑتی تھیں اور ان کے خاوند کی یہ بات ان کے ذہن میں آتی تھی کہ ’تم ایک ماں ہو، نہیں؟ اگر باقی (مائیں) یہ کر سکتی ہیں تو تم کیوں نہیں کر سکتی؟‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’بچے کے رونے سے میرا سر پھٹنے لگتا تھا اور میرے سامنے اپنے بچپن کے تمام مسائل واپس آنے لگتے تھے۔

مجھے لگتا تھا کہ شاید مجھے اس سب سے نمٹنا ہے۔ میں جھنجھلا جاتی تھی اور بچے کو سونے سے پہلے جھولا دیتے وقت اسے زور زور سے جھٹکتی تھی۔ وہ سہم جاتا تھا اور مزید رونا شروع کر دیتا تھا۔‘

اس وقت کو یاد کر کے انھوں نے کہا کہ ’پھر میں اسے پوری قوت سے بستر پر پٹخ دیتی تھی اور زور سے چیختی تھی کہ ’اس سے بہتر ہے کہ تم مر جاؤ!‘ اور شاید کچھ اس سے بھی تلخ۔ پھر میں شرم اور گناہ کرنے کے خیال میں ڈوب جاتی تھی اور اپنی مامتا کا لطف نہیں اٹھا سکتی تھی۔‘

Illustration
Image caption 'تم ایک ماں ہو۔ کیا وجہ ہے کہ باقی سب یہ کام کر سکتے ہیں لیکن تم نہیں؟ تم نے آخر یہ بچہ پیدا ہی کیوں کیا؟'

تاتیانا کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر نے انھیں کہا کہ وہ بچے کے لیے نفسیاتی مسائل پیدا کر رہی ہیں۔

انھوں نے اپنی بیوی کی جانب سے کی جانے والی شکایات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ ’تم ایک ماں ہو۔ کیا وجہ ہے کہ باقی سب یہ کام کر سکتے ہیں لیکن تم نہیں؟ تم نے آخر یہ بچہ پیدا ہی کیوں کیا؟‘

ایک برس گزرنے کے بعد معاملات مزید ابتر ہوئے۔ ذہن میں خودکشی کی سوچیں آنے کے بعد تاتیانا ایک ماہرِ نفسیات کے پاس گئیں۔

’میں نے سوچا کہ میرے جیسی بری اور نفرت آمیز ماں کو صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دینا چاہیے اور یہ کہ میرا بچہ ایک بہتر ماں کا مستحق تھا۔

بجائے اس کے کہ میں اپنے آپ کو نفسیاتی دباؤ میں رکھتی میرے لیے اپنے آپ کو مارنا زیادہ آسان تھا۔ مجھے اس طرح کی بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔‘

اس ماہرِ نفسیات نے تاتیانا کی فوری مدد کی۔

بچاؤ کیسے مکن ہے؟

جب اپنے ہی بچوں کو مارنے کی روک تھام سے متعلق بات کی جاتی ہے تو ہم مانع حمل یعنی کانٹراسیپشن کے استعمال پر یا ایسی جگہیں بنانے پر زور دیتے ہیں جہاں نومولود بچوں کو چھوڑا جا سکے۔

لیکن روس اور مغربی ڈاکٹر بچے کی پیدائش کے بعد ماؤں میں پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہیں۔

ماہرِ نفسیات مرینا بلوبرام کا کہنا ہے کہ ’مثالی طور پر تو آپ بچے کی پیدائش سے پہلے ہر قسم کے ممکنات کا جائزہ لیں گے۔ آپ اپنی والدہ سے بات کر سکتی ہیں کہ آپ اپنے اور اپنے شوہر کے بارے میں کیا سوچتی ہیں اور اس کا آپ کے ہونے والے بچے پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

’ہنستی مسکراتی ماؤں اور ان کے فرشتوں جیسے بچوں کے پوسٹرز بنانے چاہییں لیکن ساتھ ہی اس بات کی وضاحت کرنی بھی ضروری ہے کہ دوسری صورت میں کیا ہو سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر مارگریٹا کچیوا کا کہنا ہے کہ ’ماسکو اور دوسرے خطوں میں جہاں خواتین مشکلات کا شکار ہیں وہاں ہمارے ادارے موجود ہیں۔ وہ گھریلو تشدد اور ڈپریشن سے متاثرہ خواتین کے لیے ہر وقت فعال رہتے ہیں۔

’لیکن یہ آدھے خالی ہوتے ہیں کیونکہ خواتین کو ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنے مسائل کے بارے میں ان اداروں میں جا کر بات کریں گی تو ان کے بچوں کو تحویل میں لے لیا جائے گا۔ اسی ڈر کی بنا پر وہ کسی مقامی ماہرِ نفسیات کے پاس بھی نہیں جاتیں اور اس لیے وہ اپنے شوہروں اور گھر والوں کو بتانے سے کتراتی ہیں کہ کہیں وہ انھیں چپ نہ کروا دیں۔‘

اس کہانی میں استعمال ہونے والے متاثرہ بچوں کے نام ان کے حقوق کے حفاظت کے پیشِ نظر مخفی رکھے گئے ہیں۔

اس کہانی میں استعمال ہونے والے تمام خاکے تتیانا اوسپینیکووا نے بنائے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں