سانڈھے کا تیل: کیا ایک مفروضے کی بنا پر اس معصوم جانور کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سانڈھے کے دن سبزہ کھاتے، شکاری پرندوں اور درندوں سے خود کو بچاتے گزرتے ہیں، مگر یہ خود کو انسان سے نہیں بچا پاتا۔

پاکستان کے گرم صحرائی علاقوں میں ریت پر رینگتا یہ بے ضرر سا جانور ’سانڈھا کہلاتا ہے۔ سبزہ کھاتے اور شکاری پرندوں اور درندوں سے خود کو بچاتے اس کے دن گزرتے ہیں۔ مگر یہ خود کو انسان سے نہیں بچا پاتا۔

دوسرے ہر جانور کی طرح اس میں بھی چربی پائی جاتی ہے۔ مگر اس کی چربی پر انسان کی خاص نظر ہے۔ اس لیے یہ آپ کو لاہور کے گلی کوچوں اور چوراہوں میں سڑک کنارے یا پھر ٹھیلوں اور دکانوں میں بیٹھا ملے گا۔

مگر سانڈھا وہاں خود سے نہیں آتا، صحراؤں سے پکڑ کر لایا جاتا ہے۔ یہاں یہ چل پھر نہیں سکتا کیونکہ اس کی کمر کی ہڈی توڑ دی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی زندگی کے دن گنے چنے ہوتے ہیں۔

فٹ پاتھوں پر مجمع لگائے یا پھر بڑی بڑی دکانوں پر ’سانڈھے کے خالص تیل‘ کی شیشیاں سجائے سانڈھے کے ان شکاریوں کو گاہک ملنے کی دیر ہے، وہ چاقو کی مدد سے اس کا نرم پیٹ چاک کرتے ہیں اور اندر موجود چربی نکال لیتے ہیں۔

یہ سب کچھ گاہک کی آنکھوں کے سامنے کیا جاتا ہے تا کہ اس کی تسلی ہو کہ وہ ’اصلی تیل‘ لے کر جا رہا ہے۔

اندرونِ لاہور میں ایسے بے شمار علاقے ہیں جہاں آپ کو سانڈھے کے تیل کی باقاعدہ دکانیں مل جائیں گی۔ ان میں سے چند کئی دہائیوں سے قائم ہیں۔

مزید پڑھیے

پہاڑی غاروں سے ملنے والی سلاجیت میں ایسا خاص کیا ہے؟

’سانپ انسانوں سے دور بھاگتے ہیں سو انھیں مت چھیڑیں‘

’قاتلوں کا قاتل‘ سانپ درد سے نجات کا ذریعہ

موہنی روڈ، بلال گنج، بھاٹی دروازہ، مچھلی منڈی اور پیر مکّی بازار جیسے علاقوں میں سانڈھے کے تیل کا کاروبار کھلے عام ہوتا ہے۔ تاہم ان دکانوں پر موجود خریدار بات کرنے سے کتراتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ اس کے کسی جاننے والے کو معلوم نہ پڑ جائے۔

سانڈھے کے تیل میں ایسا کیا ہے؟

Image caption پاکستان اور انڈیا کے کئی علاقوں کے علاوہ سانڈھے کا تیل عرب ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں بھی بھیجا جاتا ہے

ٹھوکر نیاز بیگ میں ایک پُل کے نیچے چند معذور سانڈھے لیے بیٹھے ایک شخص کے پاس ایک نوجوان موجود تھا۔ وہ پتوکی سے آئے تھے اور انھوں نے اپنا نام محمد یٰسین بتایا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کسی دوست کے لیے سانڈھے کا تیل خریدنے آئے تھے۔

’یہ میں نے پہلے بھی اپنے ایک دوست کو بھجوایا تھا تو اس کو تقریباً فائدہ ہوا ہے۔ اب اس نے پھر دبئی سے مجھے پیغام بھیجا ہے کہ اسے اصلی سانڈھے کا تیل چاہیے۔ تو میں نے یہاں اپنی آنکھوں کے سامنے نکلوایا ہے۔‘

وہ سمجھتے ہیں کہ سانڈھے کے تیل میں ایفروڈیسیاک خصوصیات ہیں یعنی یہ مرادنہ جنسی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔ ’یہ نفس کی کمزوری کے لیے ہے۔‘

مردانہ کمزوری کے لیے نفس کی مالش کرتے ہیں

Image caption یہ بیچارہ جانور چل پھر نہیں سکتا کیونکہ اس کی کمر کی ہڈی توڑ دی جاتی ہے

محمد یٰسین کی عمر 20 سے 30 برس کے درمیان ہے۔ وہ پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ انھیں سانڈھے کے تیل کے بارے یہ معلومات کہاں سے ملی ہیں؟ ا س کے لیے آپ بھاٹی گیٹ کے علاقے میں موجود متعدد سانڈھے والوں سے کسی کے پاس بھی چلے جائیں۔

وہ جب اس کے بارے میں بات کرنا شروع کرتے ہیں تو لوگوں کا ایک ہجوم ان کے گرد جمع ہو جاتا ہے۔

ایسے ہی ایک تیل بیچنے والے نے محکمہ جنگلی حیات کے خوف سے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کی۔ ان کے پاس ایک درجن سے زائد ٹوٹی ہوئی کمر والے سانڈھے موجود تھے۔

ان کا دعوٰی تھا کہ یہ تیل جسم کے درد، فالج اور پٹھوں کی کمزوری کے علاوہ ’مردانہ کمزوری کے علاج کے لیے مفید ہے۔ مردانہ کمزوری کے لیے نفس پر اس کی مالش ہوتی ہے۔‘ ان کے مطابق یہ معلومات ان کے باپ دادا سے ان تک منتقل ہوئی ہیں۔ ان کا خاندان یہی کاروبار کرتا رہا ہے۔

سانپ، شیر اور مینڈک کی چربی ڈالی جاتی ہے

Image caption کئی جگہ پر اس کے جنسی اعضا بھی کھائے جاتے ہیں اور اس کا گوشت بھی استعمال کیا جاتا ہے، اس سب کے پیچھے یہی سوچ کارفرما ہے کہ ’سانڈھا جنسی کمزوری کا علاج ہے‘

ان کی ریڑھی پر صرف سانڈھے اور تیل کی شیشیاں ہی موجود نہیں تھیں۔ ایک پٹاری میں ایک سانپ موجود تھا جبکہ دو سانپ نیچے ایک ڈبے میں چھپا کر رکھے گئے تھے۔ ایک مرتبان میں جونکیں موجود تھیں اور کئی مرتبان مختلف قسم کی چربیوں سے بھرے ہوئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ چربیاں شیر، ریچھ، سانپ، مینڈک اور ایسے ہی دوسرے جانوروں کی تھیں جو کہ سانڈھے کے تیل میں ڈال کر ایک خاص تلہ تیار کیا جاتا ہے۔

’ان سے سانڈھے کے تیل کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ تلہ زیادہ گرم ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق ان جانوروں کی چربیاں بیچنے والے بھی موجود ہیں جن سے انھیں یہ باآسانی مل جاتی ہیں۔

’یہ گاہک پر منحصر ہے کہ اسے کیا چاہیے۔ جو اس کی ڈیمانڈ ہو ہم تیار کر دیتے ہیں۔‘

’زیادہ تر تو جوان بچے ہی آ رہے ہیں‘

Image caption ڈاکٹروں کے مطابق اگر آپ سانڈھے میں نکلنے والی چربی کا کیمیائی جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا ’یہ کسی بھی جاندار میں پائی جانے والی دوسری چربی کی طرح ہے اور اس میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔‘

سانڈھے کا تیل اور تلہ خریدنے کے لیے ان کے پاس ہر عمر کے لوگ آتے ہیں۔ مگر زیادہ تر آج کل ان کے پاس نوجوان بچے آتے ہیں۔

’بچے یہ انٹرنیٹ وغیرہ دیکھ کر اور بڑوں کو دیکھ کر بھاٹی چلے آتے ہیں تیل لینے۔ خود بڑے ہوئے نہیں، لیکن تیل لے لو۔‘ یہ کہہ کر وہ ہنس دیے۔

وہ اور ان جیسے سانڈھے کے تیل کا کاروبار کرنے والے افراد نے مردانہ جنسی کمزوری یا ایریکٹائل ڈِس فنکشن کے حوالے سے اپنے متوقع گاہک کو ڈرا دینے والی کہانیاں بتاتے ہیں۔

ان کا لُبِ لباب یہی ہوتا ہے کہ ’زیادہ سیکس یا پھر سیکس کے دوران کی جانے والی غلطیاں اس کمزوری کا سبب بنتی ہیں۔‘ ایسے تمام دعوں کا تعلق میڈیکل سائنس اور اس میں تحقیق سے ہے جبکہ ایسے زیادہ تر افراد ان پڑھ ہوتے ہیں۔

کیا سانڈھے کا تیل واقعی مفید ہے؟

Image caption ڈاکٹر مزمل طاہر کے مطابق سانڈھے کے تیل کے مبینہ فوائد کے حوالے سے کی جانے والی تمام باتیں محض داستانیں اور وہمی باتیں ہیں

پروفیسر ڈاکٹر مزمل طاہر لاہور کے ایور کیئر ہسپتال میں یورالوجسٹ ہیں اور لاہور ہی کے شیخ زید ہسپتال کے شعبہ یورالوجی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سانڈھے کے تیل کے مبینہ فوائد کے حوالے سے کی جانے والی تمام باتیں محض داستانیں اور وہمی باتیں ہیں۔

’اگر آپ سانڈھے میں نکلنے والی چربی کا کیمیائی جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا یہ کسی بھی جاندار میں پائی جانے والی دوسری چربی کی طرح ہے اور اس میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تلہ میں بھی کوئی ایسی خصوصیت نہیں ہے جو کسی بھی قسم کی جنسی کمزوری کا علاج کر سکے۔ ’

بلکہ ہم نے بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو جلنے کے بعد ہمارے پاس آئے ہیں۔ جس جگہ وہ تلہ لگاتے ہیں وہ جگہ جل جاتی ہے۔ پھر پلاسٹک سرجری کرنا پڑتی ہے۔‘

ایریکٹائیل ڈسفنکشن کی زیادہ تر کوئی وجہ ہی نہیں ہوتی

ڈاکٹر مزمل کا کہنا تھا کہ ایریکٹائیک ڈس فنکشن جس کا سانڈھے کے تیل کے ذریعے علاج کرنے کا دعوٰی کیا جاتا ہے 'اس کی 90 فیصد تو کوئی عضوی وجہ ہی نہیں ہوتی۔'

جن لوگوں میں ایریکٹائل ڈس فنکشن ہو ’ان کی اگر سائیکو تھراپی کی جائے تو 60 سے 70 فیصد لوگ ویسے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ باقی کچھ کو ادویات کی ضرورت پڑتی ہے وہ اس سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل سائنس نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ ہر قسم کی جنسی بیماری کا علاج ممکن ہے۔

ڈاکٹر مزمل کے مطابق ’سانڈھے کو بلا وجہ مار دیا جاتا ہے اور لے دے کر یہ سب پیسے کا کھیل ہے۔‘

سانڈھا ہی کیوں؟

Image caption سانڈھے کے عام تیل کی شیشی 150 سے 500 روپے کے درمیان بکتی ہے

ڈاکٹر مزمل کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے کئی علاقوں کے علاوہ سانڈھوں کو دنیا کے دیگر کئی علاقوں میں بھی ان ہی غلط مفروضوں کی بنا پر مارا جا رہا ہے جبکہ پاکستان سے اس کا تیل عرب ممالک اور دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے۔

’کئی جگہ پر اس کے جنسی اعضا بھی کھائے جاتے ہیں اور اس کا گوشت بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سب کے پیچھے یہی سوچ کارفرما ہے کہ سانڈھا جنسی کمزوری کا علاج ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کاروبار میں ملوث افراد زیادہ تر خود بھی ان پڑھ ہوتے ہیں اور کم پڑھے لوگوں کو بیوقوف بنا کر پیسے کماتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدیوں سے سانڈھے کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ چھوٹا سا جانور ہے جس میں بے پناہ طاقت پائی جاتی ہے اور یہ صحرا کے انتہائی گرم حالات میں بھی زندہ رہ لیتا ہے۔ 'یہی اس مفروضے کی بنیاد بنا کہ اس کی چربی میں بے مثال طاقت ہو گی۔'

’بس جو بات صدیوں سے چل پڑی ہے اس کو یہ لوگ چلائے جا رہے ہیں۔ اس پر بہت تحقیق ہو چکی ہے جس نے یہ ثابت کیا ہے کہ سانڈھے کی چربی میں ایسی کوئی خصوصیات نہیں ہیں۔‘

سانڈھے کے تیل کے کاروبار سے کتنا پیسہ ملتا ہے؟

Image caption شہر کے اندر ایسی بے شمار جگہیں موجود ہیں جہاں درجنوں سانڈھے روزانہ کھلے عام مارے جا رہے ہیں

سانڈھے کا تیل فروخت کرنے والے شخص نے بتایا کہ سانڈھے کے عام تیل کی شیشی 150 سے 500 روپے کے درمیان بکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپیشل تلہ مہنگا بھی بکتا ہے۔ یہ اس پر منحصر ہے کہ گاہک کو اس میں کس قسم کی چربی چاہیے۔

’سپیشل تلہ 3000 سے 4000 ہزار روپے تک بھی بک جاتا ہے۔ جس طرح کی گاہک کی مانگ ہو اس قسم کا تیار کر دیتے ہیں اس کو۔' ان کا کہنا تھا کہ ایک سانڈھے کو مار کر اس کی چربی میں سے کتنا تیل نکلے گا یہ اس کے جسمات پر منحصر ہے۔

’کسی میں سے ایک تولہ کسی میں سے دو تولے بھی نکل آتا ہے۔‘

بات کرتے ہوئے اچانک ان صاحب نے سامنے پڑے سانڈھے اٹھا کر ایک ڈبے میں ڈالنے شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلی حیات کے لوگ آ رہے تھے۔

’سانڈھا نہیں رکھ سکتے نہ ہم۔ وہ جرمانہ کرتے ہیں یا پھر ٹھیا اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‘

مگر شہر کے اندر ایسی بے شمار جگہیں موجود ہیں جہاں درجنوں سانڈھے روزانہ کھلے عام مارے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں