ماحولیاتی تبدیلی: گذشتہ دہائی تاریخی ریکارڈ کے مطابق گرم ترین دہائی

heat تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تین عالمی اداروں کے مطابق 2019 کے اختتام تک گذشتہ دہائی موسمی اعتبار سے ریکارڈ کردہ تاریخ کے دس گرم ترین سال تھے۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا، امریکی ایجنسی نیشنل اوشیئینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن، اور برطانوی محکمہِ موسمیات کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال 1850 کے بعد سے دوسرا گرم ترین سال تھا۔

اس کے علاوہ گذشتہ پانچ سال 170 سالوں کی سیریز میں گرم ترین پانچ سال تھے جو کہ صنعتی انقلاب سے پہلے کے دور کے مقابلے میں اوسطاً ایک ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ناروے میں ماہ جنوری کے دوران اب تک کا گرم ترین دن

کراچی میں سردی، امریکہ میں گرمی: معاملہ کیا ہے

وہ سیارے جہاں تیزاب کی بارش اور تیز ہوائیں چلتی ہیں

برطانوی محکمہِ موسمیات کا کہنا ہے کہ 2020 میں یہ رجحان جاری رہے گا۔

اب تک کے ریکارڈ کے مطابق گرم ترین سال 2016 تھا جب ایل نینو موسمی رحجان نے عالمی درجہِ حرارت میں اضافہ کر دیا تھا۔

یہ ساری معلومات غیر متوقع نہیں ہیں جیسا کہ عالمی محکمہِ موسمیات (ڈبلیو ایم او) نے گذشتہ دسمبر کے آغاز میں کہا تھا کہ 2019 تاریخ کی گرم ترین دہائی کے اختتام کا سال ہے۔

برطانوی محکمہِ موسمیات کے مطابق 1850 سے لے 1900 تک کی اوسط کے مقابلے میں 2019 تقریباً 1.05 ڈگری زیادہ گرم تھا۔

گذشتہ سال یورپ میں گرمی کی دو اہم لہریں ایک جون میں اور ایک جولائی میں آئیں۔ فرانس میں 28 جون کو قومی ریکارڈ 46 ڈگری سینٹی گریڈ دیکھا گیا۔

جرمنی، ہالینڈ، بیلجیئم اور لکسمبرگ میں بھی ریکارڈ ٹوٹے اور برطانیہ میں 38.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت پہنچا۔

ادھر آسٹریلیا میں موسمِ گرما کا اوسط درجےِ حرارت ریکارڈ کا سب سے زیادہ درجہِ حرارت تھا اور یہ تقریباً ایک ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اگرچہ تینوں ایجنسیوں کے گذشتہ 12 ماہ کے حوالے سے درجہِ حرارت کے اعداد و شمار تھوڑے سے محتلف ہیں، ڈبلیو ایم او نے جو تجزیہ کیا ہے اس میں کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس اور جاپان کے محکمہِ موسمیات کا ڈیٹا بھی شامل ہے۔

وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سال 2019 عالمی صنعتی انقلاب سے پہلے کے مقابلے میں 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم تھا۔

برطانوی محمکہِ موسمیات کے ہیڈلی سنٹر سے منسلک ڈاکٹر کولن موریس کہتے ہیں کہ ’درجہِ حرارت کے بارے میں ہمارے مجموعی اعداد و شمار یہی بتاتے ہیں کہ 2019 سمیت 2015 کے بعد کے سال ریکارڈ پر موجود پانچ گرم ترین سال تھے۔‘

’1980 کے بعد سے ہر دہائی گذشتہ دہائی سے زیادہ گرم تھی۔ 2019 پر 19ویں صدی کے وسط کے بعد سے گرم ترین دہائی ختم ہوئی ہے۔ (اس حوالے سے دہائی کو سال 0-9 تک گنا جاتا ہے۔)

محققین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہونے والا کاربن اخراج درجہِ حرارت میں اضافے کی مرکزی وجہ ہے۔

رائل ٹیٹرولوجیکل سوسائٹی کی لز بینٹلی کہتی ہیں کہ ’کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح ہمارے ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بڑھتے درجہِ حرارت کے درمیان یقینی تعلق ہے۔‘

’ہم نے گذشتہ دہائی میں عالمی سطح پر اونچے ترین درجہ حرارت دیکھے ہیں اور ہمیں یہ زیادہ نظر آئے گا۔ جیسے جیسے کاربن ڈائی آکسائڈ بڑھے گی درجہ حرارت اور بڑھے گا۔‘

تین مختلف ایجنسیوں کے تین مختلف انداز میں تعمیر کردہ ڈیٹا سے ایک جیسے نتائج حاصل ہونے کی وجہ سے ان نتائج پر اعتماد زیادہ کیا جا سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف اینگلیا کے موسمی ریسرچ یونٹ کے پروفیسر ٹم اوزبورن کہتے ہیں کہ ’اگرچہ ہمیں پتا ہے کہ انسانی سرگرمیاں زمین کو گرما رہی ہیں مگر اس گرمائش کو انتہائی درست انداز میں ناپنا بہت اہم ہے۔‘

’ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ انیسویں صدی کے مقابلے میں آج دنیا ایک ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہے کیونکہ مختلف طریقوں سے درجہِ حرارت ناپ کر بھی ہم ایک جیسے نتائج حاصل کر رہے ہیں۔‘

ماہرین کی رائے ہے کہ 2020 انتہائی زیادہ گرم سال ہوگا اور صنعتی دور کے مقابلے میں اوسط 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ کرم ہوگا۔

یعنی آئندہ سال ابھی گزرنے والے سال سے زیادہ گرم ہوگا۔

اسی بارے میں