کورونا وائرس کو سمجھنے کے لیے ’R` نمبر کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

  • جیمز گیلیگہر
  • نامہ نگار برائے سائنس اور صحت، بی بی سی
وائرس کا پھیلاؤ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کورورنا وائرس کے خطرے کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ لیکن نہایت اہم چیز ریپروڈکشن نمبر ہے جسے عرف عام میں اس کے مخفف ’آر‘ سے شناخت کیا جاتا ہے۔

یہ نمبر دنیا بھر میں حکومتوں کی رہنمائی کر رہا ہے کہ وبا کے دوران انسانی جانیں بچانے کے لیے انھیں کیا کرنا چاہیے اور یہ ہمیں ایسے اشارے دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کہ کس حد تک لاک ڈاؤن اٹھایا جا سکتا ہے۔

آر (R) کیا ہے؟

ریپروڈکشن نمبر وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے بیماری کی پھیلنے کی صلاحیت کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔

یہ ان افراد کی ایک اوسط تعداد ہے جن کو ایک متاثرہ شخص وائرس منتقل کرے گا۔ اس میں یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ وائرس کے خلاف کسی میں مدافعت نہیں ہے اور بیماری سے بچنے کے لیے لوگ اپنا رویہ نہیں بدل رہے ہیں۔

اس وقت تک خسرے کا ریپروڈکشن نمبر سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ 15 ہے۔ یہ خوفناک وبا پھیلا سکتا ہے۔

نئے کورونا وائرس جسے سارس۔کوو۔2 کے نام سے پکارا جاتا ہے، کا ریپروڈکشن نمبر 3 ہے لیکن اس کے متعلق اندازے بدلتے رہتے ہیں۔

یہ اتنا اہم کیوں ہے؟

اگر ریپروڈکشن نمبر ایک سے زیادہ ہے تو متاثرین کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ یہ اس طرح ہی بڑھتا ہے جس طرح اس کریڈٹ کارڈ پر قرضہ جس کی قسط ادا نہ کی جائے۔

لیکن اگر نمبر ایک سے کم ہے تو بیماری بتدریج گھٹتی رہے گی اور آخر ار ختم ہو جائے گی کیونکہ اس وبا کا اثر برقرار رکھنے کے لیے نئے لوگ متاثر نہیں ہو رہے۔

اس وقت دنیا بھر میں حکومتوں کا ہدف یہ ہے کہ کورونا وائرس کے ریپروڈکشن نمبر کو تین سے کم کر کے ایک کے قریب لایا جائے۔

یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے خاندان سے نہیں مل پا رہے، گھر سے دفتر کا کام کرنا پڑ رہا ہے اور بچے سکول نہیں جا رہے۔ حکومتوں نے اس کے خلاف جو اہم ہتھیار استعمال کیا ہے وہ ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے سے روکا جائے تاکہ اس وائرس کی پھیلنے کی صلاحیت کو کنٹرول کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

برطانیہ میں کیا ہوا ہے؟

کسی بیماری کا ریپروڈکشن نمبر ہمیشہ کے لیے ایک سا نہیں رہتا۔ وہ ہمارے رویے میں تبدیلیوں کے ساتھ یا ہمارے جسم میں وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہونے کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔

لندن کے امپیریئل کالج میں سائنسدان یہ جاننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ آئسولیشن، سماجی دوری اور مکمل لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد ان نمبروں میں کیسی تبدیلی آئی ہے۔

کسی بھی قسم کے اقدامات کے نفاذ سے پہلے یہ نمبر ایک سے زیادہ تھا، جس کا مطلب تھا کہ حالات بڑی وبا کے پھیلنے کے لیے سازگار تھے۔ بتدریج عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے یہ نمبر نیچے آیا لیکن جب تک مکمل پابندیاں نہیں لگائی گئیں یہ ایک کی اہم حد سے نیچے نہیں آیا۔

یہ بات ذرا زیادہ تکنیکی ہی لگے گی لیکن اب سائنسدان آر کی بجائے آر ٹی استعمال کر رہے ہیں، کیونکہ یہ نمبر وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔

اب یہ عدد صفر اعشاریہ سات ہے۔ اس طرح کے کام میں ہمیشہ ایک غیریقینی کا عنصر رہتا ہے لیکن حکومت کے سائنسی مشیر بہت پراعتماد ہیں کہ یہ عدد اب ایک سے کم ہے۔

تاہم کئی ہسپتالوں اور کیئر ہومز میں حالات مختلف ہیں جہاں یہ وائرس پھیل رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

اس سے کیسے پتہ چلتا ہے کہ اب لاک ڈاؤن اٹھا لینا چاہیے؟

جب کئی ممالک سوچ رہے ہوں کہ لاک ڈاؤن کس طرح اٹھایا جائے تو ان کا مقصد یہ ہو گا کہ کسی طرح ریپروڈکشن نمبر کو ایک سے کم رکھا جائے۔

لندن سکول آف ہائی جین اور ٹروپیکل میڈیسن کے ڈاکٹر ایڈم کچارسکی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ریپروڈکشن نمبر ایک اہم غور طلب نکتہ ہو گا۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ آپ تیزی سے بڑھنے والی کیٹیگری میں چلے جائیں۔ اس بات کو یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج ہے کہ آپ بہت زیادہ ڈھیل بھی نہ دیں اور ٹرانسمیشن بھی نہ بڑھائیں۔‘

تاہم ریپروڈکشن نمبر میں ایک ناپسندیدہ حقیقت بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس نمبر کو ایک سے 0.7 پر لانے کے لیے انتہائی درجے کی جو کوششیں ہوئی ہیں ان سے لوگوں کی زندگیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر کچارسکی کہتے ہیں کہ ’وہ آپ کو بہت کچھ سوچنے کا زیادہ موقع نہیں دیتا (کہ نمبروں کو تین سے 7.0 پر کیسے لایا جا سکے)۔

اپریل کے آغاز میں جرمنی اپنے ریپروڈکشن نمبر کو برطانیہ کے برابر 0.7 پر لے آیا تھا۔

لیکن جرمنی کے ہی رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں یہ نمبر 0.75 پر ہے جبکہ کچھ دیر کے لیے یہ ایک تک بھی پہنچا تھا۔

انسٹیٹیوٹ کے سربراہ پروفیسر لوتھر ویئلر کہتے ہیں کہ ’نمبر کو ایک سے کم رہنا چاہیے، یہی بڑا مقصد ہے۔‘

کون سے پابندیاں اٹھائی جا سکتی ہیں؟

بدقسمتی سے ایسا کوئی مینوئل یا کتابچہ نہیں ہے جو یہ حتمی طور پر بتائے کہ کتنی مداخلت وائرس کے پھیلنے کی صلاحیت کو بدل سکتی ہے، اگرچہ اس کے اندازے ضرور لگائے گئے ہیں۔

ڈاکٹر کچارسکی کہتے ہیں کہ ’لاک ڈاؤن میں یہ سبھی اقدامات ایک دم کیے گئے اس لیے ہمیں موقع ہی نہیں ملا کہ یہ جان سکیں کہ ہر ایک کا اس کمی میں کتنا کردار ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

سویڈن میں لوگوں کو گھر سے باہر وقت گزارنا پسند ہے

انھوں نے مزید کہا کہ ’سکول کھولنا بمقابلہ کام کی جگہیں بمقابلہ دوسرے اجتماعوں کے متعلق یہ پتا کرنا کہ وہ ریپروڈکشن نمبر کو کتنا بڑھاتے ہیں ایک بڑا چیلنج ہو گا۔‘

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کا رویہ وقت کے ساتھ بدلتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ لاک ڈاؤن کی پالیسیوں کے اسی طرح رہنے کے باوجود نمبر بڑھ سکتے ہیں۔

جن چیزوں کی ممکنہ طور پر ضرورت پڑھ سکتی ہے وہ ہیں وائرس کو کنٹرول کرنے کے نئے طریقے، جیسا کہ زیادہ مقدار میں ٹیسٹنگ اور ٹریسنگ یا لوکیشن ٹریکنگ ایپس وغیرہ۔

ان سے ریپروڈکشن نمبر زیادہ ٹارگٹڈ طریقے سے دبایا جا سکتا ہے، جس سے کچھ دیگر پابندیاں اٹھانے میں مدد ملے گی۔

کیا یہ سب سے اہم نمبر ہے؟

ریپروڈکشن نمبر پہلے تین اہم نمبروں میں سے ایک ہے۔

اس کے علاوہ اہم شدت ہے، یعنی اگر آپ کو بہت ہلکی بیماری ہے جس سے زیادہ مسائل پیدا نہیں رہے تو آپ سکون سے بیٹھ سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے کورونا وائرس اور اس سے ہونے والی کووڈ۔19 کی وبا بہت شدید اور مہلک ہے۔

آخری عدد متاثرین کی تعداد کا ہے، جو یہ فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کہ کب اس کے خلاف ایکشن لینا ہے۔

ویکسین کہاں تک پہنچی ہے؟

ویکسین متعارف کرانا ریپروڈکشن نمبر کو نیچے لانے کا ایک اور طریقہ ہے۔

اوسطاً ایک کورونا وائرس کا مریض تین دیگر افراد کو یہ وائرس لگا سکتا ہے، لیکن اگر ان میں سے دو کو ویکسین انفیکشن سے محفوظ بنا سکے تو ریپروڈکشن نمبر تین سے گر کر ایک ہو جائے گا۔