کورونا وائرس: پینگولیئن میں کووڈ۔19 نما وائرس کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین میں سمگل کیے جانے والے پینگولیئن میں کووڈ۔19 نما وائرس کی تصدیق ہوئی جو کہ پوری دنیا میں پھیل گیا ہے۔

ایک بین الاقوامی ٹیم نے کہا ہے کہ جنگلی جانوروں کی منڈی میں ان کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

پینگولیئن ان دودھ پلانے والے جانوروں میں سے ایک ہے جن کو زیادہ تر غیر قانونی طریقے سے سمگل کیا جاتا ہے اور انھیں روایتی دوائیوں اور خوراک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

چمگادڑوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اصل میں ان سے یہ بیماری شروع ہوئی تھی۔

کورونا وائرس کس چیز پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟

کیا دیہی پاکستان کورونا سے نمٹ سکتا ہے؟

پانچ چیزیں جو فوج عالمی وبا سے مقابلے کے لیے کر سکتی ہے

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جینیاتی ڈیٹا بتاتا ہے کہ ’ان جانوروں کو چھونے اور انھیں لانے لیجانے کے عمل میں انتہائی احتیاط کی ضرورت اور اس لیے جانوروں کی منڈی میں ان کی خرید و فروخت سخت ممنوع قرار دے دینی چاہیئے۔‘

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے جنگلوں میں پینگولیئن پر مزید تحقیق ہونی چاہیئے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں ان کے کردار اور مستقبل میں انسانوں میں اس کی ٹرانسمیشن کے متعلق جانا جا سکے۔

چیونٹیاں کھانے والا کھپروں یا چھلکوں والا یہ میمل دنیا میں سب سے زیادہ سمگل کیا جانے والا جانور ہے اور معدومیت کا شکار ہے۔ اس کے کھپروں کی ایشیا میں بڑی طلب ہے اور انھیں روایتی چینی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ کچھ لوگ پینگولیئن کے گوشت کو ایک نفیس غذا سمجھتے ہیں۔

پینگولین اور دیگر جنگلی حیات جن میں کئی طرح کی چمگادڑیں بھی شامل ہیں اکثر گیلے بازاروں میں فروخت کی جاتی ہیں ( ایسے بازار جہاں زندہ جانوروں کو پانی میں رکھا جاتا ہے) جس سے ایک سے دوسرے جانور میں وائرس پھیلنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ تو ایسے بازاروں میں ہی جانوروں اور انسانوں میں وائرس پھیلنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں