چندریان 2: ناسا کو چاند پر انڈین خلائی مشن کی باقیات مل گئیں

Nasa picture تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption ناسا نے چاند کے اس حصے کی تصویر بھی جاری کی ہے جہاں سے وکرم لینڈر کا ملبہ ملا

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق اس کے ایک مصنوعی سیارے کو چاند کی سطح سے انڈیا کے وکرم لینڈر کی باقیات ملی ہیں جو رواں برس ستمبر میں چاند پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

ناسا نے چاند کے اس حصے کی تصویر بھی جاری کی ہے جہاں وکرم لینڈر گرا تھا۔ تصویر میں گرنے کے بعد اس جگہ پر ہونے والے اثرات دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ناسا نے اس دریافت کا سہرا ایک انڈین انجینئر شنموگا سبریامنیم کے سر رکھا۔

خیال رہے کہ زمین سے روانگی کے ٹھیک ایک ماہ بعد چندریان-2 نے سات ستمبر کو چاند کے جنوبی قطب کی طرف اترنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

چندریان 2 مشن: انڈیا نے کیا کھویا کیا پایا؟

چندریان 2: کیا انڈیا کا خلائی مشن کامیاب رہا؟

چندریان 2:وکرم لینڈر سے رابطے کی کوششیں جاری

تصویر کے کاپی رائٹ NASA

سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا جب اچانک وکرم لینڈر میں چاند کی سطح سے صرف 2.1 کلومیٹر کے فاصلے پر کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہوئی۔

تکنیکی خرابی کے باعث چاند گاڑی کا گراؤنڈ سٹیشن سے رابطہ منقطع ہوگیا اور اس نے چاند کے جنوبی قطب سے تقریباً 600 کلومیٹر دور، چاند کے ایک نسبتاً قدیم حصے میں ’ہارڈ لینڈنگ ‘ کی، یعنی کنٹرول سے باہر ہو کر چاند کی سطح پر جا گرا۔

وکرم لینڈر کے ملبے کی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے ناسا نے کئی تصاویر کو جوڑ کر بنائی گئی یہ تصویر ٹویٹ کی۔

ستمبر میں ناسا کے ایک خلائی جہاز سے لی گئی تصاویر میں وکرم لینڈر کی لینڈنگ سائٹ کو دکھایا گیا تھا۔

خلائی ایجنسی نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ بہت سارے افراد نے ناسا کی جاری کردہ تصویر ڈاؤن لوڈ کی تھی۔

بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ باقیات کے مقام سے متعلق انڈین انجینیئر سبریمنیم کی جانب سے بھیجی گئی اطلاع موصول ہونے کے بعد ناسا کی ٹیم نے پہلے اور بعد کی تصاویر کا موازنہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ یہ انڈین خلائی مشن کی ہی باقیات ہیں۔

سبریمنیم نے خلائی ایجنسی کی جانب سے بھیجی گئی ایک ای میل بھی ٹویٹ کی ہے جس میں ان کی کوششوں کے لیے انھیں مبارکباد پیش کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے چنئی میں مقیم 33 سالہ انجینیئر نے بتایا ’میں نے اپنے دو لیپ ٹاپس پر ان دونوں تصاویر کے ایک ایک حصے کا موازنہ کیا تھا۔۔۔ ایک طرف پرانی تصویر تھی اور دوسری طرف ناسا کی جاری کردہ نئی تصویر تھی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ خاصا مشکل کام تھا، میں نے اس پر اپنا خاصا وقت صرف کیا۔‘

سبریمنیم نے انڈین چینل این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ انھیں ہمیشہ سے ہی خلائی سائنس میں دلچسپی تھی۔

’چندریان-2‘ کا مشن کیا تھا؟

چندریان 2 انڈیا کے خلائی ادارے ’اِسرو‘ (انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن) کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ تھا۔ خلائی مشن لانچ کرنے کے بعد اپنی تقریر میں اسرو کے سربراہ ڈاکٹر سیوان کا کہنا تھا ’یہ چاند کی جانب انڈیا کے تاریخی سفر کی ابتدا ہے۔‘

اگر یہ مشن کامیاب ہو جاتا تو انڈیا چاند پر ’سوفٹ لینڈنگ‘ کرنے والا چوتھا ملک بن جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس حوالے سے سائنسی موضوعات پر لکھنے والے ادیب پلو باگلا کا کہنا تھا کہ کسی سیارے پر سوفٹ لینڈنگ ایک ایسا مرحلہ ہے جسے اب تک صرف تین ممالک نے عبور کیا ہے اور اگر انڈیا یہ کام کر لیتا تو یہ اس کی ایک بہت بڑی کامیابی ہوتی۔

پلو باگلا کا یہ بھی کہنا تھا ’اگر ایسا ہو جاتا تو انڈیا مریخ پر بھی مشن بھجوا سکتا اور یوں انڈیا کے لیے آئندہ اپنے خلاباز بھیجنا ممکن ہو جاتا۔‘

اس مشن کے لیے تقریبا ایک ہزار انجینیئرز اور سائنسدانوں نے کام کیا تھا اور انڈیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرو نے کسی خاتون کو اس مہم کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

پروگرام کی ڈائریکٹر متھایا ونیتھا نے چندریان ٹو کی نگرانی کی جبکہ ریتو کریدھال اس کی رہنمائی کر رہی تھیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کیا انڈیا خلائی سُپرپاور بن گیا ہے؟

انڈیا اس مشن سے کیا حاصل کرنا چاہتا تھا؟

اس چاند گاڑی ’وکرم‘ کا نام انڈیا کے خلائی تحقیق کے ادارے کے بانی وکرم سرابھائی کے نام پر رکھا گیا تھا اور اس پر 27 کلوگرام وزنی ایسے آلات موجود تھے جن کی مدد سے چاند کی مٹی کا جائزہ لیا جانا تھا۔ یہ آلات چاند گاڑی کے جس حصے میں لگے ہوئے تھے اسے تکنیکی زبان میں ’روور‘ (آوارہ گرد) کہا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر وکرم چاند کی سطح پر موجود دو بڑی بڑی کھائیوں کے درمیان مقررہ مقام پر اترتی تو اس پر لادا ہوا روور چاند کی سطح پر خود بخود چاند گاڑی سے الگ ہو جاتا اور پھر وہاں سے تصویریں اور دیگر معلومات یا ڈیٹا بھیجنا شروع کر دیتا۔ اس روور میں توانائی ختم ہونے میں 14 دن لگتے اور اس دوران یہ چاند گاڑی سے 500 میٹر دور تک گھوم کر سائنسدانوں کو ڈیٹا بھیج دیتا۔

انڈیا کے لیے یہ قومی وقار کا بھی مسئلہ تھا۔۔۔ جب سات ستمبر کی صبح کو وکرم نامی چاند گاڑی اپنی منزل کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی، اس منظر کو انڈیا کے لاکھوں لوگ براہ راست ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دیکھ رہے تھے۔

اسی بارے میں