کیا یہ دنیا کے سب سے گول مٹول جانور ہیں؟

سیہہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دنیا میں کئی جانور ہیں جو قدرتی طور پر گول شکل کے ہیں۔

آپ کو لگتا ہوگا کہ یہ ایک چھوٹی گیند کی طرح ہیں اور ان کے ساتھ کھیلا جا سکتا ہے، لیکن اپنی اس شکل کی بدولت یہ ماحول میں اپنی بقا کو یقینی بناتے ہیں۔

یہاں ہم آپ کو ایسے گول جانوروں کے بارے میں بتائیں گے جو اپنی اس خاص شکل کی وجہ سے معروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا کے پانچ چالاک ترین جانور

17 لاکھ پاؤنڈ کا کبوتر، 9 لاکھ پاؤنڈ کا کتا اور۔۔

حیاتیاتی تنوع میں زوال سے خوراک کی کمی کا خطرہ

پفر مچھلی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پفر مچھلی اپنے دفاعی انداز میں کچھ ایسی نظر آتی ہے

پفر مچھلی کو ’بلو فش‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہ ہماری فہرست میں پہلا گول جانور ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مچھلیاں گول کیوں ہیں؟ دراصل یہ بلو فش کا دفاعی انداز ہے۔ کسی شکاری سے پچنے کے لیے یہ مچھلیاں ایسا روپ اختیار کر لیتی ہیں۔

بلو فش اپنے لچکدار پیٹ میں پانی جمع کر لیتی ہیں جس سے وہ اپنی جسامت سے بڑی ہوجاتی ہیں اور انھیں کھانا مشکل ہو جاتا ہے۔

گیند جیسی یہ مچھلیاں شاید دیکھنے میں پیاری لگتی ہوں لیکن انھیں ہاتھ لگانا ایک بڑی غلطی ہو گی۔

پفر مچھلیوں کی 200 سے زیادہ اقسام میں ’ٹیٹروڈو ٹاکسن‘ نامی ایک زہر ہوتا ہے جو زہریلے مادے ’سائنائیڈ‘ سے 1200 گنا زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

کچھ پفر مچھلیوں کی جلد پر کانٹے ہوتے ہیں جو کھانے والوں کا مزہ کِرکِرا کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود ایشیا کے کئی علاقوں میں یہ ایک مرغوب پکوان ہے۔

آرماڈیلو

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آرماڈیلو سے مراد سخت کھال ہے

اگلا گول جانور آرماڈیلو ہے۔ یہ نام ایک ہسپانوی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد ’سخت کھال یا بکتر بند‘ کے ہیں۔

اس جانور کی 21 اقسام ہیں اور ان میں سے سب چھوٹا گلابی رنگ کا آرماڈیلو ہے جو صرف نو سے 12 سینٹی میٹر لمبا ہوتا ہے۔

یہ اکثر نیند میں رہتے ہیں اور ہر دن 16 گھنٹے سو کر گزارتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ جانور فیشن کو ساتھ لے کر چلتے ہیں کیونکہ ان میں سرخ، زرد، سرمئی، سیاہ اور گلابی رنگ کی اقسام ہوتی ہیں۔

بھورے رنگ کا اُلو

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption الو کی یہ نسل اپنے رنگ کی وجہ سے مقبول ہے

بھورے رنگ کے خاص الو کا تعلق برطانیہ میں پائے جانے والے الووں کی سب عام ترین نسل سے ہے۔

وہ اپنے نرم و گداز اور گول مٹول سروں کو 270 ڈگری کے زاویے تک گھما سکتے ہیں جس سے انھیں شکار کرنے میں مدد ملتی ہے۔

نر الو اپنے ساتھی کو بلانے کے لیے ایک طویل ’ہوووو‘ کی سدا لگاتا ہے، جس کے بعد وہ دھیمی آواز میں ایک بار پھر ’ہو‘ کرتا ہے اور پھر اپنے نغمے کو ’ہو ہو ہوووو‘ پر ختم کرتا ہے۔

جواب میں مادہ الو ’کی وِک‘ کہہ کر اپنے ساتھی کی آواز سن کر اس کی طرف کھچی چلی آتی ہے۔

دریائی بچھڑے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ ہٹا کٹا دریائی بچھڑا شکار کے تعاقب میں 30 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ جاتا ہے

ملیے ایک اور گول مٹول اور پیارے جانور سے۔

یہ ہٹا کٹا دریائی بچھڑا ’رنگڈ سیل‘ کہلاتا ہے۔

یہ آبی حیات تنہائی کو ترجیح دیتے ہیں اور صرف افزائشِ نسل کے غرض سے ہی اکھٹے ہوتے ہیں۔ یہ تقریباً 10 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سمندر میں تیر سکتے ہیں لیکن شکار کے تعاقب میں ان کی رفتار 30 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے۔

رنگڈ سیل عموماً 25 سے 30 سال تک زندہ رہتے ہیں۔

خارپشت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس طرح خارپشت کے جسم کے وہ حصے بھی محفوظ رہتے ہیں جن پر خاردار کانٹے نہیں

خارپشت کو دیکھ کر 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والوں کے ذہن میں ویڈیو گیم ’سانک دی ہیج ہاگ‘ کا خیال ضرور آتا ہے۔

یہ جانور شکاریوں سے بچنے کے لیے اپنے جسم کو لپیٹ کر ایک خاردار گیند کی مانند ہو جاتا ہے۔ اس طرح ان کے جسم کے وہ حصے بھی محفوظ رہتے ہیں جن پر کانٹے نہیں۔

یورپ، ایشیا اور افریقہ میں اس جانور کی تقریباً 15 نسلیں پائی جاتی ہیں اور وہ سب کے سب رات کو ہی نکلتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں