انڈیا میں برقی گاڑیوں کے لیے چیلنجز اور امکانات

انڈیا، برقی گاڑی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈین صحافی وندانا گومبر کے مطابق انڈیا تیزی سے برقی گاڑیوں کی جانب جا رہا ہے جو کہ اس کی 'صاف توانائی پالیسی' میں ایک اہم موڑ کا اشارہ ہے۔

سنہ 2017 میں وزیرِ ٹرانسپورٹ نتن گڈکاری نے اس وقت آٹوموبائل انڈسٹری (اور دنیا) کو حیرت میں ڈال دیا جب انھوں نے اعلان کہا کہ وہ انڈیا کو سنہ 2030 تک مکمل طور پر برقی گاڑیوں کی جانب لے جائیں گے۔

انھوں نے ایک کانفرنس میں کہا تھا 'چاہے آپ کو پسند آئے یا نہیں مگر میں یہ کر کے رہوں گا۔ میں آپ سے پوچھوں گا نہیں بلکہ میں اسے زبردستی کر کے دکھاؤں گا۔'

یہ ایک نہایت ہی بلند عزم پر مبنی ہدف تھا کیونکہ ابھی تک فرانس اور برطانیہ بھی ایسا نہیں کہہ سکے اور انھیں بھی امید ہے کہ وہ کم از کم سنہ 2040 تک روایتی گاڑیاں ختم کر دیں گے۔

گڈکاری اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے بعد میں برقی پسنجر گاڑیاں لانے کے اپنے منصوبے کو 100 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

آپ اپنی گاڑی کو چوری ہونے سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

ڈیٹرائٹ کار شو کی چار اہم باتیں

زیرِ زمین سڑکیں:لاس اینجلس میں ٹریفک جام کا حل؟

اڑنے والی گاڑی، اوبر میں ناسا کے انجینیئر کی بھرتی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حکومت کی جانب سے اپنے ہدف میں کمی لانے کی وجوہات میں انڈسٹری کی جانب سے دباؤ اور ملازمتیں ختم ہونے کا خوف بھی تھا۔

حکومت نے اب فیصلہ کیا ہے کہ وہ گاڑیوں سے نیچے کے درجے پر توجہ دے گی یعنی دو پہیوں (جن کی فروخت کہیں زیادہ ہے) اور تین پہیوں والی سواریاں (مثلاً رکشہ)۔

انڈیا کی گاڑی ساز صنعت کے مطابق مارچ میں ختم ہونے والے مالی سال میں 2 کروڑ 12 لاکھ موٹرسائیکلیں اور سکوٹر جبکہ 34 لاکھ پسنجر گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ ان کے مقابلے میں تین پہیوں والی سات لاکھ سواریاں فروخت ہوئیں۔

نیا منصوبہ یہ ہے کہ سنہ 2023 تک ملک میں صرف تین پہیوں والی جبکہ سنہ 2025 تک صرف دو پہیوں والی برقی گاڑیاں چلیں گی۔

ممکنہ طور پر حکومت کے دو بڑے مقاصد ہیں، ایک تو آلودگی پر قابو پانا اور دوسرا ایک ابھرتی ہوئی صنعت میں سب سے آگے نکلنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارامن نے اس ماہ کے اوائل میں اپنی بجٹ تقریر میں کہا تھا 'انڈیا برقی گاڑیوں کی پیداوار کا عالمی مرکز' بننا چاہتا ہے۔

بجٹ سے ایک دن قبل جاری کیے جانے والے حکومت کے اقتصادی سروے میں ایک ایسے انڈین شہر کا تصور پیش کیا گیا جو امریکہ میں کار سازی کے مرکزی شہر ڈیٹرائٹ کی طرح ابھر کر سامنے آئے۔

مگر چونکہ انڈیا کے پاس برقی گاڑیوں کے عالمی لیڈر چین جتنا سرمایہ اور انفراسٹرکچر نہیں ہے اس لیے انڈیا کے لیے برقی گاڑیوں کی پیداوار کے لیے مسابقتی فائدہ یہاں تک کہ ان کی مارکیٹ پیدا کرنا بھی ایک چیلنج ہو گا۔

چین دنیا میں برقی گاڑیوں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ اس کے پاس برقی گاڑیوں کے چارجنگ سٹیشنز کا دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے اور اس کے علاوہ یہ دنیا کا سب سے بڑا بیٹری ساز بھی ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق چین میں سنہ 2018 میں نیو انرجی وہیکلز (این ای وی) یا برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انڈیا شاید چین سے کچھ سبق سیکھ سکتا ہے جہاں حکومت نے برقی گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کے لیے شدید آلودہ اور گنجان آباد شہروں میں روایتی گاڑیوں کی فروخت پر ایک حد مقرر کر دی۔ اس کے علاوہ بیجنگ نے برقی گاڑیوں کی فروخت کی بھی ایک حد مقرر کر رکھی ہے۔ حتیٰ کہ اب چین میں گاڑیوں کے تیار کنندگان کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ان کی پیداوار کا ایک مخصوص حصہ صفر دھوئیں والی گاڑیوں پر مبنی ہو۔

مگر انڈیا میں کئی حوصلہ افزا اشارے بھی ہیں۔

حکومتی دفاتر، مالز یہاں تک کہ محلوں میں بھی چارجنگ سٹیشن بنائے جا رہے ہیں۔ حکومتی کمپنیوں مثلاً بھارت ہیوی الیکٹریکلز اور انرجی ایفیشنسی سروسز کا منصوبہ ہے کہ جلد ہی چارجنگ سٹیشن بنائے جائیں۔ مؤخر الذکر کمپنی تو اگلے دو سال میں 10 ہزار سٹیشن بنانے کا عزم کیے ہوئے ہے۔

اس کے علاوہ برقی گاڑیوں کے نت نئے ماڈلز بھی مارکیٹ میں آ رہے ہیں جبکہ برقی موٹر سائیکلوں کے کئی ماڈلز کی آمد کے ساتھ اب رائیڈ شیئرنگ سروسز بھی برقی گاڑیاں استعمال کرنے لگی ہیں۔

حکومت برقی گاڑیاں اور بیٹریاں تیار کرنے پر فوائد کی بھی پیشکش کر رہی ہے تاکہ اقتصادی ترقی ہوسکے اور میک ان انڈیا پروگرام کے تحت مقامی پیداوار کو فروغ مل سکے۔

بیٹریوں کی کم ہوتی ہوئی قیمت انڈیا میں برقی گاڑیوں کے منصوبے کو فروغ دے سکتی ہے اور دیگر ایندھنوں پر چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں برقی گاڑیوں کو نسبتاً کم خرچ بنا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صاف ہوا کا اضافی بونس بھی ہے۔

یوں انڈیا برقی گاڑیوں کی جانب اپنے مخصوص سٹائل اور اپنی مخصوص رفتار میں بڑھے گا۔

اسی بارے میں