کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

ٹیسٹنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اگرچہ جنوبی کوریا کی آبادی برطانیہ سے کم ہے لیکن ان کے پاس دگنی تعداد میں لیبارٹریاں اور برطانیہ کے مقابلے میں ہفتہ وار ٹیسٹنگ کی ڈھائی گنا زیادہ صلاحیت موجود ہے

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور جہاں اس سے 200 سے زیادہ ممالک میں 25 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں وہیں ہلاکتوں کی تعداد بھی ایک لاکھ 71 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔

دنیا بھر کی حکومتوں نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مختلف طریقوں سے اپنا ردِعمل ظاہر کیا ہے اور عالمی ادارۂ صحت نے جن چیزوں کو اس کوشش میں سب سے اہم قرار دیا ہے ان میں سے ایک اس بیماری کی تشخیص کے لیے زیادہ سے زیادہ افراد کی ٹیسٹنگ کا عمل ہے۔

دنیا میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کا عمل مختلف ممالک میں مختلف رفتار سے جاری ہے۔ امریکہ میں جہاں ابتدا میں اس عمل میں سست رفتاری دکھائی دی وہ اب دنیا میں سب سے متاثرہ ملک بن چکا ہے اور اب وہاں ٹیسٹنگ کے عمل میں تیزی آئی ہے۔

وہیں جنوبی کوریا اور جرمنی جیسے ممالک نے وبا کے آغاز سے ہی جارحانہ انداز میں ٹیسٹنگ کا عمل شروع کیا جس کا نتیجہ وہاں کم اموات کی صورت میں نکلا ہے۔

پاکستان کی بات کی جائے تو وہاں بھی ابتدا میں بہت کم ٹیسٹ کیے گئے اور 15 اپریل تک اگر دیکھا جائے تو ملکی سطح پر دس لاکھ افراد میں ٹیسٹوں کی شرح 360 کے لگ بھگ تھی۔

سوال یہ ہے کہ دنیا میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے کون کون سے ٹیسٹ دستیاب ہیں اور مختلف ممالک میں یہ کتنے وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔

کورونا وائرس کے ٹیسٹ کتنی اقسام کے ہیں؟

دنیا کے اکثر ہسپتالوں میں جہاں کورونا کے مرض کی تشخیص کا عمل جاری ہے وہاں دو قسم کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

ان میں سے ایک ہے سواب ٹیسٹ جبکہ دوسرا اینٹی باڈیز ٹیسٹ ہے۔

سواب ٹیسٹ مشتبہ مریض کی ناک یا گلے سے نمونہ لے کر کیا جاتا ہے جس میں وائرس کے جینیاتی مواد کی نشاندہی کے لیے اس کا لیبارٹری میں تجزیہ کیا جاتا ہے۔

دوسری قسم کا ٹیسٹ اینٹی باڈی ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ آیا پہلے ہی کسی شخص کو وائرس ہو چکا ہے یا نہیں۔

اس قسم کے ٹیسٹ میں ایک آلے پر خون کے قطرے کا استعمال کرتے ہوئے قوتِ مدافعت دیکھی جاتی ہے۔ یہ بالکل حمل کے ٹیسٹ جیسا ہے۔

برطانوی حکومت نے ساڑھے تین لاکھ اینٹی باڈی ٹیسٹ کٹ خریدی ہیں لیکن ابھی تک ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں مل سکا جسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے قابل اعتماد سمجھا جا سکے۔

یہ ٹیسٹ کس حد تک درست نتائج دیتے ہیں؟

ہسپتالوں میں زیرِ استعمال سواب ٹیسٹ قابل اعتماد ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان ٹیسٹوں کے دوران کورونا وائرس کے ہر مریض کی نشاندہی ممکن ہو گی۔

اگر کوئی مریض اپنے انفیکشن کے بالکل آغاز میں ہے یا اگر اس کے جسم میں وائرس کی تعداد بہت کم ہے تو ایسے مریض کا ٹیسٹ منفی بھی آ سکتا ہے۔

اگر سواب ٹیسٹ کے لیے گلے سے نمونہ لیتے ہوئے کافی تعداد میں وائرس نہیں اٹھایا جا سکا تو اس صورت میں سواب ٹیسٹ منفی آ سکتا ہے۔

ابھی تک اینٹی باڈی ٹیسٹ اتنے قابل اعتماد ثابت نہیں ہوئے۔

برطانیہ میں محکمہِ صحت کے سیکرٹری میٹ ہینکوک نے کہا تھا کہ 15 بہترین اینٹی باڈی ٹیسٹوں کا تجربہ کیا گیا لیکن ان میں سے کوئی بھی بہتر نہیں تھا۔

برطانیہ میں ان ٹیسٹیوں کی نگرانی کرنے والے پروفیسر جان نیوٹن نے ٹائمز اخبار کو بتایا کہ چین سے خریدی گئی ٹیسٹ کٹس ایسے مریضوں میں اینٹی باڈیز کی نشاندہی کرنے میں کامیاب رہیں جو کورونا وائرس سے شدید بیمار تھے لیکن ایسے مریض جن کی حالت زیادہ خراب نہیں تھی، ان میں ناکام رہے۔

ٹیسٹنگ کیوں ضروری ہے؟

لوگوں کی ٹیسٹنگ کرنے کے پیچھے دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی، انفرادی طور پر ان کی تشخیص کرنا اور دوسرا یہ معلوم کرنا کہ ان میں وائرس کس حد تک پھیل چکا ہے۔

یہ معلومات محکمہ صحت اور طبی عملے کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد دے سکتی ہے جن میں یہ بھی شامل ہے کہ انتہائی نگہداشت کے کتنے یونٹس کی ضرورت پڑے گی۔

ٹیسٹنگ، معاشرتی دوری جیسے اقدامات کے متعلق فیصلوں میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر لوگوں کی بڑی تعداد پہلے ہی انفیکشن سے متاثر ہو چکی ہے تو ایسی صورت میں لاک ڈاؤن کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اور زیادہ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صحت کے کارکنان سمیت، بہت سارے لوگ بلا وجہ خود کو الگ تھلگ کر سکتے ہیں۔

مختلف ممالک کتنے وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کر رہے ہیں؟

دنیا میں امریکہ اس وقت کورونا سے سب سے متاثرہ ملک ہے جہاں اب تک 32 لاکھ افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی اور 30 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔

امریکہ کے علاوہ جن ممالک میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں جرمنی (17 لاکھ)، روس (15 لاکھ) اور یورپ میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی(11 لاکھ) شامل ہیں۔

پاکستان کی بات کی جائے تو 15 اپریل تک ملک میں تقریباً 80 ہزار افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ فی الوقت ملک میں روزانہ پانچ ہزار سے کچھ زیادہ ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور وزیراعظم کے مشیر برائے صحت کے مطابق حکومت اپریل کے آخر تک روزانہ ٹیسٹوں کی تعداد 20 سے 25 ہزار تک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔