پانچ سالہ افغان بچی کے ڈھائی کلو وزنی ٹیومر کا پاکستان میں کامیاب آپریشن

افغان تصویر کے کاپی رائٹ Dr Khalid Khan Zardan
Image caption پانچ سالہ افغان بچی کے ڈھائی کلو وزنی ٹیومر کو نکالنے کا 10 گھنٹے طویل، نازک اور پیچیدہ آپریشن کامیابی کے ساتھ ایبٹ آباد کے ایک ہسپتال میں ہوا ہے

پاکستان اور افغانستان میں اس وقت پاکستانی نیورو سرجن پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز، ان کے زیرِ تربیت افغان سرجن ڈاکٹر خالد خان زردان اور ان کے ساتھیوں کی پذیرائی ہو رہی ہے جنھوں نے ایک پانچ سالہ افغان بچی کے ڈھائی کلو وزنی ٹیومر کا 10 گھنٹے طویل، نازک اور پیچیدہ آپریشن کامیابی کے ساتھ کیا ہے۔

بچی اب صحت مند ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

پانچ سالہ حبیبہ، جن کا تعلق ترکمانستان کی سرحد کے قریب واقع افغان شمالی صوبے جوزجان سے ہے، ڈھائی کلو وزنی ٹیومر کا شکار تھیں جس نے سانس کی نالی اور دماغ کی شریان کو دبایا ہوا تھا اور زبان تک پھیل چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

صفا اور مروہ کی علیحدگی کا کامیاب سفر

ایک ماہ کے بچے کے سات دانتوں کا کامیاب آپریشن

صحت مند اور طفیلی جڑواں کے جسم الگ، آپریشن کامیاب

دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کے ہسپتالوں نے بچی کے آپریشن سے معذرت کر لی تھی جبکہ والدین افغانستان میں ابتدائی اور روز مرہ کا مناسب علاج کروانے کی بھی سکت نہیں رکھتے تھے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ایبٹ آباد کے ایک نجی ہسپتال میں حیبیہ کا آپریشن کرنے والے ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے پروفیسر اور گولڈ میڈلسٹ نیورو سرجن ڈاکٹر عبدالعزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس دو افغان ڈاکٹر زیرِ تربیت ہیں جن میں سے ایک ڈاکٹر خالد خان زردان تقریباً کنسلٹنٹ بن چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Dr Khalid Khan Zardan
Image caption ڈھائی کلو وزنی ٹیومر حبیبہ کی سانس کی نالی اور دماغ کی شریان کو متاثر کرنے کے بعد زبان تک پھیل چکا تھا

’ڈاکٹر خالد نے مجھ سے حبیبہ کا ذکر بڑے درد مندانہ انداز میں کیا اور کہا کہ وہ اور کچھ اور لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ کچھ فنڈز اکٹھے ہو جائیں تاکہ بچی کا علاج ممکن ہو سکے۔ انھوں نے مجھے کچھ رپورٹس وغیرہ بھی دکھائیں جس پر میں نے علاج کرنے اور تمام سہولتیں فراہم کرنے کی حامی بھر لی۔’

حبیبہ ایبٹ آباد تک کیسے پہنچیں؟

ڈاکٹر خالد خان زردان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پاکستان میں رہائشی ویزے پر مقیم ہیں، مانسہرہ میں پلے بڑھے ہیں اور یہیں تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میری معلومات کے مطابق چند دنوں بعد میں افغانستان کا پہلا نیورو سرجن بن جاؤں گا اور اگر موقع ملا تو افغانستان جا کر ضرور اپنے لوگوں کی خدمت کرنے کی کوشش کروں گا۔'

ڈاکٹر خالد خان زردان کے مطابق افغانستان اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کچھ افغان ڈاکٹرز کا ایک واٹس ایپ گروپ ہے جس پر ڈاکٹرز نے اس کیس کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کیا۔ اس کے علاوہ امریکہ میں مقیم کچھ دوست اس بچی کے لیے مہم چلا رہے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ دو سال قبل بھی اسی طرح کی مہم کے نتیجے میں کراچی میں ایک افغان بچے کا کامیاب آپریشن ہوا تھا جس کی آنکھ میں ٹیومر تھا۔

’ہمیں پتا چلا کہ افغانستان میں کچھ نوجوان حبیبہ کے علاج کے لیے مہم چلا رہے ہیں مگر ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مختلف ممالک میں علاج بہت زیادہ مہنگا تھا جبکہ کچھ نے تو بچی کی نازک صورتحال دیکھتے ہوئے انکار ہی کر دیا تھا۔’

Image caption ڈاکٹر خالد خان زردان پاکستان میں رہائشی ویزے پر مقیم ہیں

ان کا کہنا تھا کہ اس ساری صورتحال پر ڈاکٹر عبدالعزیز سے بات کی اور بچی کے ٹیسٹ منگوائے تو ابتدائی طور پر پتا چلا کہ ٹیومر تو بہت زیادہ بڑھ چکا ہے مگر یہ کینسر زدہ نہیں ہے جس پر انھوں نے افغانستان میں بچی کی مدد کرنے والوں اور امریکہ میں موجود اپنے دوستوں سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ 'ہم لوگ تیار ہیں بچی کو ایبٹ آباد بھجوا دیا جائے۔'

ان کے مطابق افغانستان میں موجود مہم چلانے والے نوجوانوں نے بچی کے لیے فنڈز اکٹھے کیے اور اس کے والد اور بچی کا ویزہ لگوا کر انھیں پاکستان بھجوا دیا گیا۔ یہاں پر انھوں نے آپریشن کروایا اور کوئی 15 دن تک قیام کرنے کے بعد واپس افغانستان چلے گئے۔

پانچ اگست کو وہ دوبارہ واپس آئیں گے اور اس دوران ان کے ٹیومر کی جانچ کے نتائج بھی آ جائیں گے۔

اگر ان کا یہ آپریشن دنیا کے کسی اور ملک میں ہوتا تو اس پر اخراجات لاکھوں میں آتے مگر پاکستان آنے جانے کے سفری اخراجات، رہائش، کھانا پینا سب کچھ ملا کر ان کا ڈیڑھ لاکھ روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا ہے جبکہ یہاں پر ان کا تمام علاج معالجہ مفت کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالعزیز کے مطابق جب بچی ایبٹ آباد میں ان کے پاس پہنچی تو عملی طور پر صورتحال تو یہ تھی کہ بچی کا ٹیومر آپریشن کی حد سے نکل چکا تھا۔

'میں نے کچھ ساتھیوں سے مشورہ کیا تو مجھے کہا گیا کہ ڈاکٹر صاحب چھوڑیں، اس کو سکون کے ساتھ مرنے دیں، آپریشن کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ میں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں وقت، صلاحیت، دماغ اور سہولتیں دی ہیں تو مریض کو کیوں اس طرح مرنے دوں؟’

وہ بتاتے ہیں کہ سنگاپور میں انھوں نے ایک کانفرنس میں شرکت کی تھی جہاں ایک سرجن نے کہا تھا کہ مہربان ہونے کے لیے ظالم ہونا پڑتا ہے۔ ’یہ بات کئی سال پرانی ہے اور میرے دل و دماغ میں بیٹھ چکی تھی اور ہم سرجن ہیں ہمارا تو مشن ہی زندگیاں بچانا ہے اور اگر ہم رحم کھانے بیٹھ جائیں تو پھر آپریشن کر کے زندگیاں کون بچائے گا؟’

تصویر کے کاپی رائٹ Dr Khalid Khan Zardan
Image caption حبیبہ کامیاب آپریشن کے بعد واپس جاتے ہوئے

ان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے تک مشوروں، ٹیسٹس اور رپورٹس کا سلسلہ چلتا رہا، جس کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور سے انھوں نے اپنے ساتھی اور صوبے کے واحد پلاسٹک سرجن ڈاکٹر فردوس کو بلایا کیوںکہ ٹیومر ہٹانے کے بعد پلاسٹک سرجری کی ضرورت تھی۔

'آپریشن شروع کیا تو 10 گھنٹے تک چلتا رہا، یہ میری زندگی کا اب تک کا طویل ترین آپریشن تھا۔ اس دوران مریضہ دو سے تین مرتبہ نازک صورتحال سے بھی دوچار ہوئی۔ اتنے طویل آپریشن کے دوران ہم سب لوگ تھک بھی گئے تھے اور مریض کو 16 یونٹ خون بھی دیا گیا۔ ٹیومر نکال کر اس کی صفائی کر دی گئی۔ اس کے دماغ کی شریان، سانس کی نالی اور زبان کو بھی بچایا۔ جس کے بعد اس کی پلاسٹک سرجری بھی کی گئی۔’

ایسا لگا جیسے دنیا مل گئی ہو

ڈاکٹر عبدالعزیز نے کہا: 'آپریشن کے بعد جب حبیبہ والدین کے ہمراہ تھیں تو اس موقع پر وہ عام انداز میں کھانا کھاتی تھیں، اپنے والدین کے ساتھ بات کرتی، ہنستی، کھلیتی اور مسکراتی تھیں۔ بچی کو اس طرح خوش دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ بیان نہیں کر سکتا۔‘

'مجھے پوری امید ہے کہ وہ ایک نارمل اور بھرپور زندگی گزاریں گی اور ان کو دنیا بھر کی خوشیاں ملیں گی۔'

ڈاکٹر خالد خان زردان کا کہنا تھا کہ 'آپریشن کے دوران ہی ہمیں سمجھ آ گئی تھی کہ آپریشن کامیاب ہو گا اور اگر بعد میں کسی علاج کی ضرورت پڑی تو وہ بھی ہم کروا لیں گے مگر ہم سب کو تھوڑا شک تھا کہ زبان کے نیچے موجود ٹیومر بولنے وغیرہ میں ہمیشہ کے لیے کوئی دقت نہ پیدا کر دے مگر جب حبیبہ نے آپریشن کے بعد نارمل انداز میں بات چیت کی تو ایسے لگا کہ جیسے ہم نے دنیا فتح کر لی ہو۔’

تصویر کے کاپی رائٹ Dr Khalid Khan Zardan
Image caption ڈاکٹرز حبیبہ کے آپریشن میں مصروف ہیں

'حبیبہ جب اپنے والدین کے ہمراہ واپس جا رہی تھی تو اس کی خوشی دیدنی تھی۔ جب اس نے مجھے مسکرا کر دیکھا تو مجھے ایسے لگا کہ شاید میں نے اس سے پہلے اپنی زندگی میں اس سے بڑا کام کوئی اور نہیں کیا ہے۔'

حبیبہ کے والد تاج محمد نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'جب میں حبیبہ کو بغیر ٹیومر کے دیکھتا ہوں تو مجھے یقین نہیں آتا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مجھے دنیا مل گئی ہو۔‘

'میں جب علاج کے لیے پاکستان جا رہا تھا تو خوف، خطرات اور تشویش کا شکار تھا اور ہر طرح کے حالات کے لیے ذہن بنا کر گیا تھا۔ مگر پاکستان رہنے کے دوران مجھے کچھ پتا نہیں چلا کہ کیسے حبیبہ کا علاج ہوا اور وہ صحیح سلامت ہو گئی۔'

اسی بارے میں