کراچی میں شدید سردی، دبئی میں سیلاب اور امریکہ میں جنوری میں گرمی، معاملہ کیا ہے؟

Floods in east Africa and fires in Australia تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سال کا آغاز کچھ یوں ہوا کہ امریکہ کے کچھ حصوں میں جنوری کے مہینے میں ریکارڈ گرمی پڑ رہی ہے جبکہ لاہور اور دلی جیسے گرم شہر تاریخی سردی کی لپیٹ میں ہیں۔

دوسری طرف بدلتے موسموں کی اس شدت نے مشرقِ وسطیٰ کو بھی نہیں بخشا جہاں کے سوکھے علاقے شدید بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر صارفین کہیں شدید گرمی کی شکایت کرتے نظر آرہے ہیں تو کوئی بے تحاشا بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب کی ویڈیوز لگا رہا ہے۔ کہیں لوگ کمبل اوڑھے ہیں تو کہیں ہوائی چپلیں پہنے گرمی سے نمٹنے کی تصاویر شئیر کر رہے ہیں۔

کراچی میں ایسی سردی نہ دیکھی نہ سنی

سب سے پہلے بات کرتے ہیں کراچی کی جہاں اس مرتبہ اتنی سردی پڑ رہی ہے کہ لوگوں نے مجبور ہو کر ہیٹر چلا لیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایک 'حقیقی' ال نینو کا خطرہ ہے

یورپ میں شدید گرمی کے بنتے ٹوٹتے ریکارڈ

'ماحولیاتی تپش کے باعث شدید موسم کا خطرہ دگنا'

آسٹریلیا میں جنگلات کی آگ سے آسمان سرخ ہوگیا

قاسم رامے نامی ایک صاحب تو یہ بھی کہتے دیکھے گئے ’کراچی والوں کا بس نہیں چل رہا ورنہ گھر کے سارے کمبل اوڑھ کر باہر نکلیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ @KbUmer

جہاں کچھ لوگ خوش ہیں کہ چلیں اس بہانے کراچی والوں کو بھی خشک میوہ جات کھانے کا مزہ آئے گا تو دوسری طرف کچھ لوگوں کو تو اتنی سردی لگ رہی ہے کہ وہ چاہتے ہیں سندھ حکومت سکولوں، کالجوں میں چھٹیاں دے دے۔

اور تو اور کچھ منچلے ایسے بھی ہیں جو کراچی میں درجہ حرارت کے منفی میں جانے کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔

دبئی میں سیلاب

اور کس نے سوچا ہو گا کہ دبئی جیسے صحرائی شہر میں جنوری میں اتنی بارش ہو گی کہ سیلاب آ جائے گا۔

دبئی میں اتنی بارش ہوئی کہ لوگوں کو یقین کرنا مشکل تھا کہ کیا یہ واقعی دبئی ہی ہے؟

سوشل میڈیا سیلاب کی ویڈیوز اور تصاویر سے بھر گیا تو کچھ لوگ یہ بھی پوچھتے نظر آئے کہ کیا دبئی جیسے شہر میں نکاسیِ آب کا کوئی نظام ہے؟

اس پر انھیں بتایا گیا کہ بھئی نظام تو ہے پر وہ ہلکی پھلکی بارشوں کے لیے ہے، اس سیلاب کی کسے توقع تھی۔

صورتحال اتنی گھمبیر ہو گئی کہ ہسپتالوں سے لے کر ائیر پورٹ تک سب کچھ بند کرنا پڑا۔

دبئی سے آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ ہونے سے ساری دنیا کا نظام اور مسافروں کے معاملات درہم برہم ہوئے۔

امریکہ میں ناقابلِ برداشت گرمی

جہاں کراچی والے سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں، دبئی والے بارشوں میں پھنسے ہیں وہیں امریکی ناقابلِ برداشت گرمی کی شکایت کرتے نظر آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ @crafty_scrafty

کچھ امریکی شہروں میں ایسی گرمی پڑ رہی ہے کہ ایک صارف کےمطابق ’120,000 سالوں میں اتنی گرمی نہیں پڑی۔‘

غرض جن علاقوں کو ٹھنڈا سمجھا جاتا تھا وہاں گرمی پڑ رہی ہے اور جن کو گرم خیال کیا جاتا تھا وہ شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔

کیا موسموں کی اس شدت کا سبب موسمیاتی تبدیلی ہے، یہ کوئی مافوق الفطرت رجحان ہے؟

بی بی سی نے اس بارے میں عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) سے بات کی۔

ڈبلیو ایم او کی ترجمان کلیئر نلیس کیپ کے مطابق ہمیں تھوڑا محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور ہر چیز کو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر سے دیکھنا مناسب نہیں۔‘

کلیئر نلیس کہتی ہیں ’ال نینو اور لا نینا کے دوران ہماری آب و ہوا میں قدرتی تغیر آتا ہے (اب یہ دونوں وقوع پذیر نہیں ہو رہے)۔‘

یاد رہے ال نینو اور لا نینا پیچیدہ موسمی پیٹرن ہیں جو استوائی بحرالکاہل میں درجۂ حرارت کے فرق کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور ان کے اثرات دنیا بھر پر مرتب ہوتے ہیں۔

’ال نینو‘ کو بعض اوقات قدرتی مظہر کا گرم مرحلہ جبکہ ’لا نینا‘ کو سرد مرحلہ کہا جاتا ہے۔

Image caption پازیٹو انڈین اوشن ڈپول کا مطلب ہے مغرب میں زیادہ بارشیں اور مشرق میں شدید خشک موسم

کلیئر نلیس کہتی ہیں ’انڈین اوشن ڈوپول‘ نامی ایک اور رجحان گذشتہ سال انتہائی شدت والے موسم کا باعث بنا۔۔ جس کے باعث مشرقی افریقہ میں سیلاب سے لے کر آسٹریلیا میں بہت خشک موسم تک دیکھنے میں آیا۔‘

’لیکن یہ بھی سچ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہمیں بہت شدت والے موسموں کی طرف لے کر جا رہی ہے۔ خاص کر گرمی کی لہر، شدید گرم دن۔۔ اور نا ختم ہونے والی شدید بارشیں۔‘

ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے نلیس کہتی ہیں ’مثال کے طور پر آسٹریلیا میں جنگلات کی آگ کا سبب موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ انڈین اوشن ڈپول (آئی او ڈی) بھی ہے۔‘

انڈین نینو کیا ہے؟

انڈین اوشن ڈپول جسے ’انڈین نینو ‘بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسا موسمیاتی پیٹرن ہے جو بحر ہند کے مخالف حصوں میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

نلیس نے جس رپورٹ کا حوالہ دیا اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2019 کے دوران ایک بہت ہی مثبت انڈین ڈپول (آئی او ڈی) نے آسٹریلیا کی آب و ہوا پر گہرے اثرات ڈالے، جس کے باعث آسٹریلیا میں بہت کم بارشیں دیکھنے میں آئیں۔

نلیس نے مزید بتایا کہ ڈبلیو ایم او سالانہ بنیاد پر جو ڈیٹا مرتب کرتا ہے اس میں موسم کی انتہائی صورتحال بھی شامل ہے جس میں دنیا بھر میں وقوع پذید ہونے والے وہ واقعات شامل ہیں جن کا تعلق شدید موسمی حالات سے ہو۔

اس کے علاوہ اس میں عالمی سطح پر درجہ حرارت کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NOAA

نیلس کہتی ہیں ’ڈیٹا کے جائزے سے یہ سامنے آیا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں گرمی، سردی سے زیادہ پڑ رہی ہے۔‘

گذشتہ ماہ سپین کے شہر میڈرڈ میں موسمیاتی تبدیلی کے مذاکرات کے دوران ڈبلیو ایم او نے ایک بیان جاری کیا، جس کے مطابق اس پوری دہائی میں درجہ حرارت انتہائی غیر معمولی رہے اور 2019 اب تک کا دوسرا یا تیرا گرم ترین سال رہا۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سال کے ختم ہونے تک موسم کی وجہ سے ہونے والی نقل مکانیوں کی تعداد تین گنا سے زیادہ ہو کر 22 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔

اسی بارے میں