#CoronoaVirus: کیا کورونا وائرس عالمی وبا بن سکتا ہے؟

Coronavirus under a microscope تصویر کے کاپی رائٹ BSIP

گذشتہ ماہ چین میں سامنے آنے والا کورونا وائرس اس وقت دنیا کے 20 ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ وائرس اس سے کہیں زیادہ پھیل سکتا ہے اور اس سے کہیں اور زیادہ لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔

اب تک اسے عالمی سطح کی وہا قرار نہیں دیا گیا ہے۔

تاہم حکام اس امکان کی تیاری کر رہے ہیں کہ دنیا کے سامنے آنے والی عالمی سطح کی بڑی وبا کورونا وائرس ہوسکتا ہے۔

پینڈیمک (عالمی سطح کی وبا) کیا ہوتی ہے؟

پینڈیمک کا لفظ ان بیماریوں کے لیے مخصوص ہے جب کسی انفیکشن سے دنیا بھر میں ایک ہی وقت بہت سے لوگ متاثر ہوں۔

اس کی سب سے تازہ مثال 2009 کا سوائن فلو پینڈیمک ہے جس میں ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔

کسی وبا کے پینڈیمک ہونے کا امکان اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب وائرس قدرے نیا ہو، اس کی لوگوں کو باآسانی انفیکٹ کرنے کی صلاحیت زیادہ ہو، اور یہ ایک انسان سے دوسری انسان تک باآاسانی منتقل ہو سکتا ہوں۔

بظاہر کورونا وائرس کی خصوصیات میں یہ سب شامل ہے۔

اب تک اس وائرس کی کوئی ویکسین یا علاج سامنے نہیں آیا اور اسی لیے اس کے پھیلاؤ کو روکنا انتہائی اہم ہے۔

کسی وبا کو پینڈیمک کب قرار دیتے ہیں؟

عالمی ادارہِ صحت کی تعریق کے مطابق کورونا وائرس ایک پینڈیمک یعنی عالمی وبا بننے سے بس ایک قدم ہی پیچھے رہ گیا ہے۔

یہ لوگوں میں ایک سے دوسری تک پھیل رہا ہے، چین کے متعدد ہمسایہ ممالک میں پایا گیا ہے اور ان ممالک سے باہر بھی پایا گیا ہے۔

اگر ہمیں مختلف ممالک میں کمیونٹی کی سطح پر بڑے پیمانے پر یہ نظر آنے لگا تو اسے عالمی وبا تصور کیا جائے گا۔

اس کا امکان کیا ہے؟

اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ بیماری کتنی شدید ہے اور یہ کتنی دور تک پھیلے گی۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس آدنوم کا کہنا ہے کہ اب تک چین سے باہر اس بیماری کا پھیلاؤ بظاہر آہستہ اور کم ہی ہے۔

اب تک کورونا وائرس کے 17000 کیسز کی تشخیص ہو چکی ہیں اور 360 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر چین میں ہیں۔

چین سے باہر 150 کیسز کی تشخیص ہوئی ہے اور فلپائن میں ایک ہلاکت بھی ہو چکی ہے۔

ہر پینڈیمک مختلف ہوتا ہے، اور جب تک کوئی وائرس پھیلنا شروع نہیں ہو جاتا اس کے مکمل اثرات کی پیشگوئی کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

تاہم ماہرین کی رائے میں کورونا وائرس ماضی کی وبائوں کے مقابلے میں کم مہلک ہوگا جیسے کہ سارز۔

اگرچہ عالمی ادارہِ صحت نے کہا ہے کہ مختلف ممالک کو اس کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھانے چاہیئیں مگر ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس وقت کوئی وجہ نہیں ہے کہ عالمی تجارت یا ٹریول کو مزید روکا جائے۔

اسی بارے میں