نئی سائنسی تحقیق: موٹاپے کے شکار افراد میں ممکنہ طور پر دمے کا خطرہ زیادہ

موٹاپا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سائنسدانوں نے زیادہ وزن اور موٹاپے کے شکار افراد کے پھیپھڑوں میں پہلی مرتبہ چربی کے ریشوں کی موجودگی کا پتہ چلایا ہے۔

آسٹریلوی محققین نے 52 افراد کے پھیپھڑوں کے نمونوں کا معائنہ کیا اور اور دیکھا کہ باڈی ماس انڈیکس یعنی جسمانی وزن میں اضافے کے ساتھ ساتھ چربی کی مقدار میں اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق یہ نتائج شاید ہمیں یہ سمجھا سکیں کہ موٹاپے کی وجہ سے دمے کے مرض کا خطرہ کیونکر بڑھ جاتا ہے۔

پھیپھڑوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہو گا کہ کیا وزن گھٹانے سے اس عمل کو واپس کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

سانس کے امراض سے متعلق جریدے، یورپیئن ریسپیریٹری جرنل‘ میں شائع ہونے والی اس ریسرچ میں سائنسدانوں نے تحقیق کے لیے عطیہ کیے گئے پھیپھڑوں کے نمونوں کا جائزہ لیا۔

یہ بھی پڑھیے

ذہنی دباؤ سے موٹاپا کیوں ہوتا ہے؟

موٹاپا تمباکو نوشی سے زیادہ کینسر کا باعث

بڑھتی عمر کے ساتھ وزن گھٹانا مشکل کیوں ہو جاتا ہے؟

یہ نمونے ان افراد سے لیے گئے تھے جن میں سے 15 نے دمے کی شکایت نہیں کی تھی، 21 کو دمہ تھا مگر ان کی موت دیگر وجوہات کی وجہ سے ہوئی جبکہ 16 کی ہلاکت دمے کی وجہ سے ہوئی تھی۔

سائنسدانوں نے خوردبین کے ذریعے پھیپھڑوں کے ان نمونوں سے ہوا کی تقریباً 1400 نالیوں کا جائزہ لیا۔

انھیں ہوا کی نالیوں کی دیواروں میں ایڈیپوز یعنی چربی کے ٹِشوز یا ریشے ملے جن کی تعداد زیادہ باڈی ماس انڈیکس والے افراد میں زیادہ تھی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چربی میں اضافہ ہوا کی نالیوں کی عمومی ساخت کو تبدیل کر دیتا ہے اور پھیپھڑوں میں سوجن پیدا کر دیتا ہے جو شاید زیادہ وزن والے یا موٹاپے کے شکار افراد میں دمے کی توجیہہ پیش کر سکے۔

’پھیپھڑوں پر براہِ راست دباؤ‘

آسٹریلیا کے شہر پرتھ کی یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر پیٹر نوبل نے بھی اس تحقیق پر کام کیا۔

وہ بتاتے ہیں ’زیادہ وزن یا موٹاپے کو پہلے ہی دمہ ہونے یا دمے کی علامات میں شدت سے منسلک پایا جا چکا ہے۔‘

محققین کا خیال ہے کہ یہ تعلق پھیپھڑوں پر زیادہ وزن کے براہِ راست دباؤ یا پھر زیادہ وزن کی وجہ سے سوجن میں عمومی اضافے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

مگر ان کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیق یہ اشارہ دیتی ہے کہ ’ایک اور چیز بھی مصروفِ عمل ہے۔‘

’ہم نے دیکھا کہ اضافی چربی ہوا کی نالیوں کی دیواروں میں جمع ہو جاتی ہے جہاں یہ جگہ گھیرتی ہے اور ممکنہ طور پر پھیپھڑوں کے اندر سوجن میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔‘

’ہمیں لگتا ہے کہ اس سے ہوا کی نالیوں کی موٹائی میں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے پھیپھڑوں میں ہوا کی آمدورفت محدود ہوجاتی ہے اور یہ دمے کی علامات میں اضافے کی جزوی توجیہہ ہو سکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تحقیق کتنی اہم ؟

یورپیئن ریسپیریٹری سوسائٹی کے صدر پروفیسر تھیری ٹروسٹرز کہتے ہیں کہ یہ جسمانی وزن اور سانس کی بیماریوں کے درمیان تعلق کے بارے میں ایک اہم انکشاف ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ وزن یا موٹاپا ممکنہ طور پر دمے کے شکار افراد کی علامات میں شدت پیدا کر رہا ہو۔‘

’یہ اس عام مشاہدے سے بڑھ کر ہے جس کے مطابق موٹے افراد کو زیادہ متحرک ہو کر ورزش کے ذریعے زیادہ سانس لینا چاہیے۔‘

’یہ مشاہدات موٹاپے کی وجہ سے ہوا کی نالیوں میں ہونے والی حقیقی تبدیلیوں کی جانب بھی اشارہ کرتی ہیں۔‘

روفیسر تھیری ٹروسٹرز کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کیا چربی جمع ہونے کے اس عمل کو وزن گھٹا کر واپس کیا جا سکتا ہے یا نہیں مگر دمے کے مریضوں کی ایک صحت مند وزن کے حصول کے لیے مدد کی جانی چاہیے۔

برٹش تھوریسک سوسائٹی کی سائنس کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر الزبیتھ سیپی کہتی ہیں کہ یہ مشاہدہ پہلی مرتبہ کیا گیا ہے کہ جسمانی وزن سے پھیپھڑوں کی نالیوں کی ساخت میں تبدیلی ہوتی ہے۔

وہ کہتی ہیں ’ملکی اور عالمی سطح پر وزن میں اضافے کی بڑھتی ہوئی شرح کو دیکھتے ہوئے یہ تحقیق ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ دمہ کیوں اب بھی صحت کا اتنا بڑا مسئلہ ہے اور اس سے ہمیں دمے کے علاج کے نئے طریقے تلاش کرنے میں بھی مدد ملے گی۔‘

تاہم ڈاکٹر سیپی کا کہنا ہے ’یہ ایک چھوٹی تحقیق ہے اور ہمیں اسے مریضوں کے بڑے گروہوں پر دہرانے اور پھیپھڑوں کے دیگر امراض پر آزمانے کی ضرورت ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں