پانی کی قلت: کیا دنیا پانی پر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟

آبی مسائل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان، ایریٹریا اور بوٹسوانا کو بھی انتہائی شدید آبی مسائل سے درپیش ملک قرار دیا جا چکا ہے

واشنگٹن ڈی سی کے تھنک ٹینک ورلڈ ریسورسز انسٹیٹیوٹ (ڈبلیو آر آئی) کے مطابق پاکستان سمیت دنیا میں ایسے تقریباً 400 علاقے ہیں جہاں کے رہنے والے شدید آبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی، گوشت خوری میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں نے دنیا کے پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پانی کی کمی لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دے گی اور اس کی وجہ سے کشیدگی اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہو گا۔

چلی سے لے کر میکسیکو تک، افریقہ سے لے کر جنوبی یورپ کے سیاحتی مقامات تک آبی مسائل میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ آبی مسائل سے درپیش علاقوں یعنی ’واٹر سٹریسڈ‘ علاقوں کا تعین اس معیار پر کیا جاتا ہے کہ وہاں موجود پانی کے وسائل کے مقابلے میں وہاں زیرِ زمین ذخائر اور دیگر سطحی ذخائر سے کتنا پانی استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا کے بڑے شہر جو پانی کی کمی کا شکار ہیں

دنیا بھر میں 66 کروڑ افراد صاف پانی سے محروم

’پاکستان میں گلیشیئر بڑھ رہے ہیں، پانی کی کمی کا خدشہ‘

'سوا ارب افراد کو خوراک، پانی کی کمی اور افلاس کا خطرہ'

عالمی مسئلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چلی سے لے کر میکسیکو تک، افریقہ سے لے کر جنوبی یورپ کے سیاحتی مقامات تک آبی مسائل میں اضافہ ہی ہو رہا ہے

ڈبلیو آر آئی کے مطابق دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی، یعنی تقریباً 2.6 ارب لوگ، ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جو کہ ’ہائیلی واٹر سٹریسڈ‘ (شدید آبی مسائل کا شکار) ممالک قرار دیے جا چکے ہیں۔ جن میں سے 1.7 ارب افراد 17 ایسے ممالک میں ہیں جنھیں ’انتہائی شدید آبی مسائل‘ کا سامنا ہے۔

آبی مسائل کے لحاظ سے مشکل ترین حالات کا مشرقِ وسطیٰ کے درجن بھر ممالک کو سامنا ہے۔ پاکستان، ایریٹریا اور بوٹسوانا کو بھی انتہائی شدید آبی مسائل سے درپیش ملک قرار دیا جا چکا ہے۔

تاہم انڈیا کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اسے پانی کےاستعمال اور اس کی مینجمنٹ کے حوالے سے انتہائی اہم چیلنجز کا سامنا ہے جو کہ اس کی عوامی صحت اور اقتصادی ترقی سمیت ہر چیز پر اثر انداز ہوں گے۔‘

اچھے اور برے انکشافات

یہ ڈیٹا ڈبلیو آر آئی کے پلیٹ فارم ایکوا ڈکٹ 3.0 سے لیا گیا ہے جس نے متعدد ہائیڈرو لوجیکل ماڈلز کا جائزہ لیا اور یہ تعین کیا کہ زمین کی سطح سے اور زیرِ زمین وسائل میں سے کتنا پانی استعمال کیا جا رہا ہے اور ہر علاقے میں کتنا کُل پانی دستیاب ہے۔

جب ان دونوں چیزوں کا تناسب 40 سے 80 فیصد کے درمیان ہو تو اسے شدید آبی مسائل کا شکار قرار دیا جاتا ہے۔ جب اس کا تناسب 80 فیصد سے زیادہ ہو تو اسے انتہائی شدید آبی مسائل کا شکار قرار دیتے ہیں۔

اس تحقیق کے مرکزی محقق رٹگر ہافسٹے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈیٹا کے ساتھ کام کرتے ہوئے میری کوشش ہوتی ہے کہ نمبروں کے نتائج کے سلسلے میں غیر جانبدار رہوں مگر مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرانگی ہوئی کہ انڈیا میں حالات کتنے خراب ہیں۔‘

انڈیا اس درجہ بندی میں 13 ویں نمبر پر ہے اور پاکستان کا 12واں نمبر ہے۔

انڈیا کی 36 میں سے نو ریاستیں انتہائی شدید آبی مسائل کی کیٹیگری میں ڈالی گئی ہیں، جبکہ ریاست تامل ناڈو کے دارالحکومت چنائی میں سیلاب آ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ڈبلیو آر آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے ’چنائی جیسے بڑے شہر میں جاری پانی کے مسائل یہ بتاتے ہیں کہ انڈیا کو آنے والے دنوں میں کس نوعیت کے مسائل کا سامنا ہوگا۔ جو کہ غیر معیاری واٹر مینجمنٹ کی وجہ سے بڑھتے جا رہے ہیں۔‘

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کچھ کیا نہ گیا تو میکسکو کو بھی اتنی ہی مشکل ہوگی جتنی انڈیا کو ہے۔

میکسیکو کی 32 میں 15 ریاستوں کو انتہائی شدید آبی مسائل میں گھرا ہوا قرار دیا گیا ہے اور رٹگر ہافسٹے اس بات پر توجہ دلاتے ہیں کہ دارالحکومت میکسیکو سٹی کا پانی کا نظام انتہائی نازک ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ چلی کے 16 علاقوں کو بھی انتہائی شدید آبی مسائل کی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ روسی اور چینی دارالحکومت ماسکو اور بیجنگ کو بھی اتنا ہی خطرہ لاحق ہے تاہم وہ ممالک اس کیٹیگری میں نہیں ہیں۔ ان کے علاوہ اٹلی اور سپین کے بھی متعدد علاقوں کو انتہائی شدید مشکلات کا سامنا ہوگا کیونکہ گرمیوں میں سیاحوں کی بڑی تعداد کے آنے سے وہاں کے آبی نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک تہائی ترکی بھی انتہائی آبی مسائل کا شکار ہے یعنی 81 میں سے 27 صوبوں میں پانی کی شدید کمی ہے۔

تاہم جنوبی افریقہ کا علاقہ مغربی کیپ، بوٹسوانا کے 17 اضلاع، نیمبیا کے کچھ علاقے اور انگولا کو بھی شدید آبی مسائل کا شکار قرار دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگرچہ سماجی و معاشی عناصر پانی کے مسائل پیدا کرتے ہیں مگر بہتر واٹر مینجمنٹ سے ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

اقتصادی ترقی کی پیاس

1961 سے 2014 کے درمیان عالمی سطح پر تازہ پانی کے نکالے جانے (چاہے زمینی یا زیرِ زمین ذخائر سے) کی شرح میں 2.5 گنا اضافہ ہوا ہے۔

ڈبلیو آر آئی کے مطابق فصلوں کی آبپاشی کے لیے پانی کی مانگ گذشتہ نصف صدی میں دوگنی ہوگئی ہے اور آبپاشی استعمال کردہ پانی کا تقریباً 67 فیصد ہے۔ 2014 میں صنعت کو 1961 کے مقابلے میں تقریباً تین گنا پانی چاہیے اور اب سے کل استعمال شدہ پانی کا 21 فیصد ہے۔

اگرچہ گھروں میں استعمال کا پانی کل استعمال شدہ پانی کا 10 فیصد ہے تاہم 1961 کے مقابلے میں اس کی تعداد میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ اور جانوروں کے استعمال کے لیے تو انتہائی تھوڑا سا پانی استعمال ہوتا ہے۔

مگر وہ فصلیں جو جانوروں کے کھانے کے لیے اگائی جاتی ہیں وہ عالمی آبپاشی کے نظام کا 12 فیصد استعمال کر جاتی ہیں۔ اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ بڑھتی ہوئی جانوروں کے گوشت کی مانگ کو کم کر کے ہم پانی کے وسائل پر دباؤ کم کر سکتے ہیں۔

ہوفسٹے کا کہنا ہے کہ ’عالمی آبی مسائل کو حل کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے۔ ہم جانوروں کو کھلانے کے لیے بہت زرعی زمین استعمال کرتے ہیں اور اگر آپ وسائل کو کیلوریز میں منتقل کرنے کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ سب سے کارگر طریقہ نہیں ہے۔‘

2012 کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ جانوروں سے بنی کسی بھی انسانی استعمال کی چیز کی تیاری میں پودوں سے بنی چیز کے مقابلے میں پانی زیادہ استعمال ہوتا ہے چاہے ان دونوں کی غذائی اہمیت برابر ہو۔

موسم اور جنگ

اقوام متحدہ کی متعدد ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پانی کی رسد کئی مقامات پر غیر یقینی کا شکار ہوجائے گی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ بڑھتے درجہِ حرارت اور غیر متوقع بارشوں کی وجہ سے فصلوں میں کمی بھی دیکھی جائے گی اور فوڈ سکیورٹی آگے ہی کئی علاقوں میں بڑا مسئلہ ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو کچھ بنجر اور نیم بنجر علاقوں میں 2030 تک 24 سے 700 ملین افراد کو نقل مکانی کرنی پڑے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ڈبلیو آر آئی کا کہنا ہے کہ بہت علاقے جہاں پانی کی کمی ہے اور جنگ جاری ہے وہاں پر جنگ کے عوامل میں سے ایک پانی بھی ہے۔ ان میں اسرائیل، لیبیا، افغانستان، یمن، شام، اور عراق شامل ہیں۔

بہت سے ایسے علاقے جہاں بہت زیادہ پناہ گزین آ جاتے ہیں، جیسے اردن اور ترکی، بھی اسی وجہ سے آبی مسائل کے دباؤ میں آ جاتے ہیں۔

تاہم ایکوا ڈکٹ ڈیٹا سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگرچہ سماجی و معاشی عناصر پانی کے مسائل پیدا کرتے ہیں، بہتر واٹر مینجمنٹ سے ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مثال سنگاپور میں ملتی ہے جس میں یہ ملک چار مختلف ذرائع سے پانی جمع کرتا ہے۔

ادھر اسرائیل بھی پانی کی مینجمنٹ کے حوالے سے بہترین ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے۔ ہوفسٹے کہتے ہیں کہ انڈیا جیسے ممالک جہاں یہ مسائل آ رہے ہیں یا آنے والے ہیں انھیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر واٹر میجنمنٹ کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں ’آبی مسائل آپ کے لیے پراکسی انڈیکیٹر ہو سکتے ہیں، آپ کی قسمت نہیں۔‘

اسی بارے میں