پومپے: قدیم روم کے شہر کے کھنڈرات سے ملنے والا ’خزانہ‘ کتنا قیمتی ہے؟

Artefacts thought to be part of a sorcerer's treasure trove on display in Pompeii (12 August) تصویر کے کاپی رائٹ EPA

آتش فشاں کی زد میں آنے والے قدیم روم کے شہر پومپے کے کھنڈرات پر کام کرنے والے ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ انھیں کھدائی کے دوران 'جادوئی نوادرات کا ایک خزانہ' ملا ہے جس میں آئینے اور شیشے کے موتیوں کی مالا اور تعویز گنڈا جیسی اشیا شامل ہیں۔

پومپے کی ڈائریکٹر آثار قدیمہ ماسیمو اوسانا کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والے نوادرات میں زیادہ تر اشیا خواتین کے استعمال کی ہیں۔ جس مکان کی کھدائی کر کے یہ خزانہ حاصل کیا گیا ہے اس کے ایک کمرے سے دس افراد کی نعشیں بھی ملی ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

پومپے کا شہر سنہ 79 میں ویسوویئس پہاڑ کے آتش فشاں مادے کی زد میں آ گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بحیرۂ روم کے خطے کی خوراک صحت کے لیے اچھی ہے؟

کیا سکندر کی محبوبہ انھیں ڈبونے پر تل گئی تھیں؟

زعفران: یونان کا ’سرخ سونا‘ تصاویر میں

A drawing shows an aerial view of Pompeii, with its amphitheatre and roman housing, as a thick black cloud descends upon the city from the top of the frame. تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس مہلک حادثے نے فوراً ہی شہر اور اس کے مکینوں کو منجمد کر دیا۔ آتش فشاں کے نتیجے میں تباہ ہونے والا یہ شہر اب ماہرین آثار قدیمہ کو مطالعے کے بیش بہا مواقع فراہم کرتا ہے۔

یہ ’خزانہ‘ کھنڈرات کی کھدائی کے دوران ایک لکڑی کے صندوق سے ملا۔ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد اس صندوق کی لکڑی تو گل سڑ چکی تھی، البتہ اس پر لگا تانبہ محفوظ تھا جسے آتش فشاں مادے نے سخت کر دیا۔

اس میں متعدد ہیرے اور جواہرات، قیمتی پتھر، جیولری اور دھات کے برتن شامل ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے آنے والے ’سکیراب‘ تعویذ کی نشاندہی کی گئی۔

Stones, bones and other artefacts on display in Pompeii (12 August) تصویر کے کاپی رائٹ EPA

آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر اوسانا کے مطابق زیادہ امکان ہے کہ یہ سامان گھر کے مالک کے بجائے ان کے کسی نوکر یا غلام کا ہو، چونکہ صندوق سے ملنے والے نوادرات میں سے کوئی بھی سونے کا نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ہمیں پومپے کی روزمرہ زندگی اور خواتین کے استعمال کی معمولی اشیا کے بارے میں پتا لگتا ہے۔ کیونکہ وہ شہر کے باشندوں کی ایسی کہانیاں سناتے ہیں، جس میں پتا چلتا ہے کہ کیسے انھوں نے اس تباہی سے بچنے کی کوشش کی تھی۔

آثار قدیمہ کے ماہرین اب ڈی این اے کی مدد سے اُس مکان سے ملنے والی لاشوں کے آپس میں رشتے کا سراغ لگانے کی کوشش میں ہیں۔

Artefacts from a chest found in Region V of the Pompeii Archaeological Park تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اوسانا کے خیال میں شاید ان قیمتی خزانوں کا تعلق ان متاثرین میں سے ہی کسی ایک سے تھا۔ اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ صندوق سے ملنے والی یہ اشیا بناؤ سنگھار کے بجائے مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تعویز گنڈے (خیر و برکت) کے لیے پہنی جاتی ہونگی۔

پومپے تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ مکان کسی اہم شخصیت کی ملکیت تھا۔ اس بات کا اندازہ گھر سے ملنے والے خزانے کے قیمتی نوادرات کو دیکھ کر ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں