’انڈیا خلا میں ملبے کا بڑا ذریعہ‘: کیا پاکستانی وزیرِ سائنس فواد چوہدری کا بیان اعداد و شمار کے اعتبار سے درست ہے؟

خلائی ملبہ، خلا، انڈیا، تصویر کے کاپی رائٹ ESA
Image caption حالیہ چند دہائیوں میں خلائی ملبے کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے ایک سینیئر سیاست دان فواد چوہدری نے انڈیا کے خلائی پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ پروگرام خلا میں ملبہ پھیلانے کا بڑا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔

خلائی ملبہ درحقیقت راکٹوں کے پرانے حصوں اور ناکارہ ہوچکی سیٹلائٹس سے جدا ہونے والے پرزوں پر مشتمل ہوتا ہے، اور یہ خلا میں ہر جگہ بالخصوص زمین کے مدار میں موجود ہے۔

فواد چوہدری کا یہ بیان حال ہی میں امریکی خلائی تنظیم ناسا کی جانب سے اس انڈین خلائی جہاز کے ملبے کی شناخت کے بعد سامنے آیا ہے جو ستمبر میں چاند کی سطح سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا تھا۔

لیکن کیا اس دعوے کو اعداد و شمار کے ذریعے ثابت کیا جا سکتا ہے؟ کیا انڈیا واقعی خلا میں خطرناک ملبے کا ایک بڑا ذریعہ ہے؟

خلا میں کتنا کچرا موجود ہے؟

ناسا کے ایک شعبے آربیٹل ڈیبری پروگرام آفس (او ڈی پی او) کے مطابق خلا میں ملبے کے 23 ہزار سے زیادہ ٹکڑے موجود ہیں جن کا حجم 10 سینٹی میٹر سے زیادہ ہے، اور خلائی نگرانی پر مامور امریکی سپیس سرویلینس نیٹ ورک ان میں سے زیادہ تر پر نظر رکھتا ہے۔

ناسا کا یہ شعبہ خصوصی طور پر خلائی ملبے سے متعلق معاملات پر نظر رکھتا ہے۔

اس میں سے زیادہ تر تباہ شدہ ملبہ زمین کی سطح سے 1250 میل کے اندر اندر موجود ہے۔ اسی حصے میں دو ہزار سے زیادہ مصنوعی سیٹلائٹس اور بین الاقوامی خلائی سٹیشن بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’خلا میں آنکھ‘، انڈیا نے جاسوس سیٹلائٹ روانہ کر دیا

’مشن شکتی سے خلائی سٹیشن کو بھی خطرہ ہو سکتا تھا‘

انڈین طلبا نے سب سے ہلکا مصنوعی سیارہ کیسے بنایا؟

چنانچہ تصادم کا خطرہ نہایت بلند ہے اور زیادہ تر ملبہ خلا میں ہونے والے حادثات کے نتیجے میں ہی پیدا ہوتا ہے۔

جب چین نے سنہ 2007 میں اپنی ہی ایک موسمیاتی سیٹلائٹ پر ایک میزائل آزمایا تو یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ملبے کے باعث تقریباً تین ہزار ٹکڑے پیدا ہوئے۔

جبکہ او ڈی پی او کے مطابق سنہ 2009 میں امریکہ اور روس کی مواصلاتی سیٹلائٹس کے حادثاتی تصادم کے نتیجے میں بھی بڑی تعداد میں ملبہ پیدا ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا حالیہ سالوں میں کئی سیٹلائٹس لانچ کر چکا ہے اور اس کا منصوبہ ہے کہ آئندہ سالوں میں اپنے خلائی پروگرام کو وسعت دی جائے

انڈیا کتنے ملبے کا ذمہ دار ہے؟

او ڈی پی او کے ڈیٹا کے مطابق انڈیا آج بھی خلا میں سب سے زیادہ کچرا پھیلانے والے ممالک یعنی روس امریکہ اور چین سے بہت کم کچرا پھیلاتا ہے۔

تاہم انڈیا کی جانب سے خلا میں کچرا پھیلانے کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سنہ 2018 میں 117 ٹکڑوں سے سنہ 2019 میں 163 ٹکڑے یقیناً ایک اضافہ ہے۔

رواں سال مارچ میں انڈیا وہ چوتھا ملک بنا جس نے سیٹلائٹ شکن میزائل یا اے سیٹ کا تجربہ کیا۔

انڈیا کے مطابق یہ تجربہ ایسی بلندی پر کیا گیا تھا کہ زمین کے مدار میں کچرا جمع نہ ہو۔

تاہم امریکہ نے اس تجربے کی مذمت کی اور ناسا نے کہا کہ اس تجربے کے تین ماہ بعد تک انھوں نے 50 ایسے ٹکڑوں کی شناخت کی ہے جو اس واقعے کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی سیٹلائٹ شکن میزائل کے تجربے کے بعد قوم سے خطاب کر رہے ہیں۔ انڈیا یہ تجربہ کرنے والا چوتھا ملک ہے

امریکہ کی ایک تنظیم سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن میں خلائی قانون کے مشیر کرسٹوفر ڈی جانسن کا کہنا ہے کہ انڈیا نے خلا میں ملبے میں اضافہ کیا ہے۔

جانسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کیا ایک دہائی پہلے چین کے اقدامات تکنیکی طور پر زیادہ خطرناک تھے یا حال ہی میں کچرا پھیلانے والے انڈیا کے، جسے معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ایسا کرنے سے ہر کوئی متاثر ہو سکتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں ماضی کے واقعات سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ خلا میں کچرا پھیلانے کی کوئی قابلِ قبول وجہ نہیں ہے۔ اس سے خلا کو استعمال کرنے کی سکت میں ہر کسی کے لیے کمی ہو سکتی ہے۔

خلائی ملبے سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں؟

زمین کا مدار وقت کے ساتھ مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ہزاروں سیٹلائٹس اس وقت حرکت میں ہیں اور مزید کو لانچ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔ اس لیے تصادم کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سیٹلائٹ شکن تجربوں کے باعث خلائی ماحول میں خطروں میں اضافہ ہوسکتا ہے لیکن انھیں روکنے کے لیے کوئی ضوابط موجود نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ESA
Image caption خلائی ملبے میں کمی کے لیے کئی ممالک اور ادارے نت نئے طریقوں کی آزمائش کر رہے ہیں

متعدد ممالک اور کچھ نجی کمپنیاں خلائی کچرے میں کمی لانے کے لیے نت نئے طریقے آزما رہی ہیں جن میں بڑے مقناطیس، جال اور ہارپون یا نیزے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ یورپیئن سپیس ایجنسی سنہ 2025 میں زمین کے مدار سے کچرا صاف کرنے کے لیے پہلا خلائی مشن لانچ کرے گی۔

ناسا کا کہنا ہے کہ خلا کی صفائی اب بھی ایک تکنیکی اور اقتصادی چیلنج ہے۔

اسی بارے میں