خلائی سٹیشن کو جراثیم سے کیسے پاک رکھا جاتا ہے؟

خلائی سٹیشن میر زمین کے گرد گردش کرتے ہوئے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خلائی سٹیشن میر زمین کے گرد گردش کرتے ہوئے

سنہ 1998 تک روس کے خلائی سٹیشن ’میر‘ کو خلا میں گردش کرتے ہوئے 12 سال گزر چکے تھے اور وقت کے ساتھ اس میں بار بار بجلی کی سپلائی میں خلل، کمپیوٹر کے نظام میں خرابی اور درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والا نظام خراب ہونا شروع ہو گیا تھا۔

اور پھر اس پر کام کرنے والے اہلکاروں نے اپنے ماحول میں موجود مائیکروبز یعنی خوردبینی جرثوموں کا جائزہ لینا شروع کیا۔

جو معلومات سامنے آئیں وہ جان کر اُنھیں سخت حیرت ہوئی۔ سپیش سٹیشن کا معائنہ کرنے کے لیے لگائے گئے پینل ہٹائے گئے تو ان کے پیچھے گدلا پانی ملا۔ بعد میں اس کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ پانی بیکٹیریا اور جراثیم وغیرہ سے بھرا ہوا تھا۔

اس بھی زیادہ پریشان کُن بات یہ تھی کہ یہ بیکٹریا اور جراثیم خلائی سٹیشن کی کھڑکیوں کے گرد ربڑ کی سیل کو کھا رہے تھے، یہی نہیں یہ جاندار، جن سے تیزابی مادے کا اخراج ہوتا ہے، بجلی کی تاروں کو بھی کھا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

بیکٹیریا جو خطرناک جراثیم کو کھا جاتا ہے

خلاباز خلا میں کیا اور کیسے کھاتے ہیں؟

ضرورت برائے سٹاف! ناسا کو نئے خلاباز درکار ہیں

جب ’میر‘ سپیس سٹیشن کا کوئی بھی موڈیول زمین سے چلتا ہے تو اسے انجینئیرز مکمل طور پر صاف کمروں میں حفاظتی ماسکس اور لباس پہن کر تیار کرتے ہیں۔ سپیس سٹیشن میں موجود غیر ضروری جراثیم سٹیشن پر مختلف اوقات میں آنے والے خلا بازوں کے ساتھ آئے تھے اور یوں ان جراثیم نے خلا میں قائم اس لیبارٹری میں اپنا گھر بنایا۔

ہمارے جسم اور ہماری زندگی میں مائیکروبز ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔

پیٹ میں موجود بیکٹیریا سے لے کر جسم پر موجود جراثیم جھڑ جانے والی جلد کھاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے جسم پر آدھے سے زیادہ خلیے انسانی نہیں ہوتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NASA

زیادہ تر مائیکروبز انتہائی مفید ہوتے ہیں اور ہمیں کھانا ہضم کرنے اور بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں اپنے ساتھ اس حیات کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں اور یہ خلا پہنچنے کے بعد زندگی رہنے کے لیے اپنے آپ کو ڈھال لیتے ہیں۔

آج کل کے حالات میں جب دنیا بھر میں لوگ کورونا وائرس کا مقابلہ کر رہے ہیں یہ دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خلا میں خلائی سٹیشن کو نقصان دہ جراثیم سے کیسے پاک رکھا جائے؟

میر سپیس سٹیشن کے تجربے سے سائنسدانوں کو یہ پریشانی ہوئی کہ خلائی سٹیشن پر ایسے اور کون سے مائیکروبز موجود ہیں جو سٹیشن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ اور اس بھی زیادہ یہ کہ وہ وہاں موجود خلا بازوں کو کس طرح خطرے میں ڈال سکتے ہیں؟

سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر 55 اقسام کے خوردبینی جرثومے موجود ہیں۔

خلا میں کشش ثقل نہ ہونے کے باوجود ان بیکٹیریاز اور جرثوموں نے اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھال لیا تھا۔ آسٹریا میں یونیورسٹی آف گراز کے مؤسل ائخنگر کے مطابق ان کے اندر اینٹی بائیوٹک کا مقابلہ کرنے کی اتنی ہی طاقت تھی جتنی زمین پر تھی، مگر ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہ جرثومے دھاتوں کی سطح پر جمع ہو رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images/NASA

دھاتوں کو کھانے والے جراثیم کو ٹیکنوفیلز کہا جاتا ہے اور روسی خلائی سٹیشن میر کی طرح سپیس سٹیشن کو بھی ان سے خطرہ ہے۔

ان کی آبادی پر کنٹرول رکھنے کی ذمہ داری بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر موجود اہلکاروں کی ہے۔ ہر ہفتے خلابازوں کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ خلائی سٹیشن کے اندر سطحوں کو جراثیم کُش وائپس سے صاف کریں اور سٹیشن کے اندر معلق کچرے کو ویکیوم کلینر سے صاف کریں۔

اسی طرح باورچی خانے اور ورزش کی مشینوں کو صاف رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ پسینے وغیرہ کی وجہ سے پھپھوندی نہ لگ جائے۔

یورپیئن سپیس ایجنسی کے کرسٹوف لاسؤر کہتے ہیں کہ صفائی کے علاوہ سٹیشن کے اندر ہوا اور پانی کو صاف رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔ تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اور خوردبینی جرثومے ایک دوسرے کے ساتھ گزارا کر سکتے ہیں۔

اب اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ جب انسانی مشن اپنے جراثیم لے کر مریخ پر جائے گا تو کیا ہو گا؟

اس وقت مریخ پر جو کچھ بھی بھیجا جاتا ہے اُسے بہت صاف رکھا جاتا ہے۔ یورپیئن سپیس ایجنسی کے مارز روّر کو برطانیہ کے صاف ترین کمرے میں تیار کیا گیا تھا۔ انجینئیرز نے تیاری کے دوران خاص انڈر ویئر پہن رکھے تھے، پورے بدن پر مخصوص سوٹ تھا، چہرے پر ماسک تھا جبکہ ہاتھوں پر دستانے پہنے گئے تھے۔

اس سال کے آخر میں مشن پر جانے والے ایکزو مارز روّر کا مقصد مریخ پر زندگی کی تلاش ہے، اسی لیے یہ اہم ہے کہ اس پر زمین سے کوئی جاندار چیز یہ مادہ نہ جائے۔ مگر جب انسان مریخ پر جائیں گے تو وہ خود مکمل طور پر جراثیم سے پاک نہیں ہوں گے۔

خلابازوں کے جسموں کو ہر قسم کے جرثوموں سے پاک کرنا ناممکن ہو گا، اور اگر ایسا کیا جائے تو یہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔ ایک ایسی جگہ جو جراثیم سے پاک ہو وہاں اس بات کا خیال کیسے رکھا جائے کہ کہیں زمین سے گئی حیات مریخ کو آلودہ نہ کر دے؟

تصویر کے کاپی رائٹ NASA

یورپیئن سپیس ایجنسی کے پلینیٹری پروٹیکشن آفیسر جرہارڈ کمینک کہتے ہیں کہ خلاباز خلائی سوٹ پہنتے ہیں تاکہ وہ انھیں زندہ رکھ سکے مگر یہ سوٹ جراثیم کو بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ چیلنج یہ ہو گا کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ سپیس سوٹ کے اوپر انسانی جراثیم نہ ہوں۔

دنیا بھر کی سپیس ایجنسیاں عنقریب اس پر اپنی اپنی آرا دیں گی کہ مریخ کو انسانی مشن کے دوران کیسے نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ مریخ سے کوئی حیات زمین پر نہ آ جائے۔ مریخ کی مٹی اور پتھر کو زمین پر لانے کے مشن پر کام ہو رہا ہے اور یہ ممکن ہے کہ تجزیے کے لیے لائے گئے نمونوں پر کوئی زندگی ہو۔

مگر فی الحال مائیکرو بائیولوجسٹ ایک اور چیز کے منتظر ہیں۔ 50 سال پہلے اپالو مشن کے دوران چاند پر انسانی فضلے کے 96 بیگز چھوڑے گئے تھے۔ ناسا پُرامید ہے کہ جب اگلی دہائی میں انسان چاند پر واپس جائیں گے تو ان میں سے کچھ بیگز واپس لے کر آئیں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ان میں کوئی بیکٹیریا اب بھی زندہ بچا ہے کہ نہیں۔

اگر وہ زندہ ہوئے تو سائنسدانوں کو انسانی مائیکروبیوم کے بارے میں مزید معلومات ملے گی۔

اسی بارے میں