لاہور کی بادشاہی مسجد میں نکاح فوٹو شوٹ: ’شاہی جوڑے جیسی تصویر بنوانے کی اجازت ہے‘

شاہی جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں واقع تاریخی بادشاہی مسجد نکاح، خاص کر کے نئے شادی شدہ جوڑے کی تصاویر، کے لیے ملک بھر میں بہترین جگہوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر ایسی خبریں شیئر کی جا رہی ہیں کہ یہاں ویڈنگ فوٹوگرافی سے متعلق کچھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

لاہور کی فوٹو گرافر پلواشہ منہاس کا کہنا ہے کہ بادشاہی مسجد میں نکاح کی تصاویر بنانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہاں کی انتظامیہ اس کام کے لیے زیادہ وقت نہیں دیتی جبکہ اس حوالے سے سختیاں کی جاتی ہیں۔

تاہم بی بی سی نے اس حوالے سے بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد سے بات کی جن کا کہنا تھا کہ نکاح فوٹو شوٹ کے لیے کیمروں کی اجازت ختم کر دی گئی ہے لیکن لوگ موبائل فون یا ایک کیمرے سے نکاح کی تصاویر بنا سکتے ہیں۔

اکثر جوڑوں کے لیے ان کی شادی کے فوٹو شوٹ کی کافی اہمیت ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ خاص طور پر تاریخی مقامات یا معروف جگہوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ کسی پسندیدہ اداکارہ کا نکاح ہو یا پاکستان میں کسی مشہور شخصیت کی بیرونی ممالک سے آمد، بادشاہی مسجد وہ جگہ ہے جہاں لوگ تصاویر بنوا کر اپنی یادوں کو محفوظ کر لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’فوٹو گرافی کے جتنے پیسے لے رہے ہیں وہ کچھ نہیں‘

پٹنہ کی زیرِ آب سڑکوں پر فوٹو شوٹ پر تنقید

ملائشیا کے شاہی جوڑے کا وائرل بوسہ

انوشکا کی سرخ ساڑھی اور وراٹ کی پشمینہ شال

بادشاہی مسجد میں نکاح کی تصاویر بنوانا مشکل کیوں؟

بادشاہی مسجد میں نکاح فوٹو شوٹ پر ’پابندی‘ کی خبریں اس وقت سامنے آئیں جب معروف فوٹو گرافر پلواشہ منہاس نے سنڈے میگزین کو بتایا کہ بادشاہی مسجد کے چوکیداروں نے 19 دسمبر سے یہاں ویڈنگ فوٹوگرافی پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی مسجد کی انتظامیہ نئے شادی شدہ جوڑے کی تصاویر کے لیے بہت کم وقت دیتی تھی جس کی وجہ سے انھیں مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔

’یہاں جلد بازی ہوتی ہے۔ ہر فوٹو گرافر کو 15 منٹ دیے جاتے ہیں جبکہ 12 اور جوڑے قطار میں کھڑے انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بادشاہی مسجد میں فوٹو شوٹ کروانے کے لیے لوگوں کو یہاں نکاح کی تقریب کی بکنگ کرانی پڑتی ہے۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بادشاہی مسجد میں فوٹو شوٹ کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے۔

جبکہ بعض کا خیال ہے کہ اس تاریخی مقام پر تصاویر بنوانے پر سختی نہیں ہونی چاہیے۔

’شاہی جوڑے جیسی تصویر کی اجازت ہے‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے وضاحت کی کہ عام حالات میں مسجد میں تصاویر کھینچنا منع نہیں ہے تاہم نکاح پر پروفیشنل فوٹوگرافی یا ایک سے زیادہ کیمروں کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’یہ ایک تاریخی عمارت ہے۔ ہم لوگوں کو تصویر بنانے سے نہیں روک سکتے۔۔۔ (لیکن) کیمروں کی اجازت ختم کی گئی ہے۔ آپ موبائل یا ایک کیمرے سے تصاویر بنا سکتے ہیں لیکن جو لوگ 10، 10 کیمرے لے کر آتے تھے ان کے لیے پابندی لگائی گئی ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے یہ قدم کیوں لیا ہے تو انھوں نے بتایا ’تاکہ شریعت اور مسجد کا تقدس پامال نہ ہو۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ برطانوی شاہی جوڑا شہزادہ ولیم اور اُن کی اہلیہ شہزادی کیٹ مڈلٹن بھی بادشاہی مسجد آئے تھے اور انھوں نے مسجد میں ادب و احترام برقرار رکھا۔ ان کا کہنا تھا ’شاہی جوڑے جیسی تصاویر بنوانے کی سب کو اجازت ہے۔‘

’لوگ یہاں آکر ایسے کام کرتے ہیں جن کی وجہ سے ہم یہ قدم لے رہے ہیں۔ ہم مسجد کے اندر ‘غلط تصویریں‘ اتارنے کی بالکل اجازت نہیں دیں گے۔ مسجد کے اندر ڈانس کرنا، کلب بنانا یا سٹوڈیا بنانا حرام اور ناجائز ہے۔‘

’بادشاہی مسجد میں ایسے شخص کے نکاح کی کوئی جگہ نہیں ہے جو مسجد کے تقدس کو پامال کرے گا۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پلواشہ کے ساتھی فوٹوگرافر رضوان کا کہنا تھا کہ مسجد کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

’کافی سارے فوٹوگرافر ان ہدایات پر عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے انتظامیہ دخل کرتی ہے۔۔۔ اگر آپ اس پر عمل نہیں کرو گے تو باقیوں کے لیے بھی مسائل پیدا ہوں گے۔‘

اسی بارے میں