کورونا وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی تصدیق، چار افراد ہلاک

وائرس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ چین کے گوانگ ڈونگ صوبے میں اس انفیکشن کے دو کیسز انسان سے انسان میں منتقلی کی وجہ سے ہوئے

چین کے علاقے ووہان سے شروع ہونے والے نئے وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی تصدیق کے ساتھ اس سے مرنے والے افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے جبکہ یہ وائرس اب ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی پھیل رہا ہے۔

کورونا وائرس کی اس نئی قسم کا تازہ شکار 89 سالہ ایک بزرگ شخص بنے جو چین کے شہر ووہان میں رہتے تھے۔

چین میں اس وائرس سے متاثرہ 200 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر ووہان میں ہوئے جبکہ بیجنگ، شنگھائی اور شینزین میں بھی لوگوں کو سانس کی تکالیف کی شکایت ہوئی ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے پیر کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چین کے گوانگ ڈونگ صوبے میں اس انفیکشن کے دو کیسز انسان سے انسان میں منتقلی کی وجہ سے ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

چین میں سانس کی بیماری کا باعث بننے والا نیا وائرس

آجکل بیماریاں پھیلانے والے مہلک ترین وائرس

جنسی وائرس کے بارے میں غلط فہمیاں

ایک الگ بیان میں ووہان میونسپل ہیلتھ کمیشن نے کہا ہے کہ ووہان میں کم از کم 15 طبی کارکن بھی اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ ان مریضوں کو علاج کے دوران الگ رکھا جارہا ہے۔

جنوبی کوریا نے بھی پیر کے روز اپنے پہلے کیس کی تصدیق کی ہے جبکہ تھائی لینڈ میں دو اور جاپان میں بھی ایک کیس سامنے آیا ہے۔ متاثرہ افراد حال ہی میں ووہان سے واپس آئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2002 میں چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے 774 افراد ہلاک ہوئے تھے

ان کیسز میں تیزی سے اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاکھوں چینی باشندے نئے قمری سال کے موقع پر سفر کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔

سنگا پور اور ہانگ کانگ میں فضائی سفر کے ذریعے وہاں سے آنے والوں کی سکرینگ کی جا رہی ہے۔ اسی طرح کے اقدامات امریکہ نے بھی جمعے کو اپنے تین بڑے ہوائی اڈوں پر لینے شروع کیے ہیں جن میں سان فرانسسکو، لاس اینجلس اور نیویارک شامل ہیں۔

آسٹریلوی حکام نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ووہان سے سڈنی آنے والے مسافروں کی سکریننگ شروع کریں گے۔

سائنس دانوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس وائرس کی وجہ سے چین میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد سرکاری طور پر بتائی گئی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔

برطانوی ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد 1700 کے قریب ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق چین میں اس وقت اس وائرس سے متاثرہ کیسز کی تعداد 218 ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنگاپور اور ہانگ کانگ میں فضائی سفر کے ذریعے وہاں سے آنے والوں کی سکرینگ کی جا رہی ہے

متاثرین کون ہیں؟

حکام کا کہنا ہے کہ یہ وائرس چین کے وسطی شہر ووہان سے پھوٹا، جس کی آبادی ایک کروڑ دس لاکھ کے قریب ہے۔

پیر کو اس کے 136 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ اس سے پہلے شہر میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 62 تھی۔

اتوار کی شام تک حکام کا کہنا تھا کہ 170 افراد کا ہسپتالوں میں علاج جاری ہے جن میں سے نو کی حالت نازک ہے۔

یاد رہے کہ سائنس دانوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک عجیب و غریب وائرس کی وجہ سے چین میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد سرکاری طور پر بتائی گئی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ تاہم برطانوی ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد 1700 کے قریب ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں یہ بات سامنے آئی کہ چین کے شہر ووہان میں دو افراد سانس کی کی بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ وائرس چین کے شہر ووہان شہر سے پھیلا

سائنسدان پروفیسر نیل فرگوسن کا کہنا ہے کہ وہ اس مرض کے پھیلنے کے حوالے سے اس سے زیادہ فکر مند ہیں جتنے وہ ایک ہفتے پہلے تھے۔

یہ تحقیق لندن کے ایمپیریل کالج میں ایم آر سی سینٹر برائے متعدی امراض کے ماہرین نے کی ہے۔ یہ ادارہ برطانیہ سمیت عالمی ادارہ صحت کو بھی تجاویز فراہم کرتا ہے۔

احتیاطی تدابیر:

ہانگ کانگ یونیورسٹی میں شعبہ پبلک ہیلتھ کے صدر گیبرئیل لیونگ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر دی ہیں :

  • اپنے ہاتھ بار بار دھویئں، اپنے ناک یا منہ کو مت رگڑیں۔
  • احتیاط کریں اور باہر جاتے ہوئے ماسک پہن کر رکھیں۔
  • پرہجوم جگہوں پر جانے سے اجتناب کریں۔
  • اگر آپ نے ووہان کا سفر کیا ہے تو اپنا طبی معائنہ ضرور کرائیں۔
  • اپنے ڈاکٹر سے ہرگز یہ بات مت چھپائیں کہ آپ نے ووہان کا سفر کیا۔

یہ وائرس کیا ہے؟

اس وائرس کے نمونوں کو ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری میں بھجوایا گیا جہاں ان پر تحقیق کی گئی۔

عالمی ادارہ صحت کے حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ کورونا وائرس ہے۔ اس وائرس کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ان میں سے چھ اور اس حالیہ وائرس کو ملا کر سات ایسی قسمیں ہیں جو انسانوں کو متاثر کرتی ہیں۔

ان کی وجہ سے بخار ہوتا ہے سانس کی نالی میں شدید مسئلہ ہوتا ہے۔ سنہ 2002 میں چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے 774 افراد ہلاک ہوئے اور مجموعی طور پر اس سے 8098 افراد متاثر ہوئے تھے۔

اس نئے وائرس کے جنیاتی کوڈ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ رسپائریٹری سنڈروم (سارس) سے ملتا جلتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں