سگریٹ چھوڑ کر ویپنگ پر جانا ’دل کے لیے بہتر‘ ہوسکتا ہے

ویپنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سگریٹ نوش افراد اگر الیکٹرک سگریٹ یا ای سگریٹ پر منتقل ہو جائیں تو وہ اپنے دل کی صحت محض چند ہفتوں میں بہتر بنا سکتے ہیں۔

ایک ماہ تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں 114 سگریٹ نوشوں نے حصہ لیا اور نتائج کے مطابق ویپنگ سے ممکنہ طور پر دل کے دورے اور فالج کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ویپنگ ’مکمل طور پر محفوظ نہیں‘ تاہم یہ تمباکو سے کم خطرناک ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ سگریٹ نوشی چھوڑنا ہی آپ کی صحت کے لیے بہترین عمل ہو سکتا ہے۔

سگریٹ کے دھوئیں سے شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں کیونکہ اس میں موجود کیمیائی مادے جسم کی چربی کے ساتھ چپک جاتے ہیں۔ اس سے خون کی روانی میں ایک خطرناک رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سگریٹ نوشی سے ہارٹ اٹیک کے خطرات دو گنا ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ویپنگ کیا ہے؟

ویپنگ: ای سگریٹ کتنے مشہور اور مقبول ہیں؟

امریکہ میں ای سگریٹ کے استعمال سے پہلی موت

انڈیا نے ای سگریٹ کی تیاری پر پابندی عائد کر دی

تاہم محققین کہتے ہیں کہ ویپنگ سے متعلق موجودہ ثبوت ’قابل اعتماد نہیں‘ اور اکثر یہ محض اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ایک ای سگریٹ کا دل کی صحت پر کیا اثر ہوتا ہے۔

اس لیے انھوں نے لوگوں کے ای سگریٹ پر منتقل ہونے کے ایک ماہ بعد ان کے خون کی شریانوں کا معائنہ کیا ہے۔

محققین نے اپنی توجہ اس بات پر مرکوز رکھی کہ جب شریانوں سے خون گزرتا ہے تو وہ کتنی پھیلتی ہیں تاکہ اس سے دل کی صحت کا اندازہ لگایا جا سکے۔

اس کی پیمائش ’فلو میڈی ٹیٹڈ ڈائلیشن‘ کے نام سے کی جاتی ہے۔

خون کی شریانیں جتنا پھیل سکیں، وہ اتنی ہی زیادہ صحت مند تصور کی جاتی ہیں۔ خون کی شریانوں کے پھیلنے اور ہارٹ اٹیک یا سٹروک کے طویل مدتی خطرات کے درمیان ایک مثبت تعلق پایا گیا ہے۔

جرنل آف کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے نتائج کے مطابق:

صحت مند اور سگریٹ نہ پینے والے افراد کا سکور 7.7 فیصد

سگریٹ پینے والوں کا سکور 5.5 فیصد

ای سگریٹ پینے والوں کا سکور 6.7 فیصد

اس طرح سگریٹ نوش جب ویپنک کی طرف آئے ہیں تو ان کا سکور صحت مند افراد کے قریب پہنچ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تحقیق میں شامل پروفیسر جیکب جارج کہتے ہیں کہ ’یہ اتنے معمول کی بات نہیں ہے، لیکن صرف ایک ماہ میں ان کی خون کی روانی بہتر ہو گئی ہے۔‘

یہ تحقیق ابھی خاصے مختصر عرصے پر کی گئی ہے اور اس سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ آیا صحت میں ایسی بہتری کو طویل مدت کے لیے برقرار رکھا جا سکتا ہے یا ویپنگ سے زندگیاں بچ سکتی ہیں۔

یہ بات قابل غور ہے کہ ویپنگ کرنے والوں کا سکور بھی نارمل نہیں۔

پروفیسر جارج نے کہا ہے کہ ’یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ویپنگ کے آلات استعمال کے لیے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔ اور سگریٹ نہ پینے والوں اور بچوں کو ان آلات کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔‘

’ہمارے پاس اب واضح ثبوت ہے کہ یہ (ای سگریٹ) تمباکو والے سگریٹ سے کم نقصان دہ ہیں۔‘

ویپنگ یا الیکٹرک سگریٹ سے ممکنہ خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک برطانوی نوجوان نے گذشتہ ہفتے بی بی سی کو بتایا تھا کہ کس طرح ان کے استعمال کی وجہ سے وہ تقریباً اپنی جان گنوانے بیٹھے تھے۔

ویپنگ کے لیے استعمال ہونے والے الیکٹرک آلات سے ان کے پھیپھڑوں میں رد عمل شروع ہو گیا تھا۔ اس سے انھیں سانس لینے میں دشواری پیش آئی اور انھیں زندہ رکھنے کے لیے مصنوعی پھیپھڑے کا استعمال کرنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

لیکن مجموعی طور پر برطانیہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ ویپنگ سگریٹ نوشی سے 95 فیصد کم نقصان دہ ہے۔ یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ سگریٹ نوش افراد کو ویپنگ پر منتقل ہو جانا چاہیے اور سگریٹ نہ پینے والوں کو ویپنگ نہیں کرنی چاہیے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق روزانہ ملک میں اوسطاً 50 افراد سگریٹ کی وجہ سے دل کی بیماریوں سے مر جاتے ہیں۔

تنظیم نے کہا ہے کہ ’آپ سگریٹ نوشی چھوڑ کر اپنے دل کی صحت کے لیے بہترین قدم لے سکتے ہیں۔‘

پروفیسر جان بریٹون یونیورسٹی آف نوٹنگھم سے منسلک ہیں اور برطانیہ میں تمباکو اور شراب پر ہونے والی تحقیق کے ادارے کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس تحقیق سے ایک واضح ثبوت ملتا ہے کہ سگریٹ نوشی سے ویپنگ کی طرف آنے سے دل کے امراض کے خطرات میں کمی ہو سکتی ہے۔‘

’تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ ویپنگ سگریٹ نوشی سے کم نقصان دہ ہے۔ یہ بات بظاہر درست ہے کیونکہ ویپنگ کے مقابلے میں سگریٹ کے دھوئیں میں کیمیائی مادے کم ہوتے ہیں۔‘

اسی بارے میں