کورونا وائرس: چین میں رمڈیسیور نامی دوا کا پہلا انسانی تجربہ ناکام

Remdesivir

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

امریکہ میں اس دوا کی ناکامی کی خبر کے بعد ملک کی تینوں بڑی سٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔

اس وقت دنیا میں سب سے اہم سوال ایک ہی ہے، کورونا وائرس کی ویکسین کب تک تیار ہوگی؟ دنیا بھر کے سائنسدان اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں اور آئے دن نئی چیزیں دریافت ہو رہی ہیں۔

تاہم اس حوالے سے کوئی اچھی خبر ملنے میں ابھی وقت لگے گا کیوں کہ کورونا وائرس کے خلاف تیار کردہ ایک ممکنہ دوا کا پہلا طبی تجربہ ناکام ہو گیا ہے۔

رمڈیسیور نامی دوا کے حوالے سے بڑے پیمانے پر لوگ پُرامید تھے کہ یہ کووڈ 19 وائرس کا علاج کرنے میں کامیاب ہو گی۔

دوا، تجربے کے بارے میں ہمیں کیا معلوم ہے؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے حادثاتی طور پر شائع کر دی جانے والی کچھ دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ اس دوا کا چین میں کیا گیا تجربہ ناکام رہا ہے۔

دستاویز میں لکھا ہوا ہے کہ اس دوا سے نہ تو مریضوں کی حالت میں کوئی بہتری آئی اور نہ ہی اس کے استعمال سے مریض کے خون میں اس وائرس کی مقدار کم ہوئی ہے۔

ادھر اس دوا کو تیار کرنے والی گلیڈ سائنسز نامی امریکی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دستاویز نے اس تجربے کو درست انداز میں پیش نہیں کیا ہے۔

تجربہ ناکام ہونے کی خبر اس وقت پھیلی جب عالمی ادارہِ صحت نے اس کی تفصیلات اپنے کلینکل ٹرائل ڈیٹا بیس میں ڈال دی تھیں مگر پھر اسے ہٹا دیا گیا۔ ڈبلیو ایچ او نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس ٹرائل کو غلطی سے ڈیٹا بیس میں ڈال دیا گیا تھا۔

اس دستاویز میں بتایا گیا کہ محققین نے 237 مریضوں میں سے 158 کو دوا اور 79 کو پلسیبو دیا۔ ایک ماہ کے بعد دوا لینے والوں میں مرنے والوں کا تناسب 13.9 فیصد تھا اور پلسیبو لینے والوں میں مرنے والوں کی شرح 12.8 فیصد رہی۔

اس تجربے کو دوا کے منفی اثرات کی وجہ سے روک دیا گیا۔ تحقیق کے خلاصے میں کہا گیا ہے کہ ’رمڈیسیور کا کسی کلینکل یا وائرولوجیکل فوائد سے کویی تعلق نہیں ہے۔‘

امریکہ میں اس دوا کی ناکامی کی خبر کے بعد ملک کی تینوں بڑی سٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

دوا بنانے والی کمپنی کا کیا کہنا ہے؟

گلیڈ سائنسز نے عالمی ادارہِ صحت کے پوسٹ پر سوال اٹھائے ہیں۔

کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ اس دستاویز میں اس تحقیق کو غیر مناسب انداز میں پیش کیا گیا ہے۔‘

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس تحقیق کو وقت سے پہلے اس لیے ختم کیا گیا کیونکہ اس میں رضاکارانہ طور پر شریک ہونے والے مریضوں کی تعداد بہت کم تھی اور یہ شماریاتی طور پر غیر معنی خیز تحقیق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان نتائج پر تو یہ تحقیق ہی غیر نیتیجہ خیز ہے، تاہم ڈیٹا میں ایک رجحان کی طرف اشارہ ہے کہ کہ جن مریضوں کو ابتدائی مراحل میں رمڈیسیور دی گئی ان کے لیے ممکنہ فوائد ہو سکتے ہیں۔‘

تاہم یہ تحقیق رمڈیسیور کے لیے مکمل طور پر سفر کی آخری کڑی نہیں تھی اور اس کے متعدد اور ٹرائل بھی کیے جا رہے ہیں جن سے صورتحال زیادہ واضح ہو گی۔