بلائنڈ وژن: وہ بیماری جو بینائی کے بغیر بھی ’دیکھنا‘ ممکن بنا دیتی ہے

بلائنڈ وژن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تصور کیجیے کہ آپ بینائی سے محروم ہیں لیکن پھر بھی آپ دیکھ سکتے ہیں۔ کیا یہ ناممکن نظر آتا ہے؟ لیکن ایسا ہوتا ہے۔

چند سال قبل ایک شخص کو لگاتار دو سٹروک ہوئے۔ (اس شخص کا نام بیری تصور کر لیتے ہیں) اس کے نتیجے میں بیری مکمل طور پر بینائی سے محروم ہو گئے اور انھوں نے چلنے کے لیے چھڑی استعمال کرنا شروع کر دی۔

ایک دن ماہرینِ نفسیات کی ایک ٹیم بیری کو ایک ایسی راہداری میں لے گئے جہاں راستے میں ڈبوں اور کرسیوں سمیت کئی رکاوٹیں پڑی ہوئی تھیں۔ انھوں نے بیری سے ان کی چھڑی لے لی اور انھیں راہداری میں چلنے کے لیے کہا۔

اس سادہ سے تجربے نے شعور کے بارے میں ہمارے خیالات اور سمجھ کو ڈرامائی طور پر تبدیل کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

بیری ان چیزیوں سے ایک مرتبہ بھی ٹکرائے بغیر چلتے گئے۔ بیری کو بلائنڈ وژن کا عارضہ لاحق تھا جو ایک عجیب و غریب بیماری ہے اور انتہائی کم لوگوں کو ہوتی ہے۔

جن لوگوں کو بلائنڈ وژن نامی یہ بیماری ہوتی ہے وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انھیں سامنے موجود اشیا کے بارے میں معلوم تھا لیکن وہ ایسے کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں کسی طرح نظر آ رہا ہے۔

ایک دوسرے کیس میں ایک شخص کو (جسے ہم رِک کہہ لیتے ہیں) ایک سکرین کے سامنے لے جایا گیا اور کہا گیا کہ وہ سکرین پر موجود چیزوں کے بارے میں بتائیں۔ رِک کا اصرار تھا کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ سکرین پر کون سے چیزوں کو دکھایا جا رہا ہے لیکن اس کے 90 فیصد جواب صحیح تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دماغ

بلائنڈ وژن دماغ کے ایک حصے پرائمری وژول کورٹیکس میں خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس حصے کا تعلق بینائی سے ہوتا ہے۔ اس حصے کو نقصان پہچنے سے بینائی پوری طرح یا جزوی طور پر ضائع ہو سکتی ہے۔

تو پھر بلائنڈ وژن کیسے کام کرتا ہے۔ روشنی آنکھوں میں آتی ہے اور آنکھیں اسے معلومات میں تبدیل کر دیتی ہیں اور اس کے بعد یہ معلومات دماغ کو بھیج دیتی ہیں۔ یہ معلومات مختلف راستوں سے گزرتی ہوئی آخر کار پرائمری وژول کورٹیکس میں پہنچ جاتی ہیں۔

ایسے افراد جو بلائنڈ وژن کا شکار ہوتے ہیں ان کے دماغ کا یہ حصہ ناکارہ ہوتا ہے اور معلومات کو پوری طرح شعور تک نہیں پہنچا پاتا۔

لیکن پھر بھی دماغ میں بینائی کے نظام سے منسلک دوسرے حصے جو درست حالت میں ہوتے ہیں اس معلومات کو استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض نابینا افراد وہ کام کر سکتے ہیں جو بیری اور رِک نے کیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شعور سے نیچے

دماغ میں شعور کی سطح سے نیچے ہونے والی سرگرمی کی ایک چونکا دینے والی مثال بلائنڈ وژن ہے۔ اس کا تعلق ایسے افراد سے بھی ہے جو بلائنڈ وژن کا شکار نہیں۔

کئی تحقیقیں ظاہر کرتی ہیں کہ پر کشش برہنہ لوگوں کی تصاویر ہماری توجہ حاصل کر لیتی ہیں چاہے ہم پوری طرح ان سے باخبر نہ بھی ہوں۔ ایک تحقیق میں یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ہم کسی چیز کو جانے بغیر اس کا درست رنگ بتا سکتے ہیں۔

شعور کیا ہے؟

بلائنڈ وژن نے بہت سے تنازعوں کو جنم دیا ہے۔ کچھ فلسفی اور ماہرینِ نفسیات کا مؤقف ہے کہ جن لوگوں کو یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے انھیں یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان کے سامنے کیا ہے چاہے یہ کسی مبہم طریقے ہی سے کیوں نہ ہو اور اسے بیان کرنا مشکل ہی کیوں نہ ہو۔

لیکن اس خیال میں ایک قباحت ہے۔ یہ طے کرنا کہ کوئی شخص کسی مخصوص چیز کے بارے میں باخبر ہے ایک پیچیدہ اور نازک کام ہے۔ کیونکہ ’باخبر ہونے کا کوئی ٹیسٹ نہیں ہوتا۔ آپ کسی شخص کے سر کے پاس کوئی مانیٹر رکھ کر یہ معلوم نہیں کر سکتے کہ وہ کسی مخصوص شے کے بارے میں شعور رکھتا ہے یا نہیں۔ یہ مکمل طور پر ایک ذاتی تجربہ ہوتا ہے۔

یقیناً ہم اس شخص سے پوچھ سکتے ہیں لیکن اس کی تشریح کرنا کہ لوگ اپنے کسی ذہنی تجربے کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں ایک مشکل کام ہو سکتا ہے۔

رِک کا اصرار تھا کہ اسے اپنے سامنے واقعی کچھ اشیا کے ہونے کا یقین نہیں تھا لیکن بلائنڈ وژن میں مبتلا دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں سیاہ ہیولوں کی طرح کچھ محسوس ہوا جو اس امکان کو ظاہر کرتا ہے کہ کچھ شعور باقی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شعور کی سرحدیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

تو بلائنڈ وژن ہمیں شعور کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟ اس کے جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کون سی تشریح کو درست سمجھتے ہیں۔ آپ اس پر یقین کرتے ہیں یا نہیں کہ بلائنڈ وژن کے شکار افراد اپنے اگرد گرد موجود اشیا سے باخبر ہوتے ہیں۔

اگر آپ اس پر یقین نہیں کرتے تو بلائنڈ وژن ہمیں یہ معلوم کرنے کا ایک دلچسپ طریقہ فراہم کرتا ہے کہ شعور کس لیے ہوتا ہے۔

یہ دیکھ کر کہ آگہی کے بغیر دماغ کیا کر سکتا ہے ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ وہ کون سے کام ہیں جن کے لیے آگہی کی ضرورت ہوتی ہے۔

دوسری جانب اگر ہم یہ دکھا سکیں کہ بلائنڈ وژن والے افراد کو یہ آگہی ہوتی ہے کہ ان کے سامنے کیا ہے تو اس سے بھی ایک دلچسپ سوال جنم لیتا ہے کہ شعور کی حد کیا ہے؟

آپ کا شعور اصل میں کیسا ہے؟ یہ شعور کی دوسری جانی پہچانی اقسام سے کتنا مختلف ہے؟ اور دماغ میں وہ کون سے مخصوص حصے ہیں جہاں شعور کا آغاز اور اختتام ہوتا ہے؟

اپنی ریسرچ میں میری دلچسپی اس بات میں تھی کہ بلائنڈ وژن کس طرح نظر اور شعور کی سرحدوں کو ظاہر کرتا ہے۔

بلائنڈ وژن کے تناظر میں اگر دیکھیں تو یہ زیادہ سے زیادہ مبہم ہوتا جا رہا ہے کہ خیالات، شعور اور نظر کے بارے میں ہمارے عام تصورات حقیقت میں جو ہو رہا ہے اسے مناسب طریقے سے بتا اور سمجھا رہے ہیں۔