مصنوعی ذہانت سے طاقتور اینٹی بائیوٹک کی دریافت

سائنسدان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک نئی طرز کی ’طاقت ور‘ اینٹی بائیوٹک دریافت کی ہے۔ =

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دریافت دواؤں سے مدافعت کے بڑھتے مسئلے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔

اس دوا کو بنانے کے لیے ایک طاقت ور ایلگورتھم استعمال کیا گیا تھا جس کے ذریعے 10 کروڑ کیمیائی مرکبات کا چند ہی دنوں میں جائزہ لیا گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس نئے اینٹی بائیوٹک سے 35 اقسام کے موذی بیکٹیریا کے خاتمے میں مدد ملی ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں اینٹی بائیوٹک رزسٹینٹ انفیکشنز (ایسے انفیکشنز جن میں دوائیں سودمند ثابت نہیں ہوتیں) میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ میں سنہ 2017 اور 2018 کے درمیان ان کی تعداد میں نو فیصد اضافہ ہوا جس سے یہ تعداد 61 ہزار تک جا پہنچی۔

یہ بھی پڑھیے

جدید ٹیکنالوجی چہرے پہچاننے میں نسلی تعصب کا شکار

مصنوعی ذہانت خودکشی کو روکنے میں مددگار

پہلے سے ہزار گنا زیادہ طاقتور اینٹی بائیوٹک تیار

اگر اینٹی بائیوٹکس کو بغیر کسی وجہ کے استعمال کیا جائے تو آپ کے جسم میں موجود خطرناک بیکٹیریا کی ان کے خلاف مدافعت بڑھ سکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دوائیں اس وقت کام نہیں کریں گی جب ان کی اشد ضرورت ہو گی۔

عالمی ادارہ صحت نے اینٹی بائیوٹک رزسٹینس کو ’دنیا میں صحت کے تحفظ اور بہتری کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔‘

ایک نیا دور

میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں اس پراجیکٹ پر کام کرنے والی سینیئر محقق ریجینا بارزیلے نے کہا کہ ’اینٹی بائیوٹکس کے حوالے سے یہ اپنی طرز کی پہلی دریافت ہے۔‘

یہ دریافت ایک ایلگورتھم کے ذریعے کی گئی جو انسانی دماغ کے ڈیزائن کو دیکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔

سائنسدانوں نے اس ایلگورتھم کی تربیت 2500 کے قریب دواؤں کے ڈھانچوں کا جائزہ لے کر کروائی اور ساتھ ہی اس نے ایسے مرکبات بھی ڈھونڈے جن میں بیکٹیریا کش خصوصیات موجود ہوں اور وہ ایک عام بیکٹیریا ای کولی کو مار سکیں۔

انھوں نے پھر ان مرکبات میں سے 100 کا انتخاب کیا اور ان کے ٹیسٹ کیے جس کے نتیجے میں ہیلیسن نامی اینٹی بائیوٹک دریافت کی گئی۔

اس ٹیم میں کام کرنے والے ایک بائیو انجینیئر جیمز کالن کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ اب تک کے سب سے زیادہ طاقت ور اینٹی بائیوٹکس میں سے ایک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے تھے کہ ایک ایسا نظام مرتب کریں جس کے ذریعے ہم مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے اینٹی بائیوٹک دواؤں کی دریافت کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکیں۔‘

مزید پڑھیے

جذبات جانچنے والی ٹیکنالوجی پر پابندی کا مطالبہ

چین کا عسکری مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال

جیک ما بمقابلہ ایلون مسک یا انسان بمقابلہ کمپیوٹر

انسٹیٹیوشن آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ہیلتھ کیئر پینل کے چیئرمین ڈاکٹر پیٹر بینسٹر کا کہنا ہے کہ جو طریقہ کار یہاں استعمال کیا گیا وہ طبی تحقیق میں پہلے سے ’تسلیم شدہ‘ ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا اسی طرز پر نئے تھیراپیوٹکس بنانے کا کام بھی جاری ہے جیسے فارماسوٹیکلز اور اس تحقیق میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے اینٹی بائیوٹکس کی دریافت کے لیے نمونوں کی شناخت اور ڈیپ لرننگ کے ذریعے مالیکیولز کی ایک کثیر تعداد کو جانچا گیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ تحقیق تھیوریٹکل سمیولیشن سے آگے نکل گئی ہے اور اس کے ذریعے ان دواؤں کو انسانوں پر آزمانے سے پہلے تجربے سے گزارا گیا ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے ذریعے دوا کی افادیت اور اس کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘

سنہ 2014 سے برطانیہ میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں سات فیصد تنزلی واقع ہوئی ہے لیکن خون میں ایسے انفیکشنز جن پر دوائیں کارگر ثابت نہیں ہوتیں ان میں سنہ 2013 سے 2017 کے درمیان تقریباً 35 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

محققین کا مزید کہنا تھا کہ اس مشین کے استعمال سے دواؤں کی دریافت میں اضافے سے اینٹی بایئوٹکس کی لاگت میں کمی آئے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption ڈبلیو ایچ او کے مطابق اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے اور کوئی نئی دوا نہیں ہے

اہم دریافتیں

چند ہفتوں قبل مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک ڈرگ مالیکیول دریافت کیا گیا تھا جو اپنی طرز کا ایسا پہلا مالیکیول تھا جسے انسانوں پر آزمایا جانا تھا۔

اس کی مدد سے ایسے مریضوں کا علاج ممکن ہو سکے گا جنھیں آبسیسِو کمپلسِو ڈس آرڈر یعنی او سی ڈی کا عارضہ لاحق ہے۔

مصنوعی ذہانت کا طبی تحقیق میں استعمال ابھی نیا ہی ہے لیکن اس حوالے سے آئے دن اہم دریافتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے چھاتی کے کینسر کی تشخیص ڈاکٹرز کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے کی جا سکتی ہے۔

ایک بین الاقوامی ٹیم جس میں گوگل ہیلتھ اور امپیریئل کالج آف لندن کے محققین بھی شامل ہیں نے ایک ایسا کمپیوٹر ماڈل ڈیزائن کیا جو ایکس ریز پڑھ سکے۔ اس کے بعد اس ماڈل کی تربیت 29 ہزار خواتین کے ایکس رے امیجز کے ذریعے کروائی گئی۔

اس ایلگورتھم نے میمو گرامز پڑھنے میں چھ ریڈیالوجسٹ سے بہتر کارکردگی دکھائی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں