سائبیریا سے 18 ہزار سال پرانا ’کتا‘ دریافت، سائنسدان اچنبھے میں پڑ گئے

سائبیریا، روس، کتا تصویر کے کاپی رائٹ Love Dalen
Image caption محققین کا کہنا ہے کہ یہ جانور کتا، بھیڑیا، یا درمیان کا کوئی جانور ہو سکتا ہے

دنیا کے سرد ترین علاقوں میں سے ایک سائبیریا سے 18 ہزار سال قدیم ایک پِلّا دریافت ہوا ہے جس کے متعلق محققین جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ بھیڑیا ہے یا کتا؟

اس کی موت تقریباً دو ماہ کی عمر میں ہوئی تھی اور یہ روس کے برفانی میدانوں میں حیرت انگیز طور پر صدیوں تک محفوظ رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی بالوں سے بھری جلد، ناک اور دانت تک محفوظ ہیں۔

سائنسدانوں نے اس کے ڈی این اے کا موازنہ دیگر معلوم جانوروں سے کیا ہے مگر وہ اس کی نوع کا پتا لگانے میں ناکام رہے ہیں۔

چنانچہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ جانور بھیڑیوں اور جدید کتوں کے درمیان کی ارتقائی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔

یہ بھی پڑھیے

’ولف ڈاگ‘ کی خاطر بھیڑیوں کی نسل کشی

'انسانوں جیسی پہلی مخلوق' مراکش میں تھی

ڈارون سے ہزار برس قبل ’نظریۂ ارتقا‘ پیش کرنے والا مسلمان مفکر

سائبیریا، روس، کتا تصویر کے کاپی رائٹ Sergey Fedorov
Image caption جب اسے نہایت احتیاط کے ساتھ صاف کیا گیا تو سائنسدانوں نے پایا کہ یہ ابھی تک بالوں سے ڈھکا ہوا تھا

ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کی تکنیک کے ذریعے سائنسدانوں نے یہ معلوم کیا کہ مرنے کے وقت اس کی عمر کیا تھی اور اس کو منجمد ہوئے کتنا عرصہ گزر چکا ہے۔

اس کے جینیاتی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک نر تھا۔

سوئیڈن کے سینٹر فار پیلیوجینیٹکس میں محقق ڈیو سٹینٹن نے سی این این کو بتایا کہ ڈی این اے سیکوئنسنگ میں ناکامی کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ طور پر یہ جانور کتوں اور بھیڑیوں کے مشترکہ جد کی آبادی سے تعلق رکھتا ہو۔

انھوں نے کہا ’ہمیں اس سے پہلے ہی بہت ڈیٹا حاصل ہو چکا ہے اور اتنے زیادہ ڈیٹا کے ساتھ امید ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ کتا ہے یا بھیڑیا۔‘

سائبیریا، روس، کتا تصویر کے کاپی رائٹ Sergey Fedorov
Image caption اس پِلّے کے دانت اور مونچھیں تک محفوظ حالت میں ہیں

سینٹر کے ایک اور محقق لو ڈیلن نے ایک سوال ٹویٹ کیا کہ کیا یہ جانور ایک بھیڑیے کا پِلّا ہے یا ’ممکنہ طور پر آج تک دریافت ہونے والا قدیم ترین کتا۔‘

سائنسدان اس کی ڈی این اے سیکوئنسنگ جاری رکھیں گے اور ان کا ماننا ہے کہ نتائج کتوں کے ارتقا کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتے ہیں۔

اس پِلّے کو ’ڈوگور‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا مطلب روس میں بولی جانے والی یاکوٹ زبان میں ’دوست‘ ہے۔ اس کے علاوہ یہ ’ڈوگ اور وولف؟‘ (کتا یا بھیڑیا؟) سوال کا ابتدائی حصہ بھی ہے۔

جدید کتوں کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ بھیڑیوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں مگر اس بات پر بحث کی جاتی رہی ہے کہ کتوں کو انسان نے سدھا کر اپنے کام میں لانا کب شروع کیا۔

سنہ 2017 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انسانوں نے یہ عمل 20 ہزار سے 40 ہزار سال پہلے کیا ہو گا۔

سائبیریا، روس، کتا تصویر کے کاپی رائٹ Love Dalen
Image caption اس کی دریافت مشرقی سائبیریا میں یاکوٹسک شہر کے نزدیک ہوئی

۔

اسی بارے میں