’میں 16 برس کی عمر میں دردکش ادویات کی عادی ہو گئی‘

An illustration of a woman swimming through a sea of painkillers تصویر کے کاپی رائٹ Thomas Dowse

کیٹی کی عمر صرف 16 سال تھی جب انھیں پہلی مرتبہ انتہائی اثر انگیز قسم کی دردکش گولیاں تجویز کی گئیں۔ انھیں ان ادویات کا عادی بننے میں تھوڑا ہی وقت لگا۔

کیٹی، 26

یہ گذشتہ برس کی بات ہے جب ایک رات میں بستر میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ لیٹی اس کے سونے کا انتظار کر رہی تھی۔ جیسے ہی اس کی آنکھ لگی میں نے بستر کی دوسری جانب چھلانگ لگا کر اپنا بیگ اٹھایا اور اس میں موجود گولیوں کی خالی بوتلوں کو اس امید پر ٹٹولنا شروع کیا کہ شاید ایک اور دردکش ’کو۔ کوڈیمول‘ گولی مل جائے۔

شور سے اس کی آنکھ کھل گئی اوراس نے حیران ہو کر میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ’ابھی تو تم نے سونے سے پہلے کچھ گولیاں لی تھیں۔ تمھیں اور گولیاں کیوں چاہیئں؟‘

بیگ میں گولیاں ڈھونڈتے ہوئے میں نے اسے مڑ کر دیکھا اور کہا: ’مجھے درد ہو رہا ہے، تم سو جاؤ۔‘

’مجھے ڈر لگ رہا ہے کیٹی۔ ایک دن تم اتنی گولیاں لے لو گی کہ اٹھ نا پاؤ گی۔‘

اس کے ان الفاظ نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

'ادویات کا نشہ وبا کی طرح پھیل رہا ہے'

نشہ آور گولیاں خودکش بمباروں میں مقبول

’مردوں کو نشہ دیا، پھر لُوٹا، میری مجبوری تھی‘

دردکش ادویات لینے کا یہ سلسلہ تب شروع ہوا جب 16 سال کی عمر میں مجھے ایک دن ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں کو لگا شاید مجھے اپینڈکس ہے۔ میں گھر پر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب اچانک مجھے دائیں جانب شدید درد محسوس ہوا، ایسا لگا جیسے کسی نے میرے معدے میں زور سے لات ماری ہو۔

ڈاکٹر میرا اپینڈکس نکالنے کے لیے سرجری کرنے ہی والے تھے جب انھیں یہ معلوم ہوا کہ اس پُراسرار درد کی وجہ اپینڈکس نہیں، بعد میں ڈاکٹروں نے اس کی وجہ میری بیضہ دانی پر ایک گلٹی بتاتے ہوئے اسے سرجری کے ذریعے نکال لیا۔

میں غنودگی کی حالت میں ہسپتال میں پڑی تھی اور میرے پریشان والد میرے بستر سے لگے بیٹھے تھے۔ اگلے دن جب میں ہسپتال سے نکلی تو میرے ہاتھ میں ’کو۔ کوڈیمول‘ کا نسخہ تھا جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا کہ یہ درد کم کرنے میں مددگار ہوگا۔

اگلے نو سال تک میری زندگی ان گولیوں کے گرد گھومتی رہی۔

نیشنل ہیلتھ سروس برطانیہ (این ایچ ایس) کے مطابق ’کو۔ کوڈیمول‘ کی لت لگنے کا امکان ہے کیونکہ اس میں کوڈین موجود ہے۔ لیکن ایسا تبھی ممکن ہے جب آپ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اس دوا کا استعمال نا کر رہے ہوں۔ اس گولی کی تین اقسام ہیں اور مجھے جو قسم (سب سے اثر انگیز) تجویز کی گئی وہ صرف ڈاکٹر کے نسخے پر ہی مل سکتی ہے۔

آپریشن کے بعد میں نے سکون محسوس کیا۔ میں نے گلٹی نکلوا دی تھی اور سوچ رہی تھی چند دن میں درد بھی گولیوں کی مدد سے آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ یہ شدید تر ہوتا گیا۔

میرے والدین ساتھ نہیں رہتے اس لیے گھر پر صرف میں اور میرے والد ہی تھے۔ جب چند دن میں درد سے کراہتی رہی تو وہ مجھے اٹھا کر ہسپتال لے گئے۔ وہاں مجھے مزید ’کو۔ کوڈیمول‘ لینے کا مشورہ دیا گیا۔

امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک میں بڑھتے ہوئے طبی اور سماجی مسائل کے ذمہ دار ایسے ڈاکٹر ہی ہیں جو اس طرح کی سخت دردکش دواؤں کو تجویز کرتے ہیں۔

آرگنائزیشن فور اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولیپمنٹ (او ای سی ڈی) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایسی دواؤں کے اثرات سے متاثرہ ممالک میں برطانیہ بھی شامل ہے۔ تحقیق کے مطابق برطانیہ دنیا کا تیسرا ایسا ملک ہے جہاں انتہائی تیز رفتاری سے افیون جیسی سکون آور ادویات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

گزشتہ برس بی بی سی کی ایک تحقیق کے ذریعے معلوم ہوا کہ برطانیہ میں ڈاکٹروں نے سنہ 2017 کے دوران تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ سکون آور ادویات تجویز کیں۔ سنہ 2017 میں یہ تعداد 1 کروڑ تھی۔

اسی لیے منشیات کے عادی افراد کی مدد کرنے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ این ایچ ایس ’لوگوں کو نشے کی لت‘ ڈال رہا ہے۔

برطانوی اخبار دی سنڈے ٹائمز کی تحقیق کے مطابق ان ادویات کے زیادہ استعمال اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ میں سکون آور ادوایات کے استعمال سے ہونے والی اموات کی تعداد ایک دہائی میں 41 فیصد سے بڑھ کر سال میں 2000 افراد ہو گئی ہے۔ ایک دن کے حساب سے یہ اوسطاً پانچ افراد بنتی ہے۔

اگرچہ ان میں سے زیادہ اموات کی وجہ ڈاکٹروں کے تجویز کردہ نسخے کے بجائے غیر قانونی طور پر حاصل کی گئیں منشیات ہیں۔

تاہم او ای سی ڈی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درد کم کرنے کے لیے سکون آور ادویات کی کثرت سے تجویز بھی مسائل بڑھانے والے اسباب میں شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thomas Dowse

میرے لیے یہ اینڈومیٹروسس کے ساتھ میری جدوجہد کا آغاز تھا، ایک ایسی بیماری جس میں بچے دانی کے اندر پیدا ہونے والے ٹشو کہیں اور جیسے کے آپ کی بیضہ دانی میں بننا شروع ہو جاتے ہیں۔

چھ سال اور ہسپتالوں کے بے شمار چکروں کے بعد میری اس بیماری کی تشخیص ہوئی۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں کیونکہ برطانیہ میں دوسری سب سے بڑی نسوانی بیماری ہونے کے باوجود اس کی تشخیص انتہائی مشکل ہے۔

شروع میں، میں نے ’کو۔ کوڈیمول‘ کی تجویز کردہ مقدار ہی لی۔ لیکن کچھ عرصے بعد ہی مجھے لگنے لگا میں ان گولیوں کی عادی ہوتی جا رہی ہوں۔ میں جلدی جلدی یکے بعد دیگرے گولیاں کھانے لگی اور ہر بار ڈاکٹر کے پاس جانے پر انھیں مزید گولیاں تجویز کرنے کو کہتی۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ ان گولیوں کو کھا کر مجھے کیسا محسوس ہوتا۔ وہ درد کو تو کم کر دیتیں لیکن بات صرف یہیں تک نہیں تھی۔ میں جب ان گولیوں کے زیرِ اثر ہوتی تو میرا دماغ دھندلایا رہتا۔ جس سے میری یہ نا جاننے کی گھبراہٹ بھی کم ہو جاتی کہ میرے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔

آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ کس قدر خطرناک صورتحال تھی جس میں، میں نے خود کو ڈالے رکھا۔ ہسپتال کے پہلے دورے کے موقع پر ڈاکٹر ٹیسٹوں اور سرجریوں سے میرے درد کا سبب جاننے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہر بار سرجری کے بعد مجھے گولیوں سے بھری بوتل کے ساتھ گھر بھیجا جاتا۔

بعد میں، میں ہمیشہ ہسپتال والوں کو کال کر کے درد کا بتاتی اور ان سے مزید گولیاں مانگتی۔

جلد ہی مجھے ایسا لگنے لگا میں گولیوں کے بغیر نہیں چل سکتی۔ ہر صبح میں اپنے سکول والے بستے میں ’کو۔ کوڈیمول‘ کے پیکٹ ٹھونستی تاکہ مجھے اطمینان رہے کہ میرے پاس ضرورت پڑنے پر کافی مقدار ہوگی۔

مجھے یاد ہے ایک رات جب ہم چائے پینے بیٹھے تو میرے والد نے مجھ سے پوچھا کہ تمھیں اتنی گولیوں کی ضرورت کیوں ہے۔ میں نے انھیں ٹال دیا تھا کہ لیکن وہ پریشان دکھ رہے تھے۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھوں تو لگتا ہے کہ اُس وقت میں نے گولیوں کا سہارا اس لیے لیا کیونکہ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں اپنی زندگی میں دوسری چیزوں پر کنٹرول کھو رہی ہوں۔

درد کی وجہ سے میں سارا دن نا کلاس میں بیٹھ سکتی تھی نا کسی لیکچر پر توجہ دے سکتی تھی۔ اسی لیے میں اے لیولز بھی نہیں کر پائی۔ مجھے کپڑوں کی ایک دکان میں جزوقتی ملازمت ملی لیکن مسلسل بیمار رہنے کے باعث میں وہاں بھی نہیں جاسکتی تھی۔ مجھے ابھی تک نہیں معلوم کہ میرے ساتھ مسئلہ کیا تھا۔ اور اس سب کے ساتھ میرے والد بھی بیمار پڑ گئے۔

کچھ ہفتوں سے وہ ٹانگوں میں درد اور تھکاوٹ کی شکایت کر رہے تھے لیکن ہم دونوں یہی سمجھے کہ اس کی وجہ ذہنی تناؤ ہے۔ جب وہ اپنے ڈاکٹر کو دکھانے گئے تو انھیں ہسپتال میں ٹیسٹ کروانے کو کہا گیا۔

نومبر 2011 میں میری عمر 19 سال تھی، جب ایک دن ہسپتال سے فون آیا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ میں کام پر تھی اور سٹور روم سے کپڑے نکال کر لٹکا رہی تھی جب میرا موبائل بجا۔ یہ میرے والد تھے۔ وہ کہنے لگے ’کیٹی۔۔۔ میری پاس ایک بُری خبر ہے۔ مجھے پروسٹیٹ کینسر تشخیص ہوا ہے۔‘

میرے ہاتھ سے کپڑے گر گئے اور میں گھر کی طرف بھاگی۔ جب میں روتی، کانپتی گھر میں داخل ہوئی تو اس وقت تک میرے والد ہسپتال سے گھر واپس نہیں پہنچے تھے۔ اس وقت وہاں اکیلے کھڑے میرے دماغ میں صرف ایک ہی چیز آئی۔ میں نے ’کو۔ کوڈیمول‘ کی دو گولیاں کھا لیں۔

میں نے والد کا خیال رکھنا شروع کر دیا۔ میں کھانے پینے کی اشیا کی خرید و فروخت سے لے کر گھر تک سب صاف رکھتی۔ ایسے میں خود کو چند لمحے سکون پہنچانے کے لیے میرے پاس صرف وہ گولیاں ہی ہوتیں۔

ڈاکٹروں نے ان کے کینسر کی جلدی تشخیص کر دی تھی لیکن اس کے باوجود صورتحال بدتر ہو گئی۔ تشخیص کے 11 مہینے بعد ایک دن اچانک ہسپتال میں وہ فوت ہو گئے۔ ان کی موت کے بعد والے دن دھندلے سے تھے۔ خاندان والے جمع ہوئے، لوگ کھانا لے کر آئے لیکن زیادہ تر وقت میں بستر میں بے حس و حرکت پڑی رہتی۔

مجھے لگتا تھا صرف ایک ہی چیز ہے جو ان حالات سے نمٹنے میں میری مدد کر سکتی ہے اور وہ تھی ’کو۔ کوڈیمول‘ کی مقدار بڑھانا۔ یہ آہستہ آہستہ شروع ہوا۔ میں نے ایک دو زائد گولیاں کھائیں۔ پھر تھوڑی اور کھائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thomas Dowse

مجھے معلوم تھا میں غلط کر رہی ہوں اور یہ کہ گولیوں کی مقدار زیادہ ہے لیکن مجھے پروا نہیں تھی۔ میں بس کچھ محسوس کیے بنا رہنا چاہتی تھی۔ میں اسے اپنا ’کو۔ کوڈیمول بادل‘ کہتی۔ جو مجھے اڑاتا ہوا درد اور تکلیف سے دور لے جاتا۔ یہ احساس زیادہ عرصہ قائم نہ رہتا اور گولیاں لیتے ہی والد کو کھونے کا درد بھی واپس آ جاتا۔

اس دوا کے مضر اثرات میں سب سے عام قبض، بیمار بیمار لگنا اور ہر وقت نیند کے خمار میں رہنا شامل ہیں۔ یہ سب اثرات نہایت خوفناک تھے۔ اکثر اوقات مجھے کام سے چھٹی لے کر گھر بھاگنا پڑتا۔ مجھے ہر وقت قبض رہتی اور میں خالی خالی محسوس کرتی۔

جب میں 21 سال کی ہوئی تو ایک رات میری دوست نے ایک مقامی شراب خانے میں مجھے گرلز نائیٹ پر بلایا۔ جب ہم تیار ہو کر اس کے کمرے میں جمع ہوئیں تو اس نے رات کو استعمال ہونے والی اشیا کی چیک لسٹ گنی۔۔ شناختی کارڈ؟ ہاں ہے۔ پیسے؟ ہاں وہ بھی ہیں۔ فون؟ فون بھی ہے۔

لیکن میری چیک لسٹ اس سے مختلف تھی۔ ’کو۔ کوڈیمول‘؟ رکھا ہے۔ ایک اور پیکٹ؟ وہ بھی ہے۔

میں نے رازداری برتنی سیکھ لی تھی اس لیے میری دوستوں کو شک نہیں ہوا۔ میں نے شراب خانے کے ٹوائلٹ میں جا کر گولیاں نگل لیں یا جب میری دوستیں شراب لینے گئیں۔

شراب کے ساتھ گولیاں کھانے سے میرا خمار بڑھ گیا۔ مجھے لگا میں تیر رہی ہوں۔ بعض اوقات ایک ساتھ دو گولیاں کھانے سے میری طبیعت خراب ہو جاتی اور شراب خانے کے باہر الٹی کر دیتی۔ میری دوستوں کو لگتا میں نے زیادہ پی لی ہے لیکن صرف میں ہی سچ جانتی تھی۔

سنہ 2014 میں جب مجھے اینڈومیٹروسس اور پولیسٹک اووری سینڈروم (پی سی او ایس) تشخیص ہوا۔ اس وقت میری عمر 22 سال تھی۔ مجھے مزید سرجری کروانی پڑی جس میں ڈاکٹر کو معلوم ہوا کہ میری دائیں بیضہ دانی کولہے کی جانب سرک گئی تھی۔ آپریشن سے میرا درد کم ہو گیا اور مجھے پہلے کی طرح محسوس ہونے لگا۔

میں نے ’کو۔ کوڈیمول‘ کی مقدار کم کر کے ڈاکٹر کی تجویز کردہ مقدار ہی لینی شروع کر دی۔ لیکن یہ زیادہ عرصہ نہیں چلا۔ ان گولیوں کا شکنجہ مجھ پر بہت سخت تھا۔

والد کو کھونے کا درد ابھی بھی میرے ساتھ تھا۔ میں تناؤ کا شکار تھی اور شاید اسی لیے جلد ہی ایک ایسے رشتے میں پڑ گئی جس نے میری ذات پر بہت برا اثر چھوڑا۔ مجھے پھر گولیوں کا سہارا لینا پڑا۔ مجھے ایسا لگتا تھا جیسے یہ گولیاں میرے ہر طرح کے جسمانی و ذہنی درد اور ہر تکلیف سے نجات کا ذریعہ ہیں۔

اس مرتبہ میں نے تیزی سے گولیوں کی مقدار بڑھانی شروع کر دی اور چند ہفتوں میں تجویز کردہ مقدار سے ڈھائی گنا زیادہ گولیاں صرف ایک دن میں ہی لینے لگی۔ گولیاں جیسے ہر وقت میرے ساتھ تھیں۔ پھر جب میرا رشتہ ٹوٹا تو میں اور زیادہ ان کے زیرِ اثر آگئی۔

سنہ 2017 میں جب میں اپنے نئے بوائے فرینڈ سے ملی تو میری حالت کچھ بہتر ہونی شروع ہوئی۔ تب میں 24 سال کی تھی۔ ہم ایک پارٹی میں ملے اور بات چیت کرنے لگے۔ پھر جلد ہی ہم نے ملنا شروع کر دیا۔ بالآخر میری زندگی میں کچھ بہتر ہو رہا تھا۔

میں نے ابتدا میں ہی اپنے بوائے فرینڈ کو بتا دیا کہ مجھے اینڈومیٹروسس کے لیے گولیوں کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی میں نے اسے یہ بھی یقین دلانے کی کوشش کی کہ جو مقدار میں لے رہی ہوں وہ نارمل ہے۔

لیکن جب ہم نے ساتھ رہنا شروع کیا تو میں نے خود کو اس سے گولیاں چھپاتے دیکھا۔ جو کچھ میں محسوس کر رہی تھی، میں نے کبھی کسی ڈاکٹر سے اس کے بارے میں بات کرنے کی کوشش نہیں کی۔

سنہ 2017 میں میری حالت بہت خراب ہو گئی۔ تب میں نے ڈاکٹروں کی تجویز کردہ مقدار سے تین گنا زیادہ گولیاں لینی شروع کر دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thomas Dowse

آج مڑ کر پیچھے دیکھوں تو میرا بہت برا حال تھا۔ اُس رات جب میرے بوائے فرینڈ نے مجھے گولیاں ڈھونڈتے پکڑا، تب مجھے احساس ہوا کہ وہ مجھے ایک نشئی کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ اور یہی حقیقت تھی۔ میں گولیاں چھپانے کے معاملے میں اتنی پختہ ہو گئی تھی کہ مجھے اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ دیکھ رہا ہوگا۔

بس بہت ہو گیا تھا۔ اگلے ہی دن میں نے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اپنے ڈاکٹر کو فون کیا جنھوں نے مجھے’فرینک‘ (نیشنل ڈرگ ایجوکیشن اینڈ انفارمیشن سروس) جانے کا مشورہ دیا۔ وہاں سے مجھے ایک ایسے مرکز بھیجا گیا جو میرے جیسے بیمار نشے کا شکار افراد کی کونسلنگ اور رہنمائی کرتے ہیں۔

میں نے وہاں عملے کے ایک مددگار شخص سے ملنا شروع کیا۔ وہ میری گولیوں کی لت کے بارے میں بری رائے نہیں رکھتے تھے۔ بات چیت کے دوران انھوں نے میرے والد کی موت، پچھلے رشتوں اور ان سب پر میرے ردِعمل پر بات کی کہ کس طرح یہ سب عوامل مجھے گولیوں کا عادی بنانے کا سبب بنے۔

ان کی مدد سے میں نے خود کو ایک ڈیڈ لائن دینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت نومبر 2018 تھا اور میں پُر عزم تھی کہ جنوری 2019 تک میں نے خود کو اس لت سے چھٹکارا دلانا ہے۔

پہلے تو میں بہت خوفزدہ تھی۔ کام پر اکثر میں اپنے ہاتھ میں موجود سفید گولی کو گھورتی رہتی۔ اس سے نفرت کا اظہار کرتی۔ اپنے آپ سے نفرت کرتی۔ کہیں نہ کہیں یہ بات میرے دل میں تھی کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب میں درد برداشت نہیں کر پاؤں گی اور بالآخر گولی لے ہی لوں گی۔

یہ بہت برا وقت تھا۔ میں ہر وقت بیمار بیمار، تھکی ہوئی اور چڑچڑا محسوس کرتی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر میں دوسروں کو کاٹ کھانے کو دوڑتی۔ کئی دن ایسے بھی ہوتے جب میں سارا سارا دن بستر سے باہر ہی نہ نکل پاتی اور جب جب درد ہوتا تو مجھے ایک جدوجہد کر کے خود کو گولی لینے سے روکنا پڑتا۔

بالآخر میں کامیاب ہو گئی۔ سال کے آخر میں، میں اس لت سے پاک ہو گئی۔ میں اپنے بوائے فرینڈ کے بارے میں سوچتی اور کم سے کم گولیاں کھاتی۔ اس طرح بالآخر میں ان کی مقدار صفر تک لا سکی۔

جب میں نے رائل کالج کے ڈاکٹروں سے یہ پوچھا کہ علاج کے لیے یہ گولیاں کیوں تجویز کی جاتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹر انتہائی ماہر ہیں اور وہ اپنے سامنے بیٹھے ہوئے مریض کی صحت پر اثر انداز ہونے والے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی عوامل پر غور کرنے کے بعد ہی یہ گولیاں تجویز کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دائمی قسم کے دردوں کا علاج آسان نہیں ہوتا لیکن لت پڑ جانے کے خطرے کے باوجود بعض اوقات صرف ایسی نشہ آور ادویات ہی مریض کو آرام پہنچا سکتی ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر مریضوں کو طویل عرصے تک دواؤں پر نہیں رکھنا چاہتے اسی لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ قلیل مدت کے لیے ان گولیوں کی کم سے کم مقدار تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ مریض کو لگاتار معائنے کے لیے بلایا جائے۔ اور جہاں ہو سکے وہاں کوئی اور ممکنہ علاج تجویز کیا جا سکے۔

میں ڈاکٹروں کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتی۔ مجھے معلوم ہے وہ انتہائی دباؤ کے زیرِ اثر، کم سے کم وقت اور وسائل میں جتنا بہتر کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں۔ اور جیسا کہ رائل کالج کے ڈاکٹروں نے بتایا ’جب کسی انسان کو کسی چیز کی لت لگا جائے تو وہ اسے حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاتا ہے۔‘

یقیناً میں نے ایسا ہی کیا۔

لیکن میرا خیال ہے کہ لوگوں کو، ان کی زندگیوں پر اس طرح کی نشہ آور گولیوں کے خطرناک اثرات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لیے اور زیادہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے ارادی طور پر ان گولیوں کی لت نہیں لگی۔ یہ سب آہستہ آہستہ ہوا اور پھر صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thomas Dowse

آخری بار گولی کھائے ہوئے مجھے پورے 200 دن ہو گئے ہیں۔ ہر روز میں خود کو اپنی جدوجہد یاد کرواتی ہوں۔ دس سالوں میں پہلی بار میں صحت مند اور واقعی زندہ محسوس کر رہی ہوں۔

آنے والی گرمیوں میں، میں اور میرا بوائے فرینڈ شادی کرنے جا رہے ہیں۔ جب میں گولیوں کے زیرِ اثر تھی اُس وقت میں ایک چلتی پھرتی زندہ لاش کی طرح تھی۔ آج میں بہت خوش ہوں کہ میں نے اپنی اس حالت سے جان چھڑوا لی۔

اب کبھی کبھار مجھے بستر یا صوفے کے نیچے پھنسا ہوا کوئی خالی پیکٹ مل جاتا ہے۔ میں چند لمحے اسے دیکھتی ہوں اور اس وقت کے بارے میں سوچتی ہوں جب میں ان گولیوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی تھی۔

اور پھر میں یہ پیکٹ اٹھا کر دور پھینک دیتی ہوں۔

اسی بارے میں