انڈیا کا چندریان 2 چاند کے سفر پر روانہ ہو گیا

راکٹ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption راکٹ کا وزن ایک بھرے پورے جمبو جیٹ کا ڈیڑھ گنا ہے

انڈیا نے چاند پر اپنے دوسرے مشن ’چندریان ٹو‘ کو کامیابی سے روانہ کردیا ہے۔ یہ خلائی جہاز گذشتہ ہفتے تکنیکی خرابی کے سبب روانہ نہیں کیا جا سکا تھا۔

انڈیا کے خلائی ادارے اسرو کے مطابق ’چندریان ٹو‘ کو پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر 43 منٹ پر خلا میں بھیجا گیا ہے۔

’چندریان ٹو‘ کو خلا میں روانہ کرنے کے مناظر ٹیلی وژن اور خلائی ادارے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر براہ راست دکھائے گئے۔

اسرو کے سربراہ ڈاکٹر سیوان نے یہ خلائی مشن جاری کرنے کے بعد اپنی تقریر میں کہا ’یہ چاند کی جانب انڈیا کے تاریخی سفر کی ابتدا ہے۔‘

اسرو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چاند کے لیے روانہ کی جانے والی ’پہلے سے کہیں مضبوط خلائی گاڑی پر سوار ایک ارب خواب چاند پر پہنچیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

چندریان 2 چاند پر کیسے پہنچے گا؟

انڈین خلائی مشن تکنیکی پیچیدگی کے باعث التوا کا شکار

انڈیا کا مشن چاند: چندرایان-2 کی رونمائی

کیا انڈیا انسانوں کو خلا میں بھیج سکتا ہے؟

اسرو نے امید ظاہر کی ہے کہ 15 کروڑ ڈالر کے خرچ والا یہ مشن پہلا ایسا مشن ہے جو چاند کے جنوبی قطب پر اترے گا۔

اس سے قبل 15 جولائی کو چاند کے لیے روانہ ہونے والا مشن مقررہ وقت سے 56 منٹ قبل ’لانچ وہیکل سسٹم میں تکنیکی خرابی‘ کے سبب روک دیا گیا تھا۔

انڈین میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ کرایوجینک انجن میں گیس کے بوتل سے ہیلیئم گیس کا خارج ہونا اس کا سبب تھا۔

اسرو نے تاخير کے باوجود مشن کی حمایت کے لیے لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

یہ مشن آخر کس لیے ہے؟

انڈیا کا پہلا مشن ’چندریان ون‘ سنہ 2008 میں چاند کی سطح پر اترنے میں ناکام رہا تھا لیکن اس نے ریڈار کی مدد سے چاند پر پانی کی موجودگی کی پہلی اور سب سے تفصیلی دریافت کی تھی۔

’چندریان ٹو‘ چاند کے جنوبی قطب پر آہستہ سے اترنے کی کوشش کرے گا۔ خیال رہے کہ چاند کے اس حصے کو ابھی تک نہیں کھوجا جا سکا ہے۔

اس مشن کے تحت چاند کی سطح پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور دوسری چیزوں کے ساتھ وہاں پانی اور معدنیات کی تلاش کی جائے گی جبکہ چاند پر آنے والے زلزلے کے بارے میں بھی تحقیق کی جائے گی۔

انڈیا اس مشن کے لیے اپنا سب سے مضبوط راکٹ جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل (جی ایس ایل وی) مارک تھری استعمال کر رہا ہے۔ اس کا وزن 640 ٹن ہے (جو کہ کسی بھرے ہوئے جمبو جیٹ 747 کا ڈیڑھ گنا ہے) اور اس کی لمبائی 44 میٹر ہے جو کہ کسی 14 منزلہ عمارت کے برابر ہے۔

اس سیٹلائٹ سے منسلک خلائی گاڑی کا وزن 379۔2 کلو ہے اور اس کے تین واضح مختلف حصے ہیں جن میں مدار پر گھومنے والا حصہ 'آربیٹر'، چاند کی سطح پر اترنے والا حصہ 'لینڈر' اور سطح پر گھومنے والا حصہ 'روور' شامل ہے۔

مدار میں گردش کرنے والے حصے کی زندگی ایک سال کی ہے جو چاند کی سطح کی تصاویر لے گا اس کے ساتھ وہ وہاں کی مہین ماحول کو سونگھنے کی کوشش بھی کرے گا۔

سطح چاند پر اترنے والے حصے کا نام اسرو کے بانی کے نام پر 'وکرم' رکھا گیا ہے۔ اس کا وزن نصف ہے اور اس کے بطن میں 27 کلو کی چاند پر چلنے والی گاڑی ہوگی جس پر ایسے آلات نصب ہوں گے جو چاند کی سرزمین کی جانچ کر سکے۔ اس کی زندگی 14 دن کی ہے اور اس کا نام ’پراگیان‘ ہے جس کا مطلب دانشمندی ہے۔ یہ لینڈر سے نصف کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتا ہے جہاں سے وہ زمین پر تصاویر اور اعدادوشمار تجزیے کے لیے روانہ کرے گا۔

اسرو کے سربراہ ڈاکٹر کے سیوان نے پہلی بار لانچ کرنے کی کوشش سے قبل کہا تھا ’جب روور اپنا کام کرنے لگے گا تو انڈیا چاند سے اپنی پہلی سیلفی کی امید کر سکتا ہے۔‘

زمین سے چاند کا سفر کتنا طویل ہے؟

پیر کو شروع ہونے والا مشن چاند کے لیے 384 ہزار کلومیٹر کے سفر کی محض ابتدا ہے اور اسرو کو امید ہے کہ لینڈر چاند کی سرزمین پر چھ یا سات ستمبر کو اترے گا۔

خلائی ایجنسی نے زمین کی قوت ثقل کا فائدہ اٹھانے کے لیے دائرے والے راستے کا انتخاب کیا ہے جو کہ سیٹلائٹ کو چاند کی طرف بھیجنے میں معاون ہوگا۔ انڈیا کے پاس اتنا قوی راکٹ نہیں جو چندریان ٹو کو سیدھا چاند کی طرف بھیج سکے۔

ڈاکٹر سیوان نے کہا ہے ’جب لینڈر کو چاند کے جنوبی قطب کی طرف پھینکا جائے گا تو سائنسدانوں کے لیے وہ 15 منٹ تک کا وقفہ خوف والا ہوگا۔‘

انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس وقت تک خلائی گاڑی کو کنٹرول کر رہے ہوں گے اس کے بعد سے اس وقفے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حقیقی لینڈنگ خودکار ہوگی بشرطیہ کہ تمام چیزیں حسب توقع کام کر رہی ہوں۔ بصورت دیگر لینڈر چاند کی سطح پر گر کر تباہ ہو جائے گا۔

رواں سال کے آغاز میں اسرائیل کا چاند پر روانہ کیا جانے والا مشن سطح پر اترنے کی کوشش میں ٹکرا کر تباہ ہو گيا تھا۔

ٹیم میں کون شامل ہیں؟

اس مشن کے لیے تقریبا ایک ہزار انجینیئرز اور سائنسدانوں نے کام کیا ہے۔ لیکن پہلی بار اسرو نے کسی خاتون کو اس مہم کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

دو خواتین انڈیا کے اس چاند کے سفر کی قیادت کر رہی ہیں۔ پروگرام کی ڈائریکٹر متھایا ونیتھا نے چندریان ٹو کی نگرانی کی ہے جبکہ ریتو کریدھال اس کی رہنمائی کریں گی۔

اسی بارے میں