’تیرتی ہوئی دلدلی زمین پاکستان میں پانی کی قلت کا حل بن سکتی ہے‘

wet lands
Image caption ماہرین کے مطابق گھریلو فضلے والے آلودہ پانی کو باآسانی اس قدرتی طریقے سے صاف کیا جا سکتا ہے

پاکستان کے دیہی علاقوں میں گندے پانی کے جوہڑ نظر آنا عام سی بات ہے لیکن یہ تالاب اپنے اندرایک خاص راز لیے بیٹھے ہیں جو تاحال نظروں سے اوجھل ہے۔

گندے پانی کے یہ جوہڑ اور ان میں اُگنے والے پودے پاکستان کو درپیش پانی کی قلت جیسے مسئلے کا ایک حل بن سکتے ہیں۔ اس کے لیے دیر محض اہتمام کرنے کی ہے۔ جو طریقہ کار درکار ہے وہ نہ تو مشکل ہے اور نہ ہی بہت مہنگا پڑتا ہے۔

اس کے لیے گندے پانی کے تالابوں کو نکاسی کے نظام سے جوڑ کر نرسل، کنول اور پانی پر تیرنے والے دوسری کئی اقسام کے پودوں کو تیرنے کے لیے چھوڑ دینا ہوتا ہے۔ باقی کام پودوں کا ہے۔ یہاں سے صاف ہونے والے پانی کو زراعت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دنیا کے کئی ممالک اس طریقہ کار سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اسے فلوٹنگ ویٹ لینڈز یعنی پانی پر تیرنے والی دلدلی یا مرطوب زمین کہا جاتا ہے۔ یہ تصور کیا ہے اور پودے کیسے پانی کو صاف کرتے ہیں، اس کا تجربہ حال ہی میں پاکستان کے شہر اور صنعتی مرکز فیصل آباد میں کیا گیا ہے۔

جنگلی حیات کے تحفظ کی عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے صوبہ پنجاب میں پانی اور نکاسی آب کے ادارے واسا کے ساتھ ملکر فیصل آباد کے نواحی علاقے چکیرا میں پہلے سے قائم آلودہ پانی کے تالابوں میں فلوٹنگ ویٹ لینڈز کے اس تصور کو متعارف کروایا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے حکام کے مطابق 'اس طریقے سے پاکستان میں سخت دباؤ کے شکار پینے کے صاف پانی کے زیرِ زمین ذخیرے کو بچایا جا سکتا ہے۔' مگر سوال یہ ہے کہ کیسے؟

جوہڑوں میں اس طریقے سے اگر پانی صاف کر بھی لیا جائے تو وہ پینے کے کام تو نہیں آ سکتا۔ یہ صرف آبپاشی میں استعمال ہو گا تو اس سے پینے کا زیرِ زمین پانی کیسے بچے گا؟ اور پھر پانی میں ملنے والی صنعتی آلودگی کا کیا ہو گا؟

پاکستان کے صنعتی شہر فیصل آباد کی مثال یہ عمل سمجھانے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔

تیرتی ہوئی دلدلی زمین کیا ہے؟

Image caption ایک اندازے کے مطابق ایک تالاب میں یومیہ ایک سو کیوسک پانی داخل ہوتا ہے

پانی کی سطح پر تیرنے والی مربوط زمین کو نمائشی استعمال کے پلاسٹک یعنی تھرموپول کی چادروں میں تیار کیا جاتا ہے۔

فیصل آباد میں چکیرا کے مقام پر واسا نے کئی ایکڑ اراضی پر آلودہ پانی کے لیے ویسٹ سٹیبلائزیشن پونڈز یعنی آلودہ پانی کے علاج کے تالاب بنا رکھے تھے۔

ان میں شہر بھر کا گندا پانی جس میں گھریلو اور صنعتی فضلہ دونوں شامل ہیں، جمع ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک تالاب میں یومیہ ایک سو کیوسک پانی داخل ہوتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے صنعتی شہر کے وسیع زرعی رقبے میں گھرے ان تالابوں میں سے ایک کا انتخاب کیا۔ یہ تالاب چار اعشاریہ چار ایکڑ پر پھیلا ہے۔ اس میں پانی سے آلودگی صاف کرنے والے پودوں کو چھوڑنے کے لیے تیرنے والی زمین تیار کی گئی۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے آئی ایل ای ایس پراجیکٹ کے منیجر سہیل علی نقوی نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ تھرموپول کی چادروں سے تیرنے والے پلیٹ فارم تیار کیے جاتے ہیں۔ 'ان میں مٹی بھری جاتی ہے اور اس میں سوراخ کر کے ان میں پودے لگائے جاتے ہیں۔

نرسل اور کنول جیسی اقسام کے یہ پودے پاکستان میں مقامی طور پر اگتے ہیں اور باآسانی دستیاب ہیں۔ اس کے بعد ان پلیٹ فارمز کو تیرنے کے لیے تالاب کے وسط میں پہنچا دیا جاتا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
تیرتے ہوئے کھیت پانی صاف کرنے میں مددگار

نرسل اور کنول پانی کو کیسے صاف کرتے ہیں؟

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے پروگرام منیجر سہیل علی نقوی نے بتایا کہ 'پانی میں موجود آلودگی ان پودوں کی خوراک ہے۔' ان کی جڑیں پانی کے اندر بڑھتی اور پھیلتی ہیں۔

یعنی پودے جب پانی کے اندر افزائش پاتے ہیں تو خوراک انھیں پانی میں موجود آلودگی کی صورت ہی میں دستیاب ہوتی ہے۔ وہ آلودگی کھاتے ہیں اور بدلے میں پانی صاف ہوتا ہے۔

پلیٹ فارمز کی تیاری کے وقت ان کی جڑوں پر مفید جرثوموں کا چھڑکاؤ بھی کر دیا جاتا ہے۔ اس سے صفائی کا عمل مزید تیز ہو جاتا ہے۔

سہیل علی نقوی کے مطابق 'یہ پودے عام گھریلو فضلے والے آلودہ پانی کو تو صاف کر ہی دیتے ہیں، ساتھ ہی ان کی جڑیں پانی میں شامل زیادہ کثافت والی بھاری دھاتوں کو جذب کر لیتی ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ پودے آلودہ پانی میں موجود نامیاتی مادے کو تلف کر کے اس کی بی او ڈی اور سی او ڈی کی سطح کو کم کرتے ہیں۔

بیالوجیکل آکسیجن ڈیمانڈ یعنی بی او ڈی اور کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ پانی میں پائی جانے والی آلودگی کی سطح کو ناپنے کے دو پیمانے ہیں۔ ان دونوں کی سطح پانی میں جتنی زیادہ ہو گی، پانی اتنا زیادہ آلودہ ہو گا۔

Image caption گندے پانی کے تالابوں کو نکاسی کے نظام سے جوڑ کر نرسل، کنول اور پانی پر تیرنے والے دوسری کئی اقسام کے پودوں کو تیرنے کے لیے چھوڑ دینا ہوتا ہے۔

'پاکستان کے لیے موزوں ہے'

نالوں کے ذریعے نکاسی کا پانی فلوٹنگ ویٹ لینڈز والے تالات میں پھینکا جاتا ہے جہاں پودے اس پر عمل شروع کر دیتے ہیں۔ صاف ہونے کے بعد اس پانی کو دوسری سمت سے نالوں کے ذریعے زراعت میں استعمال کے لیے نکالا جا سکتا ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ صفائی کے اس عمل میں پودے کتنا وقت لیتے ہیں؟

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے فائبر اینڈ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی کے شعبہ کے چیئرمین ڈاکر اسد فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اس کا دارومدار پانی میں موجود آلودگی اور درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔

'جتنی گرمی زیادہ ہو گی اتنا ہی جرثومے تیزی سے کام کریں گے اور اتنا ہی جلدی پانی کو صاف کریں گے۔ پاکستان میں درجہ حرارت زیادہ رہتا ہے اس لیے یہ طریقہ پاکستان کے لیے موزوں ہے۔'

کیا یہ صنعتی فضلے کو صاف کر سکتے ہیں؟

پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح فیصل آباد میں بھی گھریلو اور صنعتی فضلے سے آلودہ پانی کے نکاس کے لیے الگ الگ راستے استعمال نہیں کیے جاتے۔ یہ دونوں مل جاتے ہیں۔

ڈاکر اسد فاروق کے مطابق 'صنعتی فضلے والے پانی کو صاف کرنا ذرا مشکل کام ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں قسم کے آلودہ پانی کے راستوں کو الگ کر لیا جائے تو فلوٹنگ ویٹ لینڈز کے طریقے سے 'گھریلو فضلے والے آلودہ پانی کو باآسانی اس قدرتی طریقے سے صاف کیا جا سکتا ہے۔'

Image caption 'جتنی گرمی زیادہ ہو گی اتنا ہی جرثومے تیزی سے کام کریں گے اور اتنا ہی جلدی پانی کو صاف کریں گے۔ پاکستان میں درجہ حرارت زیادہ رہتا ہے اس لیے یہ طریقہ پاکستان کے لیے موزوں ہے۔' :ڈاکر اسد فاروق

تاہم ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے پروگرام مینیجر سہیل علی نقوی کے مطابق اگر چند دیگر طریقوں کے ساتھ ملا کر اس طریقہ کار کو استعمال کریں تو صنعتیں بھی فلوٹنگ ویٹ لینڈز کے اس عمل کے ذریعے 'کم خرچ پر فضلے والے پانی کو صاف کر سکتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ ایک تالاب والے چھوٹے پیمانے پر فلوٹنگ ویٹ لینڈز بنانے پر محض تین لاکھ روپے کے قریب خرچ آتا ہے۔ دوسری جانب ایک صنعت فضلے والے پانی کی صفائی کے لیے چھ سے سات کروڑ روپے میں پلانٹ لگاتی ہے اور اس کو چلانے اور سنبھالنے کا خرچ اس کے علاوہ ہے۔

فیصل آباد ہی کیوں؟

پاکستان کا تیسرا بڑا شہر فیصل آباد پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس کی وجہ یہاں قائم بڑے درجے پر قائم کپڑے کی صنعت اور سینکڑوں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو سمجھا جاتا ہے۔

واسا کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے آپریشنز اینڈ مینٹینینس عدنان گل کے مطابق 'ان صنعتوں سے نکلنے والے فضلے کی وجہ سے زیرِ زمین پینے کے پانی کا ذخیرہ آلودہ ہو رہا ہے۔'

فیصل آباد جہاں اربوں روپے صنعت سے کماتا ہے وہیں اس کی سالانہ آمدن کا ایک بڑا حصہ زراعت سے بھی آتا ہے۔ اگر اس کے آلودہ پانی کو صاف کر لیا جائے تو وہ زراعت میں استعمال ہو سکتا ہے۔ اس طرح زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ یعنی ایکیوفر بھی آلودہ ہونے سے بچ سکتا ہے۔

فلوٹنگ ویٹ لینڈز اور صنعتی آلودگی کے لیے اس کے ساتھ دیگر طریقوں کے استعمال سے ایسا کرنا ممکن ہے۔

پاکستان کو کس طرح فائدہ ہو گا؟

Image caption صاف ہونے والا یہ پانی سبزیاں اگانے میں استعمال ہوتا ہے اور پھر دیگر فصلیں جیسا کہ گندم بھی اس سے سیراب کی جا سکتی ہے: ماہرین

واسا کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے آپریشنز اینڈ مینٹینینس عدنان گل نے بی بی سی کو بتایا کہ چکیرا کے تالابوں میں پانی 14 سے 20 دن رہتا ہے جس کے بعد وہ مغربی سمت میں بہنے والی پہاڑن ڈرین میں چلا جاتا ہے۔

'یہ پانی سبزیاں اگانے میں استعمال ہوتا ہے اور پھر دیگر فصلیں جیسا کہ گندم بھی اس سے سیراب کی جا سکتی ہے۔'

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سہیل علی نقوی کے مطابق چکیرا میں لگائے جانے والے فلوٹنگ ویٹ لینڈز ان کا تجرباتی پراجیکٹ ہے۔ 'یہ انشااللہ یہاں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر ہم اس کو ملک کے دوسرے شہروں میں لے کر جائیں گے۔'

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پینے کے پانی کے لیے ایکیوفر پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ پاکستان زرعی استعمال کے لیے بھی بڑے پیمانے پر زیرِ زمین پانی نکالتا ہے۔ اس کے علاوہ آبی آلودگی کی وجہ سے بھی زیرِ زمین پانی کا یہ ذخیرہ سخت دباؤ کا شکار ہے۔

'آلودہ پانی کو قدرتی طریقے سے صاف کرنے اور اسے زراعت میں استعمال ہونے سے پاکستان کا زیرِ زمین پانی نہ صرف آلودہ ہونے سے بچے گا بلکہ اس پر دباؤ بھی کم ہو جائے گا۔'

ان کے خیال میں اس طرح پاکستان میں مجموعی طور پر پینے کے صاف پانی کو بچانے میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں