کورونا اور لاشیں: کیا وائرس سے متاثرہ افراد کی لاشوں سے آپ کو کووڈ 19 لگ سکتا ہے؟

کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

تمام تر حفاظتی اقدامات اپناتے ہوئے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی باعزت تدفین اور آخری رسومات ادا کی جا سکتی ہیں

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کے بہت دلخراش مناظر سامنے آئے ہیں خاص ھور پر ان میتوں کے جن کا ایک بھی پیارا ان کی آخری رسومات میں شامل نہ ہوا ہو۔

یہ مناظر نہ صرف کورونا وائرس سے موت واقع ہونے کے خوف کو بڑھاوا دے رہے ہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں سے بھی خوف کو جنم دے رہے ہیں۔

تو کیا کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی لاشوں سے کووڈ 19 وائرس دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے؟ کیا ان کی جنازے ادا کرنا محفوظ ہے اور کیا ان کی آخری رسومات باعزت طریقے سے انجام دی جا سکتی ہیں؟

اس مضمون میں ہم ایسے ہی چند سوالوں کے جوابات دیں گے۔

کیا متاثرہ شخص کی لاش سے وائرس منتقل ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کفن اور میت اٹھانے والے حفاظتی لباس پہنیں اور اپنے ہاتھ لازمی دھوئیں

عالمی ادارہ صحت کے مطابق جب تک حفاظتی اقدامات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے تب تک کورونا سے متاثرہ مریض کی لاش سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

عام اوقات میں کورونا کا مرض زیادہ تر متاثرہ فرد کے کھانسنے، چھینکنے اور بولنے سے خارج ہونے والے انسانی تھوک کے چھینٹوں سے پھیلتا ہے۔ تاہم یہ وائرس کسی بھی سطح پر کئی دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن کے ترجمان ولیم ادو کرو کا رواں ماہ ایک پریس کانفرنس میں کا کہنا تھا کہ ’آج کی تاریخ تک متاثرہ افراد کی لاشوں سے وائرس منتقل ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔‘

کیا وائرس متاثرہ فرد کی لاش میں زندہ رہ سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

کورونا وائرس کے متاثرہ شخص کی لاش میں وائرس موجود ہو سکتا ہے لہذا ان کو ہاتھ لگاتے وقت احتیاط تدابیر اپنائی جانی چاہیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا یہ کہنا کہ متاثرہ شخص کی لاش سے وائرس منتقل نہیں ہوا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے پیاروں کی میت کو چومنا یا پیار کرنا شروع کر دیں۔‘

’ہمیں ہر صورت میں خود پر قابو پانا ہے اور احتیاطی تدابیر کو اپنانا ہے۔‘

مارچ میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا تھا کہ ’ جریان خون کے امراض جیسا کہ ایبولا، ماربرگ یا ہیضہ کے علاوہ لاشیں عمومی طور پر جراثیم منتقل نہیں کرتیں ہیں۔

صرف انفلوائزہ سے مرنے والے افراد کے پوسٹ مارٹم کے دوران اس لاش کی مناسب انداز میں دیکھ بھال نہیں کی جائے تو شخص کے پھیھڑوں میں موجود وائرس کسی دوسرے کو متاثر کر سکتا ہے

تاہم وہ افراد جو کسی سانس کی موذی بیماری سے ہلاک ہوتے ہیں ان کی پھیھڑوں اور دیگر اعضا میں وائرس زندہ رہ سکتا ہے۔

اور یہ وائرس پوسٹ مارٹم کے دوران یا لاش کی اندرونی صفائی کے دوران طبی آلات کے ذریعے خارج ہو سکتے ہیں۔

کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں اور دوستوں کو یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ متاثرہ فرد کی تدفین یا آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے مناسب تربیت یافتہ عملہ ہی ہاتھ لگائے۔

کیا کووڈ 19 کے متاثرہ فرد کے جنازے میں شرکت کرنا محفوظ ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کے جنازوں میں شرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے

دنیا کے بعض مقامات میں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں نے تجہیز و تدفین کی صنعت میں بحران پیدا کیا ہے۔

اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایات کے باعث مختلف ممالک نے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کے نماز جنازہ میں شرکت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ تاہم دیگر ممالک نے جنازوں میں محدود تعداد کے ساتھ شرکت کی اجازت دی ہوئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا سے ہلاک ہونے والے فرد کے دوست اور اہلخانہ جنازے کے دوران تمام حفاظتی اقدامات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لاش کو دیکھ سکتے ہیں۔

ان حفاظتی اقدامات کے تحت وہ لاش کو چھوئے اور چومے مت، دوران جنازہ سماجی فاصلے کو برقرار رکھیں، فاصلے سے لاش کو دیکھیں اور اپنے ہاتھ اچھی طرح پانی اور صابن سے دھوئیں۔

ایسے افراد جن میں سانس کی بیماری کی علامات ہوں وہ ان جنازوں میں شرکت مت کریں، یا کم از کم اپنے چہرے کو ماسک سے ڈھانپیں تاکہ وہ یہ انفیکشن دوسروں کو منتقل نہ کر سکیں۔

اس کے علاوہ بچوں اور 60 برس سے زائد عمر والے افراد لاش کو براہ راست ہاتھ مت لگائیں۔ ایسے افراد بھی لاش کے قریب مت جائیں جنھیں پہلے سے کوئی عارضہ لاحق ہو۔

کیا متاثرہ شخص کی لاش کو دفنایا جائے یا جلایا جائے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ترکی کے شہر استنبول میں کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی اجتماعی تدفین کی گئ ہے

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص کی لاش کو جلانا یا دفنانا دونوں ٹھیک ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ عام طور پر ایک غلط خیال ہے کہ ان افراد کو جو کسی موذی مرض کے باعث ہلاک ہوتے کہ کی لاشوں کو جلایا جانا چاہیے، یہ ایک سماجی عمل اور دستیاب وسائل سے منسلک عمل ہے۔‘

تاہم وہ افراد جو لاش کی تدفین یا آخری رسومات کے عمل میں کام کرتے ہیں مثلائ وہ افراد کو تدفین کے دوران مردہ کو لحد میں اتارتے ہیں کو لازمی دستانے پہننے چاہیے اور مردہ کو لحد میں اتارنے کے بعد اچھی طرح ہاتھ دھوئیں اور دستانے کو مناسب انداز میں تلف کریں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی میتوں کو دفنانے میں بے احتیاطی اور جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔

یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کورونا سے ہلاک ہونے والے شخص کی ذاتی استمال کی اشیا کو جلایا جائے، انھیں دستانے پہن کر اچھی طرح جراثیم کش ادویات جن میں بلیچ یا 70 فیصد الکوحل موجود ہو یا ڈیٹرجنٹ سے صاف کیا جا سکتا ہے۔

متاثرہ افراد کے کپڑوں کو بھی مشین میں گرم پانی میں سرف یا ڈیٹرجنٹ ڈال کر دھویا جا سکتا ہے یا پھر گرم پانی میں کسی ڈرم میں بھگو کر چھڑی کی مدد سے دھویا جا سکتا ہے۔

میت کے وقار کا خیال رکھنا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

لاطینی امریکا کے ملک ایکواڈور میں مردہ خانوں میں جگہ بھر جانے کے بعد ہفتوں میتیں سڑکوں پر پڑی رہی

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کے سماجی اور مذہبی وقار کا خیال رکھنا چاہیے اور ان کی خاندان کی عزت اور شناخت کو اس سارے عمل میں چھپایا جانا چاہیے۔

لیکن جیسا کہ اس وبا کے متعلق خوف پھیل رہا ہے دنیا کے چند حصوں میں اس پر عمل مشکل دکھائی دیا ہے۔

ایکواڈور کی تجہیز و تدفین کی ایسوسی ایشن کے سربراہ مرون ٹیران نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ملک کے صوبے گیاس میں جہاں چند ہفتوں کے دوران کورونا سے ہلاکتوں کی 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے ’وہاں صورتحال بالکل بے قابو ہے۔‘

لاطینی امریکہ میں شامل ریاستوں میں برازیل کے بعد ایکواڈور کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ وہاں کا صحت کا نظام اس بحران کا متحمل نہیں ہو سکا اور متاثرہ افراد کی لاشیں اور جنازے مردہ خانے بھر جانے کے باعث ہفتوں سڑکوں پر پڑے رہے۔‘

ہسپتال متاثرہ افراد کی لاشوں کو بنا ایئر کنڈیشن کے ویئر ہاؤسز میں منتقل کر رہے ہیں جہاں انھیں محفوظ رکھنے کا مناسب انتظام موجود نہیں ہے۔

حتیٰ کہ ہمارے لیے جنھیں لاشیں دیکھنے کی عادت ہیں ایک مردہ خانے میں جا کر لاش کی شناخت کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث 24 گھنٹوں بعد لاشوں میں سے تعفن اٹھ رہا تھا اور وہ گل سڑ رہی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

اس کے علاوہ امریکی شہر نیویارک، برازیل کے شہر مناس اور ترکی کے شہر اسنتنبول سے کورونا سے متاثر اجتماعی تدفین کے مناظر شہ سرخیوں میں آئے ہیں۔

تاہم عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ کورونا کی وبا کے دوران ہلاک ہونے والوں کو باعزت طور پر آخری بار الوادع نہیں کہا جا رہا کیونکہ ان کے پیاروں اور اپنوں کو ان کی موت کا دکھ میں شامل ہونے کا موقع ہی نہیں مل رہا۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے متعلقہ حکام ہر کیس کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے کی اہلخانہ کے حقوق، ہلاکت کی وجہ کا تعین اور انفیکشن لانے کے خطرے کے امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کریں۔

۔