اینکیفالائٹس کے عارضے کے باعث زندگی کے پانچ برس بھول جانے والی جارجیا لی

جارجیا لی تصویر کے کاپی رائٹ GEORGIA LEE

جارجیا لی کو اب بھی اپنے یونیورسٹی کے دنوں کے بارے میں کچھ یاد نہیں ہے۔

ایک عرصے تک 23 برس کی جارجیا کو اپنے بوائے فرینڈ تک کے بارے میں کچھ یاد نہیں تھا۔

جارجیا نے اپنی یادداشت میں سے پانچ برس اس وقت کھوئے جب وہ 22 برس کی عمر میں اینکیفالائٹس کے عارضے کا شکار ہوئیں۔ یہ ایک خطرناک عارضہ ہے جس میں جسم میں مختلف وائرسز کے پھیلنے سے دماغ پر سوجن ہو جاتی ہے۔

جارجیا نے ریڈیو 1 نیوز بیٹ کو بتایا کہ ’مجھے سر میں مسلسل دو ہفتوں تک ماتھے کے ایک ہی حصے میں درد رہتا تھا۔

’کسی قسم کی دوا کارگر ثابت نہیں ہو رہی تھی۔ پھر ایک دن میں نے اپنے بوائے فرینڈ کو ایک ایسا پیغام بھیجا جس کا کوئی مطلب نہیں تھا'

جب جارجیا کے والد انھیں پوچھنے آئے تو انھیں احساس ہوا کہ مسئلہ گھبمبیر ہے تو وہ انھیں فوراً ہسپتال لے گئے۔

پہلے تو ڈاکٹرز کو لگا کہ شاید انھیں میننگائٹس کا عارضہ لاحق ہے لیکن جب انھیں دورہ پڑا تو ان میں اینکیفالائٹس کی تشخیص ہو گئی۔

دی اینکیفالائٹس سوسائٹی کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال اس عارضے سے تقریباً پانچ لاکھ افراد متاثر ہوتے ہیں جن میں سے 6000 کیسز برطانیہ میں ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ GEORGIA LEE
Image caption دی اینکیفالائٹس سوسائٹی کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال اس بیماری سے تقریباً پانچ لاکھ افراد متاثر ہوتے ہیں جن میں سے 6000 کیسز برطانیہ میں ہوتے ہیں

جب وہ ہسپتال میں تھیں اور ان سے پوچھا گیا کہ وہ کتنے برس کی ہیں تو جارجیا نے جواب دیا کہ وہ 17 برس کی ہیں کیونکہ انھیں اس کے بعد کچھ یاد نہیں تھا۔

جارجیا کا کہنا ہے کہ انھیں اب بھی لگتا ہے کہ وہ 23 برس سے چھوٹی ہیں اور ان کی یادداشت کبھی بھی مکمل طور پر واپس نہیں آئی یہاں تک کہ کہ انھیں اپنی یونیورسٹی کی ڈگری کے حوالے سے بھی کچھ علم نہیں۔

ان کی صحت یابی میں روز مرہ کے ایسے کام دوبارہ سے سیکھنا شامل تھا جنھیں ہم سنجیدگی سے نہیں لیتے جیسے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال یا دوستوں سے ملنا۔

انھوں نے بتایا کہ ’عام چیزیں جیسے بس پر خود سے سوار ہونا، دکانوں میں جانا یا کسی کے گھر جانا اب بہت بڑی بات لگتے ہیں۔‘

انھیں اپنا ڈرائیونگ ٹیسٹ بھی دوبارہ سے دینا پڑا کیونکہ انھیں یہ بھی بالکل بھول چکا تھا کیونکہ ٹیسٹ دیتے وقت ان کی عمر 18 برس تھی۔

اس بیماری کے باعث ان کے رشتوں پر بھی اثر پڑا ہے۔ یہاں تک کہ جارجیا کو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں بھی وقت لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ GEORGIA LEE

انھوں نے کہا کہ 'مجھے اس کے بارے میں سب کچھ دوبارہ سے جاننا پڑا ویسے ہی جیسے مجھے اپنی یونیورسٹی کے تمام دوستوں کے بارے میں جاننا پڑا۔'

'وہ شروعات میں کچھ مضطرب سا تھا۔ پھر اس نے اسے حقیقت کو آہستہ آہستہ اپنانا شروع کیا۔ وہ مجھے ہمارے ماضی کے بارے میں بتاتا اور تمام تصاویر بھی دکھاتا۔'

آج جو میں کھاتی ہوں اس سے مجھے پہلے نفرت تھی

جارجیا کو اینکیفالائٹس ہرپیز وائرس کی وجہ سے ہوا لیکن بجائے اس کے کہ یہ ان کے ہونٹ پر سوجن کا باعث بنتا، یہ وائرس ان کے گلے سے ہوتا ہوا دماغ تک پہنچ گیا۔

اس بیماری کے سائڈ افیکٹس مختلف ہو سکتے ہیں لیکن جارجیا نے اپنی چکھنے اور سونگھنے کی حس بھی کھو دی اور ان دونوں میں کوئی بھی ابھی تک بحال نہیں ہوئی۔

میری سونگھنے کی حس سرے سے ہے ہی نہیں۔ مجھے بہت زیادہ تیکھے اور میٹھے کھانوں کا ذائقہ آتا ہے لیکن بس اتنا ہی۔ حال ہی میں میں نے ایک ریستوران میں پیزا آرڈر کیا جس میں اناناس، شامل تھے۔

'یعنی جن کھانوں کا مجھے ذائقہ آتا ہے وہ ایسے کھانے ہیں جن سے مجھے نفرت تھی۔

جب جارجیا کو کسی چیز کا ذائقہ نہ آئے تو وہ یا تو اسے گرم شیرے یا ٹماٹر کی چٹنی کے ساتھ کھاتی ہیں تاکہ ذائقہ تیز ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GEORGIA LEE

میرے دوستوں کو ان کی پسند کی نوکریاں مل چکی ہیں

اینکیفالائٹس کے باعث جارجیا کے ماضی کا کچھ حصے مٹا ہے لیکن ان کو ڈر ہے کہ اس سے ان کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ 'میں مثبت سوچنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن مجھے منفی انداز میں سوچنا قدرِ آسان لگتا ہے۔'

ساتھ ہی انھوں نے بتایا کہ ان کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم کے بارے میں کچھ بھی یاد نہ ہونا نوکری تلاش کرنے میں مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

'اگر میرے پاس اپنے سکستھ فارم یا ڈگری کے بارے میں انھیں کہنے کے لیے کچھ بھی نہ ہو تو پھر میں نوکری کے دوران کیا کروں گی؟'

ان کے لیے دوستوں کے ساتھ دوبارہ روابط بنانا بھی مشکل ثابت ہوا ہے اور وہ اب اپنی زندگیوں میں مختلف جگہوں پر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'میرے بہت سارے دوستوں کو ابھی سے ان کی من پسند نوکریاں مل گئی ہیں، کچھ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھر بھی۔'

'مجھے ایسے لگتا ہے کہ مجھے آگے بڑھنے میں اور حوصلہ بڑھانے میں خاصا وقت لگے گا۔'

تاہم جارجیا اپنے مستقبل کے حوالے سے پرامید ہیں اور مثبت سوچ کے ساتھ اپنی صحتیابی کے مراحل گزار رہی ہیں۔

'میرا دل کرتا ہے کہ مجھے یونیورسٹی کے بارے میں کچھ یاد ہو۔ لیکن میں ہمیشہ سوچتی ہوں کہ میں کتنی خوش نصیب ہوں کہ صرف پانچ سال کا نقصان ہوا ہے پوری زندگی کا نہیں۔'

اسی بارے میں