چین، امریکہ انٹرنیٹ جنگ: ’میں چاہتا ہوں کہ ایک دن گریٹ فائر وال ویسے ہی گرے جیسے برلن وال گری تھی‘

چین، امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گذشتہ سال جولائی میں ہیون جِن سیو بیجنگ آئیں، وہ اپنے سمارٹ فون پر گوگل نیوز دیکھ رہی تھیں کہ ان کی نظر شہر میں واقع امریکی سفارت خانے پر حملے کی متعدد خبروں پر پڑی۔

یونیورسٹی آف کینساس کے شعبہ صحافت میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے فرائض سرانجام دینے والی ہیون جِن اپنے امریکی فون کمپنی کے بین الاقوامی رومِنگ پلان کی بدولت چین کے کڑے ڈیجیٹل میڈیا سنسر کے اثرات سے محفوظ رہیں اور وہ گوگل پر ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں جو چین میں عام عوام کو دستیاب نہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا پر کورسز پڑھانے والی پروفیسر ہیون کہتی ہیں کہ ’میں اپنے چینی دوستوں کو امریکی سفارت خانے کے باہر پھٹنے والے بم کے بارے میں بتا رہی تھی اور انھیں پتا ہی نہیں تھا کہ میں کس بارے میں بات کر رہی ہوں کیونکہ ان کی نیوز فیڈز میں یہ خبر آ ہی نہیں رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ہواوے کے فونز سے گوگل کی بعض سروسز معطل

سنسر: پاکستان بھی سعودی،چینی ماڈل پر عمل پیرا؟

روس کیسے عالمی انٹرنیٹ سے علیحدہ ہو سکتا ہے؟

چین آنے والے ہر غیر ملکی کو ڈیجیٹل پابندیوں اور اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد ملک میں انٹرنیٹ پر کڑی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس کی وجہ سے معروف ماہرین کا خیال ہے کہ کہ مستقبل میں دو منفرد انٹرنیٹ ہو سکتے ہیں، ایک چین کا اور دوسرا امریکہ کا۔

تصویر کے کاپی رائٹ HYUNJIN SEO
Image caption ہیون جِن اپنی امریکی فون کمپنی کے بین الاقوامی رومِنگ پلان کی بدولت چین کے کڑے ڈیجیٹل میڈیا سنسر کے اثر سے بچ نکلیں

یہ تصور گذشتہ سال گوگل کے سابق چیف ایگزیکٹیو ایرک شِمّڈ نے پیش کیا تھا۔

جب ایک نجی تقریب میں ایرک سے ایک ماہرِ معاشیات نے پوچھا کہ کیا انٹرنیٹ کا مختلف پابندیوں کے حامل چھوٹے منفرد ٹکڑوں میں بٹنا ممکن ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’میرا خیال ہے کہ اب سب سے زیادہ امکان انٹرنیٹ کے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹنے کا نہیں بلکہ انٹرنیٹ کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کا ہے، ایک چین کی قیادت میں چلنے والا اور دوسرا امریکہ کی قیادت میں چلنے والی غیر چینی انٹرنیٹ۔‘

یہ تقسیم پہلے سے ہی موجود ہے۔ حکومت کی سرپرستی میں چلنے والا پروگرام ’گریٹ فائر وال آف چائنہ‘ چین کی ڈیجیٹل سرحدوں میں مواد سنسر کرتا ہے۔

چینی صارفین فیس بُک، ٹوئٹر، ڈراپ باکس یا پنٹرِسٹ جیسی مشہور ویب سائٹس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔

وہ تیاننمن سکوائر قتلِ عام کے بارے میں معلومات یا صدر شی جن پنگ پر تنقید کے بارے میں آن لائن خبریں نہیں پڑھ سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گوگل کے سابق چیف ایگزیکٹیو ایرک شِمّڈ کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ اب سب سے زیادہ امکان انٹرنیٹ کے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹنے کا نہیں بلکہ انٹرنیٹ کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کا ہے‘

جب سے مظاہرین نے چینی صدر شی جن پنگ کی شکل کو ’ونی دا پو‘ سے ملایا ہے تب سے چین میں اس کلاسیکی ڈِزنی کردار کی آن لائن تصاویر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پروفیسر سیو کہتی ہیں کہ ’دنیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک (چین) کو ٹیکنالوجی کمپنیاں اس لیے چھوڑ کر جا رہی ہیں کیونکہ وہ کھلے عام آن لائن معلومات فراہم نہیں کر سکتیں جیسے کہ وہ کرنا چاہتی ہیں۔‘

اس سنسرشپ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی پُرکشش ترین منڈیوں میں سے ایک، چین میں غیرملکی کاروباروں کی توسیع کی راہ میں رکاوٹ حائل ہوتی ہے۔

کمپنی بڑی ہو یا چھوٹی، چین میں کاروبار کرنے کے لیے غیرملکی کمپنیوں کو مسائل سے بچنے کے لیے کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔

چین میں ایپل کی سروسز اور پراڈکٹس دستیاب ہیں اور چینی منڈی میں اس کمپنی کی سرگرمیاں شہ سرخیوں کا حصہ رہ چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ2017 میں چین نے ایپل کو اپنے ایپ سٹور سے نیو یارک ٹائمز اور سکائپ ایپ اتارنے کا کہا اور ایپل نے ایسا ہی کیا

سنہ2017 میں چین نے ایپل کو اپنے ایپ سٹور سے نیو یارک ٹائمز اور سکائپ ایپ اتارنے کا کہا، ایپل نے ایسا ہی کیا۔

گوگل نے بھی چین میں اپنی قسمت آزمائی لیکن اسے شدید ردِعمل ملا۔ گوگل نے خفیہ طور پر چینی سرچ انجن ’بیدو‘ کے مقابلے میں اپنے سرچ انجن کا ایک ورژن بنانے پر کام کیا۔

اِس چینی گوگل نے انسانی حقوق کی پامالی اور متنازعہ قوانین سے متعلق کچھ نتائج سنسر کر دیے۔ ’دا انٹرسیپٹ‘ نے سنہ 2018 میں ’پراجیکٹ ڈریگن فلائی‘ پر رپورٹ چھاپی جسے گوگل نے سنسر کر دیا۔

انسانی حقوق سے متعلق آزاد امریکی نگران ادارے فریڈم ہاؤس میں سینیئر چینی ریسرچ تجزیہ کار سارہ کُک کہتی ہیں کہ ’چین میں جب آپ سرچ انجن میں کوئی اصطلاح لکھتے ہیں تو آپ کو مغربی ممالک سے مختلف نتائج ملتے ہیں۔ سنسر ہونے والی چیزوں کی فہرست مسلسل بدلتی رہتی ہے۔‘

سنہ 2019 میں اپنی سالانہ رپورٹ ’فریڈم آن دا نیٹ‘ میں مسلسل چوتھے سال بھی فریڈم ہاؤس نے چین کو انٹرنیٹ پر آزادی کی رینکنگ میں آخری درجہ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جو بھی کمپنی چین میں کاروبار کرنا چاہتی ہے، اس کو چینی قوانین کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔ مثلاً ’لنکڈ اِن‘ اپنے چینی صارفین کو سیاسی طور پر حساس پروفائلز یا ملک سے باہر رہنے والے لوگوں کی پوسٹس نہیں دیکھنے دیتا۔

آخر معلومات، میڈیا اور بحث مباحثے جیسی ڈیجیٹل دنیا تک رسائی دینے والے انٹرنیٹ پر اتنی پابندیاں کیوں ہیں؟

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں ماڈرن چینی پاپ کلچر کے اسسٹنٹ پروفیسر رین رین یینگ اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’یہ سنسر شِپ چینی کمیونسٹ پارٹی کی قانونی حیثیت سے جڑی ہوئی ہے جو قومی ریاست سے متعلق سرکاری بیانیے کو فروغ دیتی ہے۔‘

چینی انٹرنیٹ صارفین گوگل اور واٹس ایپ استعمال نہیں کر سکتے مگر ان کے پاس بیدو اور وی چیٹ ہیں۔

اس سال ایمزون نے علی بابا کے مقابلے میں کم کاروبار کے پیشِ نظر چین میں اپنا آن لائن سٹور بند کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا چین اپنا متوازی انٹرنیٹ نہیں بنا رہا؟

سارہ کہتی ہیں ’الگ تھلگ چینی انٹرنیٹ دنیا سے کٹ کر رہ رہا ہے۔ اور پریشانی کی بات یہ ہے کہ باقی ممالک چین کی دیکھا دیکھی دیگر ویب سائٹس تک رسائی پر پابندی یا مظاہروں اور ریلیوں کے دوران انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی لا رہے ہیں۔‘

پروفیسر سیو اتنی پُرامید نہیں ہیں کہ چین مستقبل قریب میں اپنی ڈگر بدلے گا۔

’کیونکہ چین نے مغربی میڈیا کو اپنی ایپس اور ویب سائٹس سے تبدیل کر دیا ہے، اسے مغربی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ضرورت نہیں ہے۔‘

مگر باقی ماہرین پُرامید ہیں کہ انٹرنیٹ کا ٹکڑوں میں بٹنا مستقل نہیں ہو گا۔

پروفیسر یینگ کہتے ہیں کہ ’میں چاہتا ہوں کہ ایک دن گریٹ فائر وال ویسے ہی گرے جیسے برلن وال گری تھی۔‘

اسی بارے میں