الیکٹرک رکشہ: ’قیمت زیادہ ہو گی مگر سواری سستی‘

  • عمیر سلیمی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
رکشہ

آٹو رکشے میں بیٹھنے سے قبل کرائے پر رکشہ ڈرائیور سے بحث ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ’ارے بھائی اِدھر ہی تو جانا ہے‘ کا جواب اکثر ’جناب پٹرول اور گیس کے ریٹ بڑھ گئے ہیں‘ کی صورت میں ملتا ہے اور تھوڑی بحث اور گلے شکوؤں کے بعد عموماً قابل قبول کرائے پر اتفاق ہو جاتا ہے۔

پاکستان کے اکثر چھوٹے بڑے شہروں میں لوگ آمد و رفت کے لیے تین پہیوں والی گاڑی استعمال کرتے ہیں جسے آٹو رکشہ کہا جاتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں رکشوں کی مدد سے کئی لوگ اپنی منزل مقصود پر پہنچتے ہیں۔

حالی ہی میں ایک پاکستانی آٹو کمپنی ’سازگار انجینئرنگ ورکس‘ نے ایک ’ماحول دوست‘ الیکٹرک رکشے کی رونمائی کی ہے۔ پٹرول یا گیس کے بجائے بجلی سے چلنے والا یہ رکشہ تاحال مارکیٹ میں متعارف تو نہیں کروایا گیا مگر خیال ہے کہ اس کی قیمت کسی عام رکشے سے زیادہ ہو گی۔ تاہم کمپنی کے مطابق اس کی سواری سستی پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیے

اس صنعت سے وابستہ لوگوں کے مطابق حکومت ملک میں الیکٹرک گاڑیاں اور موٹر سائیکل متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے لیکن اعلان کردہ الیکٹرک وہیکل پالیسی پر عمل درآمد تاخیر کا شکار ہے۔

،ویڈیو کیپشن

’سازگار انجینئرنگ ورکس‘ نے ایک ’ماحول دوست‘ الیکٹرک رکشے کی رونمائی کی ہے

الیکٹرک رکشے میں کیا ہے؟

سازگار کے الیکٹرک رکشے کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان میں تیار کیا گیا ہے لیکن اس کے کچھ حصے درآمد شدہ ہیں۔

کمپنی سے وابستہ میاں علی کا کہنا تھا کہ ’پورا رکشہ پاکستان میں بنا ہے اور پاکستان میں ڈیزائن ہوا ہے۔‘

’سوائے بیٹری، موٹر اور کنٹرولر کے (جو درآمد شدہ ہیں)۔ وہ بھی پاکستان میں بن سکتے ہیں۔ جیسے ہی پاکستان میں الیکٹرک وہیکل پالیسی آتی ہے، اس کی صنعت پاکستان میں لگ جائے گی تو یہ رکشہ 100 فیصد پاکستانی ہو جائے گا۔‘

علی بتاتے ہیں کہ یہ الیکٹرک رکشہ میں، جو فی الحال ایک نمونے کے طور پر تیار کیا گیا ہے، انجن کی جگہ بیٹری نصب کی گئی ہے۔ ’اس کی موٹر بیٹری سے چلتی ہے اور انجن کی کارکردگی کو کنٹرولر سنبھالتا ہے۔‘

اسے چارج کیسے کیا جائے گا؟

،تصویر کا کیپشن

الیکٹرک رکشے کو پانچ گھنٹوں میں چارج کر کے 170 کلومیٹر تک چلایا جا سکے گا

بجلی سے چلنے والے اس رکشے میں 48 وولٹ بیٹری، تین کلو واٹ کی موٹر اور کنٹرولر موجود ہیں۔ یہ اس کے انجن کی جگہ یعنی رکشہ ڈرائیور کی سیٹ کے نیچے موجود ہیں۔

اس کی پچھلی سیٹ کے نیچے پڑی تار کی مدد سے اسے چارج کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ کسی بھی گھر، دفتر یا خاص چارجنگ پوائنٹ پر چارج ہو سکے گا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس الیکٹرک رکشے کو پانچ گھنٹوں میں چارج کر کے 170 کلومیٹر تک چلایا جا سکتا ہے۔

جبکہ سواریوں کے ساتھ اس کی حد رفتار 80 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔

الیکٹرک رکشے کی سواری سستی پڑے گی؟

،تصویر کا کیپشن

الیکٹرک رکشہ کی قیمت روایتی رکشہ سے زیادہ ہو گی تاہم اس کو بنانے والی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی سواری سستی پڑے گی

اس وقت پاکستان میں زیادہ تر رکشے پٹرول، ایل پی جی یا سی این جی پر چلتے ہیں۔

پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں بتدریج اضافے کی وجہ سے ان کے کرایے بھی بڑھ چکے ہیں جن سے عوام اکثر پریشان دکھائی دیتی ہے۔

علی کہتے ہیں کہ برقی رکشے میں بیٹھنے والوں کو اس لیے بچت ہو گی کیونکہ ’جب رکشہ ڈرائیور کا خرچہ کم ہو گا تو رکشے کی سواری کا کرایہ خود ہی کم ہو جائے گا۔‘

’ایک لیٹر پٹرول میں جتنا رکشہ چلتا ہے، اتنا ہی ایک یونٹ بجلی میں چل سکتا ہے۔ بجلی کا ایک یونٹ 20 سے 21 روپے کا ہے۔ ایک لیٹر پٹرول 117 روپے کا ہے۔ تو یہ آپ کی براہ راست بچت ہے۔‘

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ برقی رکشے سے ڈرائیور سالانہ ڈھائی لاکھ روپے پٹرول اور گیس یعنی فیول کی مد میں بچا سکیں گے سالانہ 30 ہزار روپے اس کی دیکھ بھال (یعنی ٹیوننگ اور موبل آئل) کے خرچے میں بچائے جا سکیں گے۔

علی کہتے ہیں کہ اس میں ’موونگ پارٹس کم ہیں اس لیے اس کا خرچہ کم ہوگا۔۔۔ آئل تبدیل نہیں کرنا پڑتا، رنگ، پسٹن نہیں ڈالنے پڑتے، اس میں کلچ پلیٹیں نہیں ہوتیں جو انجن میں گھس جاتی ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشن

الیکٹرک رکشہ کی بیٹری، موٹر اور کنٹرولر درآمد شدہ ہیں مگر باقی تمام پارٹس پاکستان ہی میں تیار کیے گئے ہیں

بجلی سے چلنے والا رکشہ ’مہنگا ہو گا‘

یہ الیکٹرک رکشہ تاحال بازار میں لوگوں کے خریدنے کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی قیمت کا تعین نہیں کیا جا سکا مگر خیال ہے کہ عام آٹو رکشے کے مقابلے اس کی قیمت کافی زیادہ ہو گی۔

سازگار نے اس بارے میں کوئی واضح تاریخ نہیں دی کہ یہ رکشہ مارکیٹ میں کب متعارف کرایا جائے گا اور وہ حکومتی الیکٹرک وہیکل پالیسی کے نفاذ اور ڈیوٹی میں رعایت کے منتظر ہیں جس کے بعد ہی وہ بڑے پیمانے پر الیکٹرک رکشے کی مقامی سطح پر اسمبلی کا باقاعدہ آغاز کر سکیں گے۔

علی نے تسلیم کیا ہے کہ یہ شروع میں کچھ مہنگا ہو گا۔

آمد و رفت سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی

،تصویر کا کیپشن

برقی رکشے سے ڈرائیورز سالانہ ڈھائی لاکھ روپے پٹرول اور گیس یعنی فیول کی مد میں بچا سکیں گے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

دوسری طرف بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی حمایت کرنے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ پٹرول، ڈیزل اور دیگر حیاتیاتی ایندھن کے جلنے سے ماحولیاتی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔

صوبہ پنجاب میں فضائی آلودگی اور سموگ پر اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق آمد و رفت کے شعبے سے تقریباً 43 فیصد آلودگی کا اخراج ہوتا ہے۔

اسی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ماحولیاتی امور پر کام کرنے والے وکیل اور کارکن رافع عالم کہتے ہیں کہ پاکستان میں پٹرول اور دیگر دستیاب ایندھن کا معیار اچھا نہیں، اس لیے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور ذرائع آمد و رفت سے آلودگی کچھ حد تک کم ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ شہروں میں ایسی پرانی گاڑیوں اور رکشوں پر پابندی نافذ ہونی چاہیے جو فضائی آلودگی پیدا کرتے ہیں اور ڈرائیوروں کو ایسی نئی ٹیکنالوجی خریدنے میں مدد ملنی چاہیے تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہو سکے۔

علی کہتے ہیں ’جس طرح پہلے ٹو سٹروک رکشہ تھا، فور سٹروک کی کیا ضرورت تھی۔ وہ ماحول دوست تھا، شور کم تھا۔ لوگ اس میں زیادہ پُرسکون تھے۔‘

’اسی طرح یہ ماحول دوست ہو گا۔ جو سموگ ہر وقت پاکستان میں ہو رہا ہے، اس کو ختم کرے گا۔ گاڑی کے دھویں سے سموگ بڑھتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہ حکومت کی الیکٹرک وہیکل پالیسی طے ہونے کے بعد ہی خریدا جا سکے گا۔

اس کے علاوہ کمپنی کا کہنا ہے کہ عام رکشہ بھی الیکٹرک رکشہ بن سکتا ہے۔

’رکشے کا انجن اتر سکتا ہے، اس میں بیٹری لگ سکتی ہے۔ موٹر، کنٹرولر لگ سکتے ہیں۔ عام رکشہ بھی الیکٹرک میں تبدیل ہو سکتا ہے۔‘

پاکستان کی اعلان کردہ الیکٹرک وہیکل پالیسی میں بجلی سے چلنے والے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور بسوں کو فروغ دینے کی بات کی گئی ہے تاکہ ذرائع آمد و رفت سے پیدا ہونے والی آلودگی ختم کی جا سکے۔

تاہم اب تک بظاہر اس سلسلے میں عملی اقدامات نہیں ہو سکے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی اعلان کردہ الیکٹرک وہیکل پالیسی کے مطابق حکومت اگلے پانچ برسوں میں ایک ہزار بجلی سے چلنے والی بسیں خریدے گی اور انھیں سڑکوں پر نجی کمپنیوں کی مدد سے چلائے گی۔

اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سنہ 2030 تک ملک کی 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی جبکہ کچھ مقامی سی این جی سٹیشنز کو الیکٹرک چارجنگ یونٹس بنایا جائے گا۔