ٹوٹوک: متحدہ عرب امارات کی مبینہ طور پر جاسوس ایپ گوگل اور ایپل سٹور سے خارج

ٹوٹوک تصویر کے کاپی رائٹ TOTOK

گوگل اور ایپل نے اماراتی میسیجنگ ایپ 'ٹوٹوک' کو اپنے ایپ سٹورز سے نکال دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اسے ریاست کی جانب سے جاسوسی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسے چین کی ٹِک ٹاک ایپ سمجھنے کی غلطی مت کیجیے۔ ٹوٹوک ایپ اپنی مارکیٹنگ خود کو 'ٹیکسٹ میسیجنگ یا ویڈیو چیٹ کا آسان اور محفوظ ذریعہ' کہہ کر کرتی ہے۔

تاہم، خبر رساں ادارے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ واٹس ایپ سے مشابہت رکھنے والی ایپ کو جاسوسی کے لیے استعمال کرتی ہے۔

ٹوٹوک نے صارفین کو بتایا کہ وہ جلد ایپ سٹورز میں واپس آئے گی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا فیس ایپ قابلِ اعتبار ہے؟

سرکاری ملازمین کے لیے واٹس ایپ کا متبادل زیر غور

وہ ہیکرز جو لاکھوں کما رہے ہیں۔۔۔ وہ بھی قانونی طور پر

اسرائیلی ٹیکنالوجی سے پاکستانی حکام کی فون ہیکنگ ہوئی؟

ٹوٹوک حکام کی جانب سے بلاگ پوسٹ میں کہا گیا کہ ایپ تکنیکی مسائل کی وجہ سے ایپل ایپ سٹور اور گوگل پلے پر 'عارضی طور پر دستیاب نہیں ہے'۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ ٹوٹوک اماراتی جاسوسوں کو عام شہریوں کی بات چیت، حرکات اور تصاویر جیسی ذاتی معلومات تک رسائی فراہم کرتی ہے۔

گوگل نے گذشتہ جمعرات جبکہ ایپل نے اگلے روز ٹوٹوک کو اپنے ایپ سٹور سے نکال دیا۔ تاہم، جن لوگوں کے فون میں ٹوٹوک ایپ موجود ہے، وہ اس کا استعمال جاری رکھ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google Play

ایپ کے لاکھوں صارفین

حالانکہ ٹوٹوک کو مارکیٹ میں آئے چند ماہ ہی ہوئے ہیں لیکن نیویارک ٹائمز کے مطابق وسطی ایشیا، یورپ، ایشیا، افریقہ اور شمالی امریکہ میں صارفین نے ایپ کو ڈاؤن لوڈ کیا۔

گوگل پلے سٹور نے بتایا کہ ایپ کو نکالنے سے پہلے وہ اینڈروئڈ پر 50 لاکھ بار ڈاؤن لوڈ کی گئی جبکہ ایپ ٹریکر ایپ اینی کا کہنا ہے کہ پچھلے ہفتے ٹوٹوک امریکہ میں سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی سوشل ایپ تھی۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایپ کے ناشر 'بریج ہولڈنگ لمیٹڈ' ڈارک میٹر نامی کمپنی سے منسلک ہے۔ ابو ظہبی میں قائم ڈارک میٹر انٹیلیجنس اور ہیکنگ فرم ہے جو مبینہ طور پر ممکنہ سائبر کرائمز کے لیے امریکی ادارے ایف بی آئی کے زیرِ تفتیش ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ڈارک میٹر اماراتی انٹیلیجنس حکام، نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سابق ملازمین اور اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس میں کام کرنے والے سابق ملازمین کو ملازمت دیتا ہے۔

جب ہم نے کمینٹ کی درخواست کی تو ٹوٹوک، ڈارک میٹر اور لندن میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ٹوٹوک نے اپنے بلاگ میں کہا 'ہمارے موجودہ صارفین بلا رکاوٹ ہماری سروسز استعمال کر سکیں گے جبکہ ہم اپنے نئے صارفین کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اس مسئلے پر گوگل اور ایپل کے ساتھ رابطے میں ہیں۔'

سام سنگ، ہواوے، اوپو اور شائیومی کے فون استعمال کرنے والے صارفین اپنے ایپ سٹورز سے اب بھی ٹوٹوک ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

کمپنی نے مستقبل قریب میں پیمنٹ، خبروں، کامرس اور انٹرٹینمنٹ جیسی نئی خصوصیات کے ساتھ واپس آنے کا وعدہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mikael Thalen

متحدہ عرب امارات میں اینڈ ٹو اینڈ انکریپشن فراہم کرنے والی میسیجنگ سروسز مثلاً واٹس ایپ اور سکائپ پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ان ایپس کو میسج کرنے کے لیے تو استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن ویڈیو کال کرنے کے لیے نہیں۔

ٹوٹوک کی پرائیویسی پالیسی کہتی ہے کہ یہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا 'قانون نافذ کرنے والے اداروں، ریگولیٹری ایجنسیوں اور دیگر قانونی اداروں کی طرف سے رسائی کی درخواست کرنے والوں کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے'۔

یہ بھی لکھا گیا ہے 'ہم آپ کا ذاتی ڈیٹا گروپ کمپنیوں کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔'

تاہم، اس میں متحدہ عرب امارات کی حکومت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

ایپ کی ڈیکرپشن

اوبجیکٹیو سی نامی سکیورٹی فرم کا کہنا ہے کہ اس نے نیویارک ٹائمز کے ساتھ تفتیش پر کام کیا۔

بلاگ میں کمپنی نے وضاحت کی کہ اس نے ایک 'جیل بروکن' یعنی جو فون بنانے والوں کی پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے تبدیل کیا گیا ہو، آئی فون پر ٹوٹوک ایپ کا تجزیہ کیا۔

ٹوٹوک ایپ اور اس کی 'نیٹ ورک ٹریفک' کو ڈی کریپٹ کیا گیا۔

سکیورٹی فرم کے مطابق ایپ کی قانونی حیثیت ہی وہ چالاکی ہے جس کے دم پر یہ بڑے پیمانے پر ہونے والا خفیہ نگرانی آپریشن ہو رہا ہے۔

فرم کے مطابق اسے ایپ میں کوئی خامی، میل ویئر یا وائرس نہیں ملا۔

اسی بارے میں