ایمانداری جانچنے کا تجربہ: کیا عورتیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ ایماندار ہیں؟

بیس ڈالر کا کرنسی نوٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چالیس ملکوں کے 355 شہروں میں 17 ہزار بٹوے گرائے گئے

چند سال پہلے انڈیا کے آٹھ شہروں میں ریسرچ اسسٹینٹس کو عوامی مقامات پر، جن میں بینک، تھیٹر، ہوٹل، پولیس سٹیشن، پوسٹ آفس اور عدالتیں شامل تھیں، 400 بٹوے 'ملے'۔

انھوں نے ان بٹووں کو یہ کہہ کر کہ یہ انھیں پڑے ہوئے ملے سکیورٹی گارڈز یا استقبالیہ پر موجود عملے کے حوالے کر دیا اور وہاں سے چلے گئے۔

ان میں سے بعض بٹوے خالی تھے اور کچھ میں 230 روپے رکھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ان میں مالک کے نام سے تین بزنس کارڈ، ایمیل ایڈریس اور سودے سلف کی لِسٹ تھی۔

محققین کی ایک ٹیم جو بظاہر ان بٹووں کے مالک تھے اس بات کی منتظر تھی کہ یہ سکیورٹی گارڈز اور استقبالیہ عملے کے افراد ان سے رابطہ کریں۔ یہ سارا عمل ایک تجربہ کا حصہ تھا جو ان کی دیانت جانچنے کے لیے کیا گیا۔

یہ بٹوے احمدآباد، بینگلور، کوئمباٹور، حیدرآباد، جے پور، کولکتہ، ممبئی اور دہلی میں 314 مردوں اور 86 خواتین کو دیے گئے۔

جن بٹووں میں رقم تھی ان میں سے 43 فی صد اپنے مالکوں تک واپس پہنچ گئے۔ تاہم اس کے مقابلے میں صرف 22 فی صد خالی بٹوے ہی لوٹائے گئے۔

یہ نتائج حال ہی میں جریدہ سائنس میں شائع ہوئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ لوگ اس سے کہیں زیادہ ایماندار ہیں جتنا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ امریکا کی یونیورسٹی آف مِشیِگن کے محقق ایلن کوہن نے ان نتائج کو 'توقع سے بڑھ کر' قرار دیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ 'جب لوگ زیاد فائدے کے لیے بددیانتی کرتے ہیں اور ان میں دھوکہ دینے کی خواہش بڑھ جاتی ہے تو ساتھ ہی انھیں اپنے چور ہونے کا احساس بھی نفسیاتی کچوکے لگاتا ہے۔ اور بعض اوقات یہ احساس ان کی خواہش پر حاوی ہو جاتا ہے۔'

انڈیا کے جنوبی شہروں، بینگلور (66 فی صد) اور حیدرآباد (28 فی صد) میں رپورٹ کرنے کی شرح سب سے زیادہ بھی تھی اور سب سے کم بھی۔ ایک دوسرے جنوبی شہر کوئمباٹور میں خالی بٹووں کو رپورٹ کرنے کی شرح سب سے زیادہ (58 فی صد) رہی۔ جبکہ دارالحکومت دہلی میں یہ شرح سب سے کم (12 فی صد) تھی۔

مجموعی طور پر مردوں کے مقابلے میں عورتوں نے بھرے یا خالی بٹووں کی رپورٹ زیادہ کروائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس تجربے کے لیے انڈیا کے آٹھ شہروں میں 400 بٹوے گرائے گئے

انڈیا میں بٹوے 'گرانے' کا تجربہ اس عالمگیر مطالعے کا حصہ تھا جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ لوگ ذاتی مفاد اور دیانتداری میں کس کو ترجیح دیتے ہیں۔

سنہ 2013 اور 2016 کے درمیان ریسرچ اسِسٹینٹس نے چالیس ملکوں کے 355 شہروں میں 17 ہزار بٹوے 'گرائے' جن میں سے بعض خالی تھے اور بغص میں مقامی کرنسی میں مختلف رقومات رکھی گئی تھیں۔ ہر ملک میں پانچ سے آٹھ شہروں میں یہ تجربہ کیا گیا۔

مطالعے سے پتا چلا کہ 40 میں سے 38 ملکوں میں لوگوں نے رقم والے بٹوے واپس کر دیے۔ جن ملکوں میں ایسا نہیں ہوا ان میں پیرو اور میکسیکو شامل ہیں۔ جب محقیقن نے تین ملکوں میں بٹووں میں رکھی ہوئی رقم سات گنا بڑھا دی تو واپسی کی شرح میں 18 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رقم والے بٹوے سب سے زیادہ ڈینمارک میں (82 فی صد) واپس کیے گئے اور سب سے کم پیرو میں (13 فی صد)۔ خالی بٹووں کی واپسی کی شرح سوئٹزرلینڈ میں سب سے زیادہ (73 فی صد) اور چین میں سب سے کم (7 فی صد) رہی۔ خالی بٹووں کے مقابلے میں بھرے ہوئے بٹووں کے معاملے میں لوگوں نے زیادہ دیانت کا مظاہرہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گرائے جانے والے بہت سے بٹوے خالی تھے

راست بازی ناپنے کا معاملہ ذرا نازک ہے۔

سنہ 2015 میں برطانوی محققین کے ایک مطالعے میں، جس میں 1500 افراد نے حصہ لیا تھا، لوگوں نے انڈیا، چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے لوگوں کو سب سے کم دیانتدار قرار دیا گیا تھا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 2018 کے کرپشن پرسیپشن اِنڈیکس میں 180 ممالک کی فہرست میں بلحاظِ ترتیب 78ویں نمبر پر رکھا تھا۔

زیورِخ یونیورسٹی کے ماہر معاشیات، ڈاکٹر کرِسچیئن لوکاس زُند نے مجھے بتایا کہ 'ہمارے بٹووں کے تجربے میں رپورٹ کرنے کی شرح ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے اشاریے سے مماثلت رکھتی ہے۔'

اس تجربہ میں کچھ مزے کی باتیں بھی ہوئیں۔ انڈیا میں ایک عمارت کی سکیورٹی پر مامور گارڈ نے اندر جانے کیے لیے ریسرچ اسسٹینٹ سے رشوت طلب کی اور بعد میں بٹوے کی رپورٹ بھی نہیں کی۔ ایک اور جگہ ایک شخص نے کہا کہ اگر بٹوے کا مالک نہیں ملا تو وہ اس میں موجود رقم کسی خیراتی ادارے کو دیدے گا۔

ڈاکٹر زُند کہتے ہیں کہ 'جہاں تک کہ نقدی کا تعلق ہے تو عالمی سطح پر لوگوں میں زیادہ دیانتداری پائی گئی۔ یہ بات انڈیا اور ایشیا کے دوسرے ملکوں کے بارے میں بھی درست ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈینمارک کے لوگوں نے رقم سمیت ملنے والے سب سے زیادہ بٹووں کی رپورٹ لکھوائی

تو یہ تجربہ ہمیں ایمانداری اور انسانی رویے کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

ایک تو یہ لوگوں میں بے غرضی کا مظہر ہے۔ یعنی لوگ دوسروں کا خیال رکھتے ہیں چاہے وہ اجنبی ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ وجہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے بٹوے ملنے کے بعد ان کے مالکوں سے رابطے کی کوشش کی۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ جن بٹووں میں چابی تھی انھیں زیادہ رپورٹ کیا گیا۔

رپورٹ نہ کرنے کی 'نفسیاتی قیمت' بھی ایک اہم پہلو ہے یعنی پھر وہ لوگ خود کو چور سمجھنے لگتے۔

ڈاکٹر زُند کا کہنا ہے کہ 'اگر بٹوے میں رقم نہ ہوتی تو بٹوے کو رکھ کر بے ایمانی کا احساس زیادہ نہ ہوتا کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں تھا مگر رقم کے ساتھ ایسا کرنا زیادہ مشکل تھا۔

تو پھر جن لوگوں نے بٹووں کی رپورٹ نہیں کی ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ وہ بے ایمان ہوسکتے ہیں مگر یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا انھوں نے مصروفیت یا بھولنے کی عادت کی وجہ سے کیا ہوں۔

اسی بارے میں