چھاتی کے کینسر سے آگاہی کا مہینہ: گمنام ہیرو جس نے چھاتی کے سرطان کے ہزاروں مریضوں کو بچایا

ڈاکٹر ویرا پیٹرز تصویر کے کاپی رائٹ University of Toronto Archives
Image caption ڈاکٹر ویرا پیٹرز مریضوں کی رائے مقدم رکھتی تھیں

انھوں نے ہزاروں ایسی خواتین کی زندگی بدلی جنہیں چھاتی کا کینسر تھا، اگرچہ اس وجہ سے وہ بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بھی بنیں۔

آپ نے شاید ان کا نام نہیں سنا ہوگا تاہم ان کے کیے گئے کام کا آج دنیا بھر میں کینسر کے مریضوں کے علاج میں اہم اثر نظر آتا ہے۔

کینیڈین ڈاکٹر ویرا پیٹرز نے اس زمانے میں مریضوں کی رائے کو اہمیت دی جب دیگر ڈاکٹر کسی مریض کے بیماری کے بارے میں خوف اور پریشانی کا کم ہی نوٹس لیا کرتے تھے۔

کینسر سے آگاہی کے مہینے میں ہم آپ کو اس گمنام ہیرو کی کہانی سنائیں گے جنہوں نے ہمیشہ اپنے مریضوں کو مقدم رکھا۔

مزید پڑھیے

’پاکستان میں نوجوان لڑکیوں میں بریسٹ کینسر بڑھ رہا ہے‘

چھاتی کے سرطان کی تشخیص، لیموں کی مدد سے

خون کے ذریعے سرطان کی تشخیص ’اہم طبی سنگِ میل‘

ایک بہترین سرجری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹر پیٹرز نے اس بات پر زور دیا کہ چھاتی کے سرطان کے علاج کے لیے سرجری میں کم آلات کا استعمال کریں

لیکن اس کے لیے ہمیں پہلے اس دور کو دیکھنا ہو گا جو ڈاکٹر پیٹرز کے آنے سے پہلے کا تھا اور اس وقت سرطان کے لیے کیا طریقہ علاج تھا۔

20ویں صدی میں طویل عرصے تک چھاتی کے سرطان کے ابتدائی مرحلے میں بھی چھاتی کو کاٹ دیا جاتا تھا جو کہ مریضوں کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔

اس عمل میں نہ صرف کینسر کی رسولی بلکہ جلد، نپل، بغل کی بافتیں حتیٰ کہ سینے کے پٹھوں کو بھی کاٹ دیا جاتا تھا۔

اس سے مرض کا علاج تو ہو جاتا تھا مگر خواتین کا جسم بے ڈھنگا ہو جاتا تھا۔ بازوؤں کے نیچے سوجن کے ساتھ دیگر جسمانی مسائل ہو جاتے تھے۔

نفسیاتی اثرات کی جانچ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 20ویں صدی میں کینسر کی صورت میں چھاتی کو کاٹ دیا جاتا تھا

اس عمل سے خواتین مریضوں پر نفسیاتی اثرات بھی مرتب ہوتے تھے۔ ان کی نسوانیت اور جنسیت پر اثر پڑتا تھا۔

علاج کا یہ طریقہ جسے ریڈیکل ماسٹیکٹومی کہا جاتا تھا امریکی سرجن ولیم ہالسٹڈ نے وضع کیا تھا اور یہ 19ویں صدی کا آخری دور تھا۔ اس کے 100 سال بعد اب بھی بہت سے ڈاکٹر اسے بہترین سرجری کہتے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں جینیفر انگرام، ڈاکٹر پیٹرز کی بیٹی اور ڈاکٹر انتاریو نے بتایا کہ یہ ہی سرجنز کی روزی روٹی تھی۔ یہ سادہ اور آسان تھا۔ اس میں کچھ پیچیدگیاں بھی تھیں۔ کیونکہ جن لوگوں کا آپریشن ہو رہا تھا وہ یا درمیانی یا جوان عمر کی خواتین تھیں۔

لیکن ڈاکٹروں نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ اس کا ان مریضوں پر ان کے شوہر پر اور ان کے آپس کے تعلقات پر کیا اثر پڑا۔ ایک بار جب سرجری ہو جاتی تھی اور مریضہ ٹھیک ہو جاتی تھی پھر وہ چلی جاتی تھیں اور ڈاکٹر کو ان کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہوتی تھی۔

‘وہ چھاتی کے بغیر جائیں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چھاتی کو جسم سے الگ کرنے کا عمل تاریخ میں ہوتا رہا ہے

ایک وقت تھا جب مریضوں خاص طور پر خواتین مریضوں کی اپنی صحت کے بارے میں بات کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی تھی۔

بلکہ ڈاکٹر انگرام کا کہنا ہے کہ جو رائے کا اظہار کرتی تھیں انھیں پاگل کہا جاتا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ کی چھاتی میں کوئی گلٹی ہے اور آپ ڈاکٹر کے پاس گئی ہیں جنھوں نے آپ کو پھر سرجن کے پاس بھجوایا ہے وہ آپ کو بتائے گا کہ یہ کینسر بھی ہو سکتا ہے۔ اور پھر وہ آپ کو بتائے گا کہ آپ کے ساتھ آگے کیا ہوگا۔

ڈاکٹر انگرام کا کہنا ہے کہ عام طور مرد سرجن خواتین کو کمزور اور آسانی سے پریشان ہونے جانے والی سمجھ کر بات کر رہے ہوتے ہیں۔

لیکن اس رویے کے حوصلہ شکن اثرات کا تجربہ ویرہ پیٹرز کو بھی تھا جنہیں خود اس کا سامنا کرنا پڑا۔

بریسٹ کینسر کی فیملی ہسٹری

تصویر کے کاپی رائٹ Jennifer Ingram
Image caption ماں سے متاثر ہونے والی ڈاکٹر پیٹرز کی بیٹی جینیفر نے بھی شعبہ طب کواپنایا

پیٹرز نے سنہ 1933 میں اپنی والدہ کو کھو دیا جو طویل عرصے تک اسی بیماری سے لڑتی رہیں۔ اس واقعے نے ان پر بہت گہرا اثر ڈالا۔

یہ خاندان ٹورونٹو میں ایک ڈیری فارم میں رہتا تھا۔ پیٹرز نے ہائی سکول 16 برس کی عمر میں مکمل کر لیا تھا۔

سنہ 1979 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ انھوں نے پہلے فزکس اور حساب میں داخلہ لیا لیکن پھر انھوں نے یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے شعبہ طب میں داخلہ لے لیا۔

پیٹرز سنہ 1935 میں 100 کی کلاس میں ان دس لڑکیوں میں سے ایک تھیں جو ڈاکٹر بنیں۔

پھر جلد ہی پیٹرز نے ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر گورڈن ای ریچرڈز کے ہمراہ کام کرنا شروع کیا جنھوں نے ٹورونٹو کے جنرل ہسپتال میں ان کی والدہ کا بھی شعاعوں کے ساتھ علاج کیا تھا۔

دو تہائی مریضوں کو شعاعیں لگانے کے لیے ہسپتال کے ریڈیو تھراپی انسٹی ٹیوٹ میں بھجوایا جاتا تھا۔ پیٹرز نے دیکھا کہ کچھ مریض کتنی پریشان حال ہوتی تھیں۔

لاعلاج لوگوں کا علاج

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویرا کی بیٹی بتاتی ہیں کہ اگر آپ کو کینسر ہے تو آپ کو بتایا جائے گا کہ آپ کے ساتھ کیا ہونے والا ہے

لیکن ڈاکٹر پیٹرز کی پہلی کامیابی چھاتی کے سرطان کی فیلڈ میں نہیں تھی۔ بلکہ یہ خون کے سرطان کی ایک قسم ہوڈکن کے علاج میں تھی۔

سنہ 1950 میں ڈاکٹر پیٹرز کا ایک ریسرچ پیپر شائع ہواجس میں انھوں نے دلائل دیے کہ کیسے ایک مرض کو ایک خاص انداز میں زیادہ مقدار میں شعاعیں لگانے سے علاج کیا جا سکتا ہے۔ اس پر انھیں بہت تنقید کا شنانہ بنایا گیا اور ایک دہائی تک شعبہ طب میں ان کی اس رائے پر یقین نہیں کیا گیا۔

سنہ 1979 میں اپنے انٹرویو کے دوران انھوں نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی آپ ایسی رائے دیں جو پہلے سامنے نہ آئی ہو تو آپ پر بہت زیادہ تنقید ہوتی ہے اور اس پر زیادہ تر یقین نہیں کیا جاتا۔

ڈاکٹر رچرڈ کی ہلاکت شعاعوں کی وجہ سے سنہ 1949 میں ہوئی اور ڈاکٹر پیٹرز کے ہم خیالوں نے کہا کہ وہ خود اپنے کام میں بھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔

ڈاکٹر انگرام کا کہنا ہے کہ کچھ نے کہا کہ ان کی کامیابیاں عارضی تھیں اور انھیں چاہیے کہ وہ جا کر خواتین سے متعلق کام کریں۔

ہر جانب سے لوگ آئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹر پیٹرز کی رائے اور اخذ کردہ نتائج کو تسلیم کرنے میں طب کی دنیا کو 40 برس لگے

سنہ 1958 میں وہ پرنسز ہسپتال میں چلی گئیں۔ وہ خواتین کی چھاتی میں موجود رسولی کو شعاعوں کے ذریعے ختم کرتی تھیں۔

ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ پھر آہستہ آہستہ اس خاتون کے حق میں بات ہونے لگی جو شعاعوں کے ذریعے کینسر کے علاج کو جانتی تھیں۔

لوگوں نے انھیں رائے کے لیے بلانا شروع کر دیا۔ پھر دھیرے دھیرے وہ آپریشن کے بغیر بہت سی عورتوں کا علاج کرنے لگیں۔

آپریشن کے ذریعے چھاتی کو جسم سے الگ کرنے کے فوائد پر پہلے ہی رائے منقسم تھی۔ یورپ میں کچھ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ کم سخت طریقہ علاج ہونا چاہیے جیسا کہ سرجری جس سے رسولی کو نکال دیا جاتا ہے اور چھاتی کے گرد کچھ بافتوں کو الگ کیا جاتا ہے۔

مگر کینیڈا میں نہیں

1976 کے اوائل میں ڈاکٹر پیٹرز نے اس موضوع پر حاصل کردہ نتائج پر لکھنا شروع کیا۔ پھر سنہ 1975 میں انھوں نے ایک وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت کی جس میں 8000 مریضوں کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔ ان مریضوں کا علاج سنہ 1939 سے سنہ 1969 کے درمیان کیا گیا تھا۔

اس سے پتہ چلا کہ کینسر میں مبتلا مریض جو سرجری کے عمل سے گزریں ان کا بیماری سے صحت یاب ہونے کا تناسب اس سے زیادہ نہیں تھا جنھوں نے کم سخت طریقہ علاج استعمال کیا۔

ان نتائج کے باوجود ان پر شک کیا گیا۔

‘وہ اس پر اعتماد نہیں کر سکتے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ University of Toronto Archives
Image caption ڈاکٹر پیٹرز کہتی ہیں کہ کچھ مریض خواتین چھاتی کے کاٹ دیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتی تھیں

ڈاکٹر انگرام کا کہنا ہے کہ انھوں نے سنہ 1975 میں کینیڈا کے رائل کالج میں اپنی والدہ کا ایک لیکچر سنا جو کہ فزیشنز اور سرجن کے لیے تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ کمرہ سوٹڈ بوٹڈ مردوں سے بھرا ہوا تھا اور ان کے سامنے ایک ننھی سی خوش لباس خاتون موجود تھیں۔ جو کہ سرجن نہیں تھیں۔ سامعین میں سے ہر ایک سکتے میں تھا۔ انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ انہیں سننا پڑے گا کہ سرجری ہی بہترین طریقہ علاج نہیں ہے۔

ڈاکٹر انگرام کا کہنا ہے کہ سرجن اکھٹے ہوئے اور انھوں نے انھیں ایسے تاثر دیا جیسے وہ کوئی عجیب مخلوق ہوں۔ مطلب یہ کہ رائج طریقوں سے ہٹ کر کوئی بھی سرجن اگر علاج کرے گا تو وہ اپنے ہی کریئر کو تباہ کرے گا یا خطرے میں ڈالے گا۔

اس کے بعد بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ڈاکٹر پیٹرز نے پرنسز میری ہسپتال سے استعفیٰ دے دیا۔ وجہ یہ تھی کہ ہسپتال اب یہ چاہ رہا تھا کہ خواتین کو یہ ڈیوٹی دی جائے کہ وہ مریضہ کی چھاتی کو کاٹیں۔

اور ڈاکٹر پیٹرز کا خیال تھا کہ اس قسم کی کوششیں خواتین کے لیے غیر ضروری تکلیف کی وجہ ہیں۔ ان کی تحقیق کے نتائج سنہ 2002 تک شائع نہیں ہو سکے اگرچہ وہ تصدیق شدہ تھی۔

‘اپنے مریضوں کی دیکھ بھال کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Jennifer Ingram
Image caption ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاکٹر پیٹر آرڈر آف کینیڈا کی ممبر بنیں

آج ڈاکٹر پیٹرز کی وجہ سے بہت کم خواتین کی چھاتی کا آپریشن ہوتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود ڈاکٹر پیٹرز کے کاموں اور خدمات کا اعتراف مکمل طور پر ان کی زندگی کے آخری سالوں میں کیا جانا شروع ہوا۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں آرڈر آف کینیڈا کا ممبر بنایا گیا پھر انھیں آفیسر آف دی آڈر آف کینیڈا کا رینک ملا۔ یہ 1970 کی دہائی کے دوران ہوا جب کینیڈا میں انسانیت کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔

پھر سنہ 2010 میں انہیں وفات کے بعد کینیڈا یورپ اور امریکہ میں متعدد میڈلز اور اعزازی طور پر ڈاکٹریٹ کی دو ڈگریاں دی گئیں۔

سنہ 1984 میں ڈاکٹر پیٹرز نے خود اپنی بیماری کی تشخیص کی کہ وہ چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہو چکی تھیں ان کی چھاتی کو مکمل طور پر نہیں الگ کیا گیا تھا بلکہ متاثرہ حصے کو الگ کیا گیا تھا۔ لیکن نو برس بعد 82 برس کی عمر میں وہ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہوئیں۔ وہ تین ماہ تک پرنسز مارگریٹ ہسپتال میں رہیں جہاں انھوں نے اپنے کرئیر کا زیادہ تر وقت گزارا تھا۔

ڈاکٹر انگرام کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ ایسی خاتون نہیں تھیں جو توجہ کی متلاشی ہوں اور ان کا مقصد یہ باور کروانا تھا کہ علاج کرنے والی خواتین کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ کے لیے کافی تھا کہ ان کے مریض ان سے محبت کرتے تھے۔

وجہ یہ تھی کہ وہ علاج کے طریقے کے بارے میں فیصلہ کرنے میں مریض اور اس کے خاندان کو شامل کرتی تھیں۔

سنہ 1979 میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ بہترین متبادل راستے کا فیصلہ کرتے ہوئے آپ کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور بہترین مدد آپ کو اپنے مریض سے مل سکتی ہے۔

وہ کہتی تھی کہ مریض کے خوف اور اس کے حوصلے اور ہمت کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ کیونکہ بہرحال مریض جتنا خود کو خود جانتا ہے اتنا اسے کوئی نہیں جان سکتا۔

معالج کو مریض پر دھیان دینے کی ضرورت ہوتی ہے ان کی بات کو سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ مریض کی اہمیت معالج سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں