وائرل میمز: طنز و مزاح میں پاکستانی سوشل میڈیا پر بازی کیسے لے جاتے ہیں؟

کرکٹ

'مجھے لگا کہ جب ورلڈ کپ ختم ہو گا تو مِیمز (memes) کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ لیکن ان میمز کی وجہ سے میں وائٹ ہاؤس پہنچ گیا۔ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ میں ابھی تک مقبول ہوں۔'

یہ کہنا ہے ورلڈ کپ 2019 کے دوران پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان میچ میں ہر لمحہ بدلتی صورتحال کے مطابق حیرانی، پریشانی اور غصے کی کیفیتوں کی تصویر پیش کرنے والے صارم اختر کا۔

صارم اختر اس دن میچ دیکھنے جانے سے پہلے کسی بھی عام انسان کی طرح اپنی چھوٹی سی دنیا میں رہنے والے عام اور غیر معروف شخص تھے۔ تو اس دن آخر ہوا کیا؟

ہوا یوں کہ پاکستان آسٹریلیا کے بیچ کے میچ کے دوران صارم اختر کی ایک لمحے کی تصویر ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہو گئی۔

دیگر مشہور میمز کے بار میں پڑھیے

صلاح الدین ایوبی نے یہ کہا بھی تھا یا نہیں!

دس سال میں کیا سے کیا ہو گیا۔۔۔

اسرائیل پر تابڑ توڑ ’میم‘ حملے

پھر کیا تھا۔ منٹوں میں ان کی تصویر کی سکرین شاٹ بنی اور کئی ایک مِیمز میں جھلکنے لگے۔ اب وہ محض پاکستان آسٹریلیا کے میچ کے ایک تماشائی نہیں رہے بلکہ کرکٹ سے باہر کی دنیا میں بھی سیلیبرٹی بن چکے تھے۔

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کی کوکھ سے نکلی اور چند لمحوں کے اندر اندر لکھی جانے والی اس جادوئی کہانی کے مرکزی کردار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ یہ میچ دیکھ رہے تھے تو ان کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنے مشہور ہو جائیں گے۔

ان کی حیرانی کا سفر میچ کے دوران ان کے واٹس ایپ پہ فوری طور پر آنے والے میسجز سے ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کی کتنی ساری مِیمز بن کر وائرل ہو گئیں۔

صارم کہتے ہیں کہ نہ صرف پاکستانی بلکہ انڈیا اور سری لنکا کے کرکٹ فینز بھی ان کے پاس آئے اور سیلفیاں لیں۔

صارم کا کہنا ہے کہ میمز نے ان کو اتنا مشہور کر دیا ہے کہ جس کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس نئی ملنے والی شہرت پر اکیلے وہ ہی نہیں، ان کے گھر والے بھی بہت خوش ہیں اور خاندان میں جب بھی کسی کو کہیں کوئی مِیم نظر آتی ہے تو وہ ان کو بھیج دیتے ہیں، جس کو دیکھ ان کو اور زیادہ لطف آتا ہے۔

میمز کی دنیا صرف نئے لوگوں کو ہی نہیں ڈھونڈتی بلکہ پرانے سیلیبرٹیز پر میمز بنانے کے موقعوں کو بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ اس سلسلے میں ثمینہ پیرزادہ کا نام آتا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
وائرل میمز بنانا ایک فنکاری کا کام ہے!

ثمینہ پیرزادہ یو ٹیوب پر 'رِوائنڈ ود ثمینہ' کے نام سے ایک پروگرام کرتی ہیں۔ اس پروگرام میں وہ اپنے مہمانوں سے ان کی روز مرہ کی زندگی کے متعلق موضوعات پر بات کرتی ہیں اور کچھ ’آؤٹ آف دی باکس‘ یا غیر روایتی سوالات بھی پوچھتی ہیں۔

ان کے پوچھے گئے سوالات کو بنیاد بنا کر ثمینہ پیرزادہ کی تصویرپر بہت مِیمز بنائی جاتی ہیں۔

بی بی سی نے ثمینہ پیرزادہ سے جاننے کی کوشش کی کہ جب ان کی مِیمز بنائی جاتی ہیں تو ان کو کیسا لگتا ہے۔

اس متعلق ان کا جواب بڑا سیدھا سادا سا تھا: ’جب میری مِیمزسوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہیں، تو میں بہت انجوائے کرتی ہوں۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ان میمز سے انھیں یہ پتا چلتا ہے کہ ان کا پروگرام کتنا مقبول ہے، لوگ اس کو شوق اور دھیان سے دیکھتے ہیں اور اس کو بنیاد بنا کر سوچنے اور میمز بناتے وقت استعمال کر رہے ہیں۔

ثمینہ کہتی ہیں کہ میں ان سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو یہ میمز بناتے ہیں۔ تاہم وہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ کسی ایسی چیز پر مِیم نہیں بنانی چاہیے جس سے کسی کو تکلیف پہنچنے کا امکان ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے جس پروگرام کی وجہ سے ان کی مِیمز بنائی جاتی ہیں، اس کا کوئی سکرپٹ نہیں ہوتا، بلکہ سب باتیں دل سے ہوتی ہیں، اور اس پروگرام کا آئیڈیا بھی یہ تھا کہ ایک فنکار کو جانچا جائے۔ اس لیے ان سے ان کے بچپن کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی اور سیلیبرٹی عالمِ دین عامر لیاقت حسین پر بھی بہت ساری میمز بنتی ہیں۔ ان سے جب بی بی سی نے اس پر تبصرہ کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا وہ میمز پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ ان کے لیے میم ’محمد سے شروع ہوتی ہے اور ماں پر ختم ہوتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

مِیمز (memes) ہیں کیا؟

اگر یہ کہا جائے کہ میمز سوشل میڈیا کے موجودہ کلچر کی پیداوار ہے تو یہ غلط نہیں ہو گا۔ عام طور پر کسی بھی تصویر پر اس کے اصلی سیاق و سباق سے، ایک ہی وقت میں ہٹتے ہوئے اور جُڑے رہتے ہوئے، اس تصویر پر کسی فوری اثر ابھارنے والا فقرہ لکھ کر سوشل میڈیا پر ڈال دیا جائے تو اسے مِیم کہتے ہیں۔

کہنے کو تو ایک تصویر ہزار لفظوں پر بھاری ہوتی ہے۔ لیکن جب تصویر کے ساتھ ایک وائرل عبارت بھی لکھی ہو تو یہ سوشل میڈیا پر گردش کرتی مِیمز کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

پاکستان میں مشہور میمز کے بارے میں جانیے

میمز کے سو دن

’جہانگیر خان ترین دی ٹرانسپورٹر‘

’اور ہارو جان بوجھ کر انگلینڈ سے‘

مِیمز بناتے کون ہیں؟

میمز کوئی بھی بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے آپ کو صرف ایک تصویر چاہیے اور اس پر لکھا ایک ایسا فقرہ جو کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بھی لا سکتا ہے اورکسی کے لیے غصے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

بی بی سی نے پاکستان میں سوشل میڈیا پر میمز کے پیجز چلانے والے عبدلرافع بن سہیل، فہیم احمد اور سدرہ اسلم سے اس سلسلے میں بات کی اور جاننے کی کوشش کی کہ آخر یہ میمز بنائی کیسے جاتی ہیں، اور ان کے پیچھے کیا کہانی ہوتی ہے؟

Image caption کسی بھی میم کے وائرل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے طنز کا تیر صحیح وقت پر اپنے نشانے پر لگے

میمز کیسے بنائی جاتی ہیں؟

میمز سے بھرے فیس بک پیج چلانے والے فہیم احمد دیکھنے میں کافی سنجیدہ نظر آتے ہیں اور اس پر کئی لوگوں کو حیرانی بھی ہوتی ہے کہ وہ آخر اتنے مزاحیہ اور پُر اثر میمز کیسے بنا لیتے ہیں۔ فہیم کا کہنا تھا کہ میمز بنانا اتنا آسان نہیں جتنا نظر آتا ہے کیوں کہ ان کو بنانے کے لیے ہر وقت ذہنی طور پر تیار رہنا پڑتا ہے اور دماغ کو حاضر رکھنا پڑتا ہے۔

’رافع کامکس‘ نام کے فیس بک پیج کے خالق اور چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ سجائے ہوئے عبد الرافع میمز بنانے کے کام کی سنجیدگی کے قائل ہیں. وہ کہتے ہیں کہ میمز بنانتے ہوئے کسی بھی چیز کا آپ بہت زیادہ مزہ نہیں لے سکتے، کیوں کہ آپ کچھ بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ساتھ ذہن میں یہ سوچ بھی چل رہی ہوتی ہے کہ اس چیز سے میم کیسے نکالی جا سکتی ہے۔

سدرہ بھی 'بولو جوان' کے نام سے ایک ویب سائٹ میں کام کرتی ہیں اور وہ خود بھی ایک ہنس مکھ اور متحرک شخصیت کی مالک ہیں۔ وہ جہاں ایک طرف میمز بناتی ہیں تو وہیں دوسروں کی بہت اچھی نقل بھی اتار لیتی ہیں۔

سدرہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سا مواد بنایا جا رہا ہے۔ ’سخت مقابلے کی فضا ہے۔ اس قدر تخلیق ہوتے مواد میں نئے خیالات لانا اور ان سے میمز کے لیے مواد جمع کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔‘

Image caption سدرہ اسلم کا دعوی ہے کہ وہ لوگوں کی نقل اتارنے میں ماہر ہیں

میمز بنانے پر کیا ری ایکشن آتا ہے؟

میمز کچھ افراد کے لیے تو مسکراہٹ کا سبب ہیں، پر سب کے لیے نہیں۔ بھلے وہ میمز بنانے والے ہوں یا ان کے دیکھنے والے۔

رافع مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اگر وہ عمران خان پر کوئی میم بناتے ہیں تو اس پر اکثر ان کو سخت الفاظ سننے پڑتے ہیں۔ اس لیے وہ کوشش کرتے ہیں کہ عمران خان پر میمز لگانے کے بعد وہ کمنٹس سیکشن کی طرف نہ دیکھیں۔

تاہم سدرہ کا کہنا ہے کہ وہ مریم نواز اور شہباز شریف پر میمز بناتی رہی ہیں لیکن انھوں نے ایک بار جب مریم نواز کی کچھ تصاویر پر میمز بنائیں تو مریم نواز کی سوشل میڈیا ٹیم نے ان کو بلاک کر دیا۔

عبدالرافع تو کہتے ہیں کہ وہ کچھ میمز بنانے کے بعد کمنٹس سیکشن دیکھنے سے گریز کرتے ہیں، لیکن فہیم احمد کہتے ہیں کہ کچھ میمز پر تو اس قدر زیادہ زبان درازی اور گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ انھیں بعض اوقات بعض میمز ہٹانا بھی پڑ جاتی ہیں۔

البتہ سدرہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ کوئی ایسی بات نہ کہی جائے جو کسی کی دل آزاری کا باعث بنے، مثلاً کہ جو لوگ اس دنیا میں نہیں ہیں، ان کی میمز بنانے سے اجتناب کیا جائے۔ سدرہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ میمز بنانے کا بھی ضابطۂ اخلاق ہوتا ہے۔

Image caption رافع کہتے ہیں کہ اگر وہ عمران خان پر کوئی میم بناتے ہیں تو اس پر اکثر ان کو سخت الفاظ سننے پڑتے ہیں

کیا میمز بنانے سے پیسے کمائے جا سکتے ہیں؟

فہیم اور رافع کا ماننا ہے میمز بنانے سے براہ راست کوئی مالی فائدہ نہں ہوتا، کیونکہ فیس بک آپ کو کوئی پیسے نہیں دیتی۔ لیکن چونکہ ان کے پیجز کے لائکس کافی زیادہ ہیں تو کبھی کبھار کوئی ان کو کہتا اپنے پیج پر ان کا کوئی مواد پوسٹ کر دیں تو اس سے ہمیں کچھ پیسے مل جاتے ہیں۔

سدرہ میمز سے پیسے بنانے کے موقعوں سے فائدہ اٹھانے پر زیادہ کھلے ذہن سے یقین رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک کاروباری برانڈ نے ان سے رابطہ کیا تھا کہ ہمارے لیے میمز بنائیں تو اس کام کے انھوں نے پیسے لیے تھے۔

سدرہ کہتی ہیں کہ اب کاروباری برانڈز کو بھی یہ سمجھ آ رہی ہے کہ ان کو اپنی پروموشن کے لیے میمز کی ضرورت ہے اس لیے وقت آ گیا ہے کہ آپ میمز سے کچھ کما بھی سکتے ہیں۔

Image caption فہیم احمد دیکھنے میں کافی سنجیدہ نظر آتے ہیں اور اس پر کئی لوگوں کو حیرانی بھی ہوتی ہے کہ وہ آخر اتنے مزاحیہ اور پُر اثر میمز کیسے بنا لیتے ہیں

میمز کا مستقبل کیا ہے؟

سدرہ کا کہنا ہے کہ میمز کا مستقبل روشن ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اب لوگ، جاص طور پر نوجوان بہت زیادہ تحریری مواد نہیں پڑھنا چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں کم سے کم لفظوں میں ان کو سب جلدی جلدی مل جائے۔

رافع بھی امید کرتے ہیں کہ آنے والا وقت میمز کا ہے۔ فہیم کہتے ہیں کہ یہ تو محض شروعات ہیں، پوری فلم تو ابھی باقی ہے۔

اسی بارے میں