عمران گھانچی: ملیے کراچی کے معذور مکینک سے جو ریٹروفٹّڈ رکشہ بناتے اور چلاتے بھی ہیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ریٹروفٹّڈ رکشہ بنانے والے مکینک: ’آپ معذوری کے باوجود کما رہے ہیں تو دوسرے کیوں نہیں؟‘

روز کی طرح آج صبح بھی میں نے گلشن اقبال میں واقع اپنے گھر سے دفتر جانے کے لیے رکشہ کیا تو کچھ بھی مختلف نہیں لگا۔ اپنی منزل پر پہنچ کر جب کرایہ دینے کے لیے اُترا اور ڈرائیور پر نظر پڑی، تب جا کر معلوم ہوا کہ جو شخص پچھلے 20 منٹ سے مجھے ساتھ لیے اپنا رکشہ شہر کی سڑکوں پر دوڑاتا پھر رہا تھا، وہ دونوں ٹانگوں سے معذور ہے۔

ملیے کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کے رہائشی 40 برس کے عمران گھانچی سے جو گذشتہ 10 برس سے نہ صرف ’ریٹروفٹّڈ‘ رکشہ چلا رہے ہیں بلکہ ایسے ہی رکشے دوسرے معذور ڈرائیوروں کے لیے تیار بھی کرتے ہیں۔

’ریٹروفٹّڈ‘ رکشہ کیا ہے؟

عمران گھانچی نے مجھے بتایا کہ جو رکشہ عام طور پر سڑکوں پر نظر آتا ہے اُسے چلانے میں ہاتھ اور پیر دونوں کا استعمال ہوتا ہے۔ ’ریٹروفٹّڈ‘ رکشہ وہ ہے جس میں کسی معذور شخص کی مخصوص ضروریات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔

’مثلاً میرے دونوں پاؤں کام نہیں کرتے تو میں نے رکشے کا تمام نظام ہینڈل پر منتقل کر دیا۔ اس کے لیے رکشے کے ہینڈل کو ویسپا سکوٹر کے ہینڈل سے تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ رکشے کے انجن، گیئر اور بریک کے نظٌام میں بھی تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’کوئی یقین نہیں کرتا میں صحافی ہوں‘

'تم نابینا ہو، تم کچھ بھی نہیں کر سکتے'

دنیا کو حیران کرنے والے معذور پاکستانی کرکٹرز

ابتدائی مشکلات

مجھ سے ملاقات میں عمران گھانچی نے بتایا کہ اُنھیں دو سال کی عمر میں پولیو ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ معذور ہو گئے۔

’والدین نے کافی علاج کرایا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میری دونوں ٹانگیں خراب ہو گئیں اور کمر پر بھی اثر پڑا۔ رفتہ رفتہ کمر کا بیلنس تو ٹھیک ہو گیا لیکن ٹانگیں سوکھ گئیں۔‘

Image caption عمران گھانچی کو دو سال کی عمر میں پولیو ہوا

عمران کے مطابق اُن کے علاقے میں اگر کسی گھر میں کوئی معذور بچہ پیدا ہو جائے تو اُسے خدا کی قدرت کا معجزہ قرار دے کر نمائش کے لیے رکھ دیا جاتا ہے یا پھر بھیک منگوا کر کمائی کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے۔

'میرے والد بہت زیادہ پڑھے لکھے تو نہیں تھے لیکن اُن کی سوچ دوسروں سے مختلف تھی۔ انھوں نے مجھے پڑھانے کی بہت کوشش کی۔ میں نے آٹھ جماعتیں پڑھیں بھی لیکن اُس سے آگے تعلیم جاری نہیں رکھ سکا کیونکہ اکثر سکول پہلی یا دوسری منزل پر ہوتے تھے اور اُن میں وہیل چیئر کے ذریعے رسائی کی سہولت موجود نہیں تھیں۔‘

تعلیم کی جانب سے مایوس ہو کر عمران نے ہنر سیکھنے کا فیصلہ کیا۔

’میں نے بے شمار کام کیے۔ ٹھیکے داری کی، پلمبری سیکھی، ویلڈنگ سیکھی، الیکٹریشن کا کام سیکھا، موٹر مکینک کا کام بھی کیا لیکن ہر جگہ کوئی نہ کوئی شخص میری صلاحیت سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے مجھ پر ترس کھا کر میری امداد کرنے کی کوشش کرتا۔‘

Image caption جب کوئی معذور شخص کمانے لگتا ہے تو وہ اپنے گھر میں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو جاتا ہے

موٹر سائیکل جو معذور چلا سکیں

اِسی دوران عمران کی ملاقات چند ایسے لوگوں سے ہوئی جو اُن ہی کی طرح جسم کے نچلے حصے سے معذور تھے۔

’ہم چند دوست اکثر ملا کرتے تھے۔ ہم سوچا کرتے تھے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ ہم اپنے ذرائع آمد و رفت کو بہتر بنا سکیں کیونکہ معذوروں کی مخصوص تین پہیوں والی سائیکل پر سفر آسان نہیں تھا۔‘

پھر یوں ہوا کہ ایک دن عمران اور اُن کے دوستوں نے پیسے ملا کر ایک سیکنڈ ہینڈ موٹر سائیکل خرید لی۔

’کیونکہ مجھے موٹر مکینک کے کام کا تجربہ تھا، اس لیے میں نے اُس موٹر سائیکل کو اپنے جسم کے مطابق ریٹروفٹ کیا۔ میں نے موٹر سائیکل کی دونوں جانب چھوٹے پہیے بھی لگائے تاکہ میں اُسے صرف ہاتھوں کی مدد سے کنٹرول کر سکوں۔‘

روزگار کا ذریعہ

عمران گھانچی کا یہ تجربہ کامیاب رہا اور اُن کے گروپ میں شامل افراد نے اُس موٹر سائیکل کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔

Image caption اسکول میں معذور افراد کے لیے سہولیات ناکافی ہونے کی وجہ سے عمران نے تعلیم چھوڑ کر ہنر سیکھنے کا فیصلہ کیا

’پھر میرے ایک دوست نے کہا کہ موٹر سائیکل ہے تو کام کی چیز لیکن اِس کی مرّمت اور پیٹرول کا خرچ کون دے گا۔ تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں کوئی ایسی چیز بناؤں گا جو سفر کے ساتھ ساتھ آمدنی کا ذریعہ بھی بنے۔‘

’اُس زمانے میں کراچی میں آٹو رکشے عام تھے۔ تو میں نے اُس میں تبدیلیاں کیں اور گیئر کا سسٹم رکشے کے ہینڈل میں منتقل کیا جبکہ بریک کے لیے علیحدہ لیور لگایا۔ اِس طرح میں نے دو ریٹروفٹّڈ رکشے تیار کیے۔ ہم دوست باری باری دن کے مختلف اوقات میں یہ رکشے چلا کر پیسے کمانے لگے۔‘

دی رکشہ پراجیکٹ

میں کراچی کے علاقے صدر میں واقع معذوری کا شکار افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ناؤ پی ڈی پی (نیٹ ورک آف آرگنائزیشنز ورکنگ وِد پیپل وِد ڈسیبلیٹیز) کے دفتر گیا تو عمران ایک درجن کے قریب معذور افراد کو تربیت دے رہے تھے۔

ناؤ پی ڈی پی سے منسلک فہیم خان نے مجھے بتایا کہ جب اُنھوں نے معذور افراد کے ساتھ کام شروع کیا تو اُنھیں اندازہ ہوا کہ خصوصی افراد کے لیے آمد و رفت کی سہولیات ناپید ہیں۔

’ہم جن معذور افراد کے ساتھ کام کر رہے تھے اُن میں سے اکثر شہر کے گنجان آباد مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں۔ اِس صورتحال میں ہم نے فیصلہ کیا کہ کوئی ایسا منصوبہ شروع کیا جائے جس کے ذریعے نہ صرف معذوروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں بلکہ اُن کی سفری مشکلات کا بھی خاتمہ کیا جائے۔‘

Image caption عمران گھانچی اپنے جیسے معذور ڈرائیوروں کے لیے ’ریٹروفٹّڈ‘ رکشے تیار بھی کرتے ہیں

فہیم خان کے مطابق ’دی رکشہ پراجیکٹ‘ 2015 میں شروع ہوا جس کے ذریعے ریٹروفٹڈ رکشے تربیت یافتہ معذور افراد کو روزانہ کرائے کی بنیاد پر فراہم کیے جاتے ہیں۔

’یہ انتہائی کم کرایہ ہوتا ہے جو موجودہ رکشوں کی مرّمت اور مزید نئے رکشے خریدنے پر خرچ کیا جاتا ہے۔‘

مجھ سے گفتگو کے دوران عمران گھانچی نے بتایا کہ جب اُنھیں ناؤ پی ڈی پی کے بارے میں معلوم ہوا تو اُنھوں نے ملازمت کے لیے درخواست دی۔ اُن کا انٹرویو ہوا اور پھر بحیثیت انسٹرکٹر تقرری ہو گئی۔ عمران خوش ہیں کہ اب وہ اپنے جیسے بے شمار معذور افراد کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل بنا رہے ہیں۔

’ایک ماہ پر مشتمل تربیتی پروگرام میں کتابی معلومات کے ساتھ ساتھ عملی تربیت اور رکشے کی مرّمت کا کام بھی سکھایا جاتا ہے۔ اِس کا مقصد ڈرائیوروں کو خود کفیل بنانا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں اُنھیں کسی دوسرے شخص پر انحصار کرنے کی ضرورت نا پڑے۔‘

پاکستان میں خصوصی افراد

عالمی ادارہِ صحت کے مطابق دنیا کی آبادی کا 15 فیصد کسی نہ کسی ذہنی یا جسمانی معذوری کا شکار ہے۔ سنہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی کا ڈیڑھ فیصد یعنی تقریباً 32 لاکھ افراد معذور ہیں جبکہ 1998 کی مردم شماری میں یہ تعداد ڈھائی فیصد کے قریب تھی۔

ماہرین کہ مطابق حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ سے پونے دو کروڑ افراد ذہنی یا جسمانی معذوری سے نبردآزما ہیں۔

Image caption عمران اور اُن کے دوستوں نے ایک سیکنڈ ہینڈ موٹر سائیکل کو ’ریٹروفٹ‘ کرنے کا تجربہ کیا

پاکستان میں معذور افراد کی فلاح و بہبود سے متعلق قانون ’ڈس ایبل پرسنز ایمپلائنمنٹ اینڈ ری ہیبلی ٹیشن آرڈیننس 1981‘ کے تحت خصوصی افراد کے لیے سرکاری نوکریوں میں دو فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ لیکن معذوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی اداروں کے مطابق ملک میں 80 فیصد معذور افراد بے روزگار ہیں۔

’دی رکشہ پراجیکٹ‘ کے مینیجر فہیم خان کے مطابق دنیا بھر میں خصوصی افراد کے لیے حکومتی اور غیرسرکاری سطح پر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

’خصوصی افراد کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے، سرکاری اور نجی عمارتوں میں رسائی کے لیے ریپمس بنائے جاتے ہیں، اُن کے لیے خصوصی گاڑیاں تیار کی جاتی ہیں اور پارکنگ کی الگ جگہ مخصوص کی جاتی ہیں۔ اِس کے برعکس پاکستان میں معذور افراد کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کا حصول بے انتہا مشکل ہے۔

وہ کافی دوڑ دھوپ کے بعد ذاتی سواری کے لیے تو لائسنس حاصل کر لیتے ہیں لیکن کمرشل گاڑیوں کے لائسنس کا حصول ناممکن ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا نظام وضع کرے جس کے ذریعے ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والے معذور افراد طے شدہ طریقہِ کار سے گزرنے کے بعد ہر قسم کا لائسنس حاصل کر سکیں۔‘

Image caption ’دی رکشہ پراجیکٹ‘ کے ذریعے معذور افراد کو ’ریٹروفٹڈ‘ رکشے کرایے پر دیے جاتے ہیں

محفوظ سفر

فہیم خان نے بتایا کہ روڈ سیفٹی کے حوالے سے 'دی رکشہ پراجیکٹ' میں شامل ریٹروفٹّڈ رکشوں اور سڑک پر چلنے والے عام رکشوں میں کوئی فرق نہیں۔

’میں تو یہاں تک کہوں گا کہ ہمارے رکشے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ ہم اپنے ڈرائیوروں کو رکشہ چلانے کی تربیت کے ساتھ ساتھ ٹریفک قواتین کے متعلق معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ اُنھیں مسافروں کے ساتھ اخلاق سے پیش آنے کے بارے میں آگاہی بھی فراہم کی جاتی ہے۔‘

فہیم خان پُرامید ہیں کہ جلد ہی وہ مزید رکشے ریٹروفٹ کر کے منتخب معذور افراد کے حوالے کر دیں گے۔

’اِس وقت 20 سے 25 ڈرائیورز ایسے ہیں جو ہمارے ادارے سے تربیت حاصل کرنے کے بعد رکشہ حاصل کرنے کے انتظار میں ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ اِن تمام افراد کو جلد از جلد برسرِ روزگار کیا جائے۔‘

آپ کر سکتے ہیں تو دوسرے کیوں نہیں؟

عمران گھانچی بتاتے ہیں کہ میری طرح اُن کے رکشے میں سفر کرنے والے اکثر مسافر اُن کی معذوری کے بارے میں جاننے کی بعد خوشگوار حیرت کا اظہار کرتے۔

’وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ معذور ہونے کے باوجود اپنے زورِبازو سے روزگار کما سکتے ہیں تو دوسرے ایسا کیوں نہیں کرتے۔ وہ کیوں چوراہوں اور ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ ہم اپنے علاقے کے معذور افراد کو آپ کے پاس بھیجیں گے، آپ اُن کو اپنے ساتھ شامل کر لیں تاکہ وہ بھی باعزت روزی کما سکیں۔'

Image caption ناؤ پی ڈی پی معذور افراد کو ’ریٹروفٹّڈ‘ رکشے چلانے کی تربیت بھی دیتا ہے

عمران نے بتایا کہ وہ اور اُن جیسے دوسرے ڈرائیورز ریٹروفٹڈ رکشوں کے ذریعے روزگار کمانے کے ساتھ ساتھ معذور افراد کے بارے میں شعور اور آگاہی کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔

معذور ہیں، مجبور نہیں

عمران گھانچی کے بقول کسی گھر میں کوئی معذور شخص ہو تو اُسے بوجھ سمجھا جاتا ہے اور اُس کا ہونا یا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ لیکن جب وہی شخص کمانے لگتا ہے تو وہ فیصلہ سازی میں شامل ہو جاتا ہے۔

’احساسِ کمتری کا احساس گھر سے ہی پروان چڑھتا ہے۔ جو کما کے لائے گا اُس کی ہی سنی جائے گی۔ میرا ماننا ہے کہ مجھ جیسے معذور افراد کو مالی امداد نہ دی جائے بلکہ مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ ہم بھی معاشرے کے کارآمد فرد بن کر اپنا آپ منوا سکیں۔‘

اسی بارے میں