ناقابل برداشت تیز ہوائیں اور درجہ حرارت: دیگر سیاروں پر موسم کی صورتحال کیا ہے؟

ایک سیارے کی فضا کا منظر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نظامِ شمسی سے باہر موجود ایک سیارے کی فضا کا تصوراتی خاکہ

ہم اکثر موسم کی شکایت کرتے ہیں اور آج کل تو خاص طور پر جب کہ زمین پر شدید موسمی تبدیلیاں عام ہو رہی ہیں۔

لیکن کیا ہو گا کہ اگر ہم اپنی چھٹی ایسی جگہ پر گزاریں جہاں آٹھ ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلتی ہوں یا درجہ حرارت اتنا زیادہ ہو کہ سیسہ بھی پگھل جائے؟

موسم اچھا ہو یا برا یہ ہمارے سیارے کی ایک مستقل حقیقت ہے اور خلا کی دوریوں میں تو یہ اور بھی شدید صورت میں موجود ہے۔

ہم زمین کے پڑوس سے جائزہ لینا شروع کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بلیک ہول کی پہلی تصویر جاری

وائجر ٹو نظام شمسی کی حد سے باہر نکل گیا

’دوسرے نظام شمسی سے آنے والا دمدار ستارہ نہیں سیارچہ تھا‘

جہنم جیسا وینس (زہرہ)

وینس یا زہرہ نظام شمسی کا سب سے زیادہ غیر مہمان نواز مقام ہے۔ وینس ایک طرح سے جہنم کی تصویر پیش کرتا ہے۔ وینس کی فضا بہت گہری ہے اور زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہے۔ وینس کا فضائی دباؤ زمین کے مقابلے میں 90 گنا زیادہ ہے۔

اس صورتحال کی وجہ سے سورج کی تابکاری اس کی فضا میں پھنس جاتی ہے اور وینس پر درجہ حرارت 460 سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ لہٰذا اگر آپ وہاں جائیں تو چند سیکنڈ میں ہی جل جائیں گے اور کچلے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وینس یا زہرہ کو ہمارے نظامِ شمسی کا سب سے زیادہ غیر مہمان نواز سیارہ تصور کیا جاتا ہے

وینس پر بارش انتہائی زہریلے سلفیورک ایسڈ یا گندھک کے تیزاب کی ہوتی ہے جو کسی بھی مسافر کی جلد یا خلائئ سوٹ کو جلا دے گی۔ سیارے کے انتہائی زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے یہ بارش سطح تک پہنچنے سے پہلے ہی بخارات میں بدل جاتی ہے۔

لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ حیران کن طور پر وینس پر برف بھی ملتی ہے۔ مگر یہ وہ برف نہیں جس کے گولے بنا کر آپ ایک دوسرے پر پھینک سکتے ہیں۔ یہ دراصل وینس کی فضا میں بخارات میں تبدیل ہو جانے والی دھاتوں کی باقیات ہیں۔

ہنگامہ خیز نیپچون

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سیارہ نیپچون کی سطح کا ایک تصوراتی خاکہ

ہمارے نظام شمسی کے دوسرے سرے پر آپ کے پاس گیس سے بنے بڑے سیارے یورینس اور نیپچون ہیں۔

یہ سیارہ زمین سے سب سے زیادہ دوری پر واقع ہے اور یہ جمی ہوئی میتھین کے بادلوں اور نظام شمسی میں سب سے خطرناک ہواؤں کا گھر ہے جن کی رفتار آواز کی رفتار سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

سیارے کی سطح کے کافی حد تک ہموار ہونے کی وجہ سے میتھین ہواؤں کی رفتار کو کم کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، چنانچہ ان کی رفتار 2,400 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہیں۔

جب کوئی چیز آواز کی حدِ رفتار سے زیادہ تیز ہوجائے تو ایک دھماکہ خیز آواز پیدا ہوتی ہے اور وہ آپ یہاں آسانی سے سن سکتے ہیں۔ ساتھ ساتھ یہاں پہنچنے والے کو ہیروں کی بارش کا بھی تجربہ ہو گا جس کی وجہ فضا میں موجود کاربن کا دبنا ہے۔

لیکن آپ کو برستے ہوئے ہیروں کے سر پر گرنے کا کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ آپ پہلے ہی منفی 200 ڈگری سنٹی گریڈ درجہ حرارت میں جم چکے ہوں گے۔

نظام شمسی سے باہر کے سیارے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سیارہ مشتری یا جوپیٹر کا ایک تصوراتی خاکہ

ٹام لاؤڈن برطانیہ کی واروِک یونیورسٹی میں محقق ہیں اور ان کا کام یہ معلوم کرنا ہے کہ دوسرے سیاروں پر ماحول کی صورتحال کیا ہے۔

ان کے مطابق ’وینس کی بالائی فضا زمین سے دور رہنے کے لیے شاید سب سے مناسب مقامات میں سے ایک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سلفیورک ایسڈ کے بادلوں سے اوپر ایک ایسا مقام بھی آتا ہے جہاں فٰضا کا دباؤ زمین جیسا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آپ اس فضا میں سانس تو نہیں لے سکیں گے پر اگر آپ نے آکسیجن ماسک پہنا ہو تو شاید اس مقام پر آپ کا گزارا ہو جائے۔‘

لاؤڈن کو ایگزو پلینٹس یا ایسے سیاروں پر مہارت ہے جو ہمارے نظامِ شمسی سے باہر گردش کرتے ہیں، خاص طور پر HD 189733b نامی سیارے میں۔

HD 189733b ہم سے 63 نوری برس دور گہری نیلی دنیا ہے۔ اس کا موسم شاید کسی بھی سیارے کے موسم سے زیادہ خطرناک ہے۔ دیکھنے میں خوبصورت لیکن تباہ کن حد تک خطرناک۔

یہاں ہواؤں کی رفتار 8,000 کلو میٹر فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے اور ہماری زمین کے مقابلے میں یہ سیارہ اپنے سورج سے 20 گنا زیادہ قریب ہے، چنانچہ اس کی فضا میں درجہ حرارت 1600 ڈگری سنٹی گریڈ ہے یعنی پگھلے ہوئے لاوا جتنا۔

زمین جیسی کوئی جگہ نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لاؤڈن کہتے ہیں کہ ’اس سیارے پر ہماری زمین کے پتھر مائع یا بخارات میں بدل جائیں گے۔‘ اس کے علاوہ یہاں پر پگھلے ہوئے شیشے کی برسات بھی ہوتی ہے، صرف اوپر سے نہیں بلکہ اطراف سے بھی۔

لاؤڈن کا کہنا ہے کہ زمین کے سائز کے سیارے کائنات میں ’ایم ڈوارف‘ یا ’ریڈ ڈوارف‘ کہلانے والے ستاروں کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ ان پر زندگی ممکن ہے یا نہیں، یہ الگ سوال ہے۔

کسی سیارے کے مناسب حد تک گرم ہونے اور یہاں مائع کی موجودگی کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے مدار کا دورانیہ اور اس کے اپنے ہی محور پر گھومنے کا دورانیہ ایک ہی جیسا ہو۔ اسے ٹائیڈل لاکنگ کہتے ہیں اور ہمارا چاند ہماری زمین کے گرد ایسے ہی گردش کرتا ہے۔

یوں آپ کو ایک حصے پر مستقل سورج کی روشنی اور دوسرے حصے پر مستقل رات ملتی ہے۔

’جب آپ کمپیوٹر ماڈلز بناتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ طوفان دن سے رات والے حصے میں داخل ہوتے ہیں۔ دن والی جانب کوئی بھی مائع پانی بخارات بن کر بادل بن جائے گا، رات والی جانب جا کر جم جائے گا اور پھر برفباری ہوگی۔ چنانچہ آپ کے پاس ایک جانب صحرا اور دوسری جانب آرکٹک جیسا ماحول ملے گا۔‘

لہٰذا اب تک جو دیکھا گیا ہے، اس کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ زمین جیسی کوئی جگہ نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں