#LondonBridge حملہ: جیک میرٹ میں ’زندگی جینے کی تمنا‘ تھی

جیک میرٹ تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN

لندن برِج حملے میں چاقو کے وار سے ہلاک ہونے والے 25 سالہ نوجوان جیک میرٹ کے والد نے اپنے بیٹے کو کچھ یوں بیان کیا ہے: 'ایک خوبصورت نوجوان جس نے ہمیشہ کمزور کا ساتھ دیا۔'

اس حملے میں ایک خاتون بھی ہلاک ہوئیں مگر ابھی تک ان کی شناخت نہیں ہو سکی۔ اس کے علاوہ تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حکام نے اس حملے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے۔

قانون اور جُرمیات میں تعلیم مکمل کرنے والے جیک میرٹ کیمبرج یونیورسٹی کی طرف سے جیل میں بحالی کے پروگرام سے منسلک تھے۔

’لرننگ ٹوگیدر‘ یعنی ’ساتھ پڑھیے‘ نامی یہ پراجیکٹ طالبعلموں اور قیدیوں کو ساتھ پڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے تاکہ جرائم دہرانے کی شرح میں کمی آ سکے۔

جیک کے ساتھ کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ان کو پراجیکٹ سے گہری لگن تھی۔

جیک کا تعلق کیمبرج سے تھا اور سنیچر کو وہاں ان کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں۔ ان کے اہلخانہ، دوستوں اور ساتھ کام کرنے والوں نے انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیے

لندن برج حملہ: چاقو بردار عثمان خان کون تھا؟

لندن: حملہ آور کو دہشت گردی کے جرم میں سزا ہوئی تھی

وہ اس دنیا کے لیے بہت اچھے تھے

ایمیلی ہوپر جیک کے ساتھ سکول میں پڑھتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جیک ایک خوبصورت روح کے مالک تھے اور وہ رحم دل ترین لوگوں میں سے ایک تھے۔

ڈیزی ناک کے مطابق جیک اس دنیا کے لیے بہت اچھے تھے۔

انھوں نے مزید کہا ’وہ ایسی چیز پر یقین رکھتے تھے اور اس کے لیے کام کرتے تھے جو ایک دن ہمارا دنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل دے۔‘

جیک کے ایک دوست کا کہنا تھا کہ مانچسٹر یونیورسٹی اور کیمبرج یونیورسٹی کے گریجویٹ جیک ’انتہائی دلچسپ اور ذہین‘ تھے اور ان میں زندگی کو بھرپور طریقے سے جینے کا جذبہ اپنی عمر کے لوگوں سے کہیں زیادہ تھا۔ انھوں نے دنیا پر اپنا نشان چھوڑنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔

ڈیو نامی ریپر کہتے ہیں جیک ’بہترین شخص‘ تھے اور ان کی ہلاکت کی خبر ’دردناک ترین چیزوں میں سے ایک‘ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جیک نے اپنی زندگی لوگوں کی مدد کرنے میں وقف کر دی‘

ڈیو نے اپنی انعام یافتہ البم اپنے بھائی کرسٹوفر اومورجی کی بحالی پروگرام میں تھراپی سے متاثر ہو کر بنائی جو انھیں قتل کے جرم میں عمر قید کاٹنے پر ملی ہے۔

ڈیو کا کہنا تھا ’جیک نے اپنی زندگی لوگوں کی مدد کرنے میں وقف کر دی اور ان جیسے شخص سے ملاقات کرنا میرے لیے حقیقی طور پر اعزاز تھا۔‘

ڈیو کہتے ہیں کہ جو کچھ جیک نے ان کے لیے کیا، وہ اسے کبھی بھی بھول نہیں سکتے۔

مجرمانہ انصاف برادری کے ممبران کا کہنا ہے کہ وہ جیک کی موت کی خبر سننے پر گہرے صدمے میں ہیں۔

برطانیہ میں قیدیوں کے لیے جیل سے پروگرام نشر کرنے والے ریڈیو نے قیدیوں کو قانون کی وضاحت کرنے والے پوڈکاسٹ بنانے میں مدد کرنے کے لیے 25 سالہ جیک کی کاوشوں کو سراہا۔

’وہ اپنے وقت کو لے کر سخی تھے اور لوگوں کی مدد کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ ہم سب کے لیے ان کی زندگی متاثر کن ہے۔‘

قانونی مبصر جاشوا روزن برگ نے فروری میں بی بی سی کے لیے جیک میرٹ کا انٹرویو کیا جب جیک وارن ہِل جیل میں 'لرننگ ٹوگیدر' پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔

جاشوا کے مطابق جیک ایک اچھے نوجوان تھے جو دوسروں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے پُر عزم تھے۔

وارن ہِل نامی جیل میں جیک کے ساتھ ملاقات کرنے والے وکیل ٹِم سٹوری کا کہنا ہے انھوں نے اپنے ’کام کے ذریعے سے زندگیاں بچائیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’تعلیم کے ذریعے سے قیدیوں کے بچاؤ کے لیے ان کی فراخ دلی، ان کی خواہش اور ان کا عقیدہ ابھر کر سامنے آیا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں