الیکسی نوالنی پر قاتلانہ حملہ: اعصاب پر حملہ آور ہونے والے زہریلے نویچوک ایجنٹ انسانی جسم کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟

روس میں حزبِ اختلاف کے رہنما الیکسی نوالنی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

روس میں حزبِ اختلاف کے رہنما الیکسی نوالنی

جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ روس میں حزبِ اختلاف کے رہنما الیکسی نوالنی کو اعصاب پر حملہ آور ہونے والا زہر ’نویچوک‘ دیا گیا تھا۔

روسی حزب اختلاف کے رہنما ناوالنی کی طبیعت روس کے علاقے سربیا میں ایک پرواز کے دوران بگڑ گئی تھی جس کے بعد انھیں علاج کے لیے جرمنی کے شہر برلن لے جایا گیا تھا۔ وہ تب سے بے ہوشی کے عالم میں ہیں۔

ان کے دوستوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انھیں روسی صدر ولادمیر پوتن کے کہنے پر زہر دیا گیا ہے۔ روسی ایوان صدر کریملین کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

نویچوک نامی زہر آخری بار خبروں کی زینت اُس وقت بنا جب سنہ 2018 میں ایک سابق روسی جاسوس سرگئی سکریپال اور ان کی بیٹی پر برطانیہ میں حملہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ہم اس زہر کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

لفظ نویچوک کا روسی زبان میں مطلب ’نئے آنے والے‘ کا ہے۔

سنہ 1970 اور 1980 کی دہائی میں اعصاب پر اثر کرنے والے کچھ نئے زہریلے مادوں کو سویت یونین میں یہ نام دیا گیا تھا۔ انھیں چوتھی جنریشن کے کیمیائی ہتھیار مانا جاتا ہے اور انھیں فولیانٹ نامی ایک سویت پروگرام میں مزید آگے بڑھایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہEPA/ Yulia Skripal/Facebook

،تصویر کا کیپشن

سابق روسی جاسوس سرگئی سکریپال اور ان کی بیٹی

اس زہر کی موجودگی کے بارے میں اعلان ڈاکٹر وِل مرزایانوف نے 1990 کی دہائی میں روسی میڈیا کے ذریعے کیا تھا۔ بعد میں وہ فرار ہو کر امریکہ آ گئے تھے جہاں پر انھوں نے اس زہر کا کیمیائی فارمولا اپنی کتاب میں شائع کیا۔

سنہ 1999 میں امریکی حکام ازبکستان گئے تھے جہاں انھوں نے سابق سویت یونین کی سب سے بڑے کیمیائی ہتھیاروں کو ٹیسٹ کرنے کا ایک مرکز کو ختم کرنے میں مدد کی تھی۔

ڈاکٹر مرزایانوف کے مطابق روسی حکام چھوٹے پیمانے پر نویچوک ایجنٹس بنا کر اسی مرکز میں ٹیسٹ کرتے تھے۔ ان کا مقصد بین الاقوامی انسپکٹرز سے بچ کر جانا تھا۔

نویچوک ایجنٹ دیگر اشیا سے زیادہ زہریلے ہیں

کچھ نویچوک ایجنٹس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اعصاب پر اثر کرنے والے ایجنٹ وی ایکس سے پانچ سے آٹھ گنا زیادہ زہریلے ہیں۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ کے پروفیسر گیری سٹیونز کا کہنا ہے کہ ’یہ سیرن یا وی ایکس ایجنٹ سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں اور انھیں پکڑنا بھی زیادہ مشکل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters

نویچوک کا اثر کتنی دیر رہتا ہے؟

اس حوالے سے ماہرین میں اتفاقِ رائے نہیں ہے کہ نویچوک کا اثر کب رہتا ہے۔ ڈاکٹر مرزایانوف کہتے ہیں کہ یہ کئی ماہ بعد اتنا زہریلا نہیں رہتا۔

مگر ولادمیر اگلیوو، ایک ایسے سائنسدان جن کا یہ دعویٰ ہے کہ انھوں نے وہ والا نویچوک ایجنٹ ایجاد کیا تھا جو کہ سابق روسی جاسوس سرگئی سکریپال کے خلاف استعمال کیا تھا، کہتے ہیں کہ یہ زہریلا مادہ انتہائی مستحکم ہے اور اسے کافی عرصے تک رکھا جا سکتا ہے، خاص طور پر اگر اسے بند ڈبے میں رکھا جائے۔

دیگر سائنسدانوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان کیمیائی اشیا کو نہ صرف کئی ماہ بلکہ سالوں کے لیے سٹور کیا جا سکتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کی پروفیسر اینڈریہ سیلا کا کہنا ہے کہ ان کے نہ تو بخارات بن کے اڑتے ہیں، اور نہ ہی یہ پانی میں ضائع ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نویچوک پر تحقیق کم کی گئی ہے اور اس حوالے سے کوئی سرکاری معلومات بھی موجود نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نویچوک زہر کی کئی اقسام ہیں

اگرچہ کئی نویچوک زہر مائع شکل میں ہوتے مگر ان میں سے بہت سے ٹھوس شکل میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں انتہائی فائن پاؤڈر میں پھیلایا جا سکتا ہے۔

کچھ ایجنٹس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ بائنری ہتھیار ہیں۔ یعنی انھیں دو مختلف اجزا میں رکھا جاتا ہے اور بعد میں ملایا جاتا ہے تاکہ اسے سٹور اور منتقل آرام سے کیا جا سکے۔

جب انھیں ملایا جاتا ہے تو یہ ایک زہر پیدا کر دیتے ہیں۔ پروفیسر سٹیونز کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے بھی کیا جاتا ہے کیونکہ اجزا پر پابندی نہیں ہوتی۔

کچھ نویچوک زہر فوراً اثر انداز ہوتے ہیں

نویچوک زہر دیگر کیمیائی اشیا سے زیادہ زہریلے ہوتے ہیں اس لیے ان میں سے کچھ فوراً اثر انداز ہونے لگتے ہیں، جیسے کہ 30 سیکنڈ میں یا دو منٹ میں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

یہ بنیادی طور پر سانس کے راستے یا کھانے کی نالی کے راستے جسم میں داخل ہوتے ہیں مگر یہ جلد کے ذریعے بھی جسم میں پہنچ سکتے ہیں۔

کیا ایسا ممکن ہے کہ روس کے علاوہ کسی اور نے یہ تیار کیے ہوں؟

ڈاکٹر مرزایانوف کا ماننا ہے کہ سرگئی سکرپال پر قاتلانہ حملے میں روس ملوث تھا کیونکہ ’یہی وہ ملک ہے جس نے اسے ایجاد کیا، اس کا تجربہ رکھتا ہے اور اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔‘

ادھر اقوام متحدہ میں روسی سفیر کا کہنا ہے کہ سویت دور کے ان ایجنٹس پر کام سنہ 1992 میں روک دیا گیا تھا اور ماضی کے سٹور کیے ذخیرے سنہ 2018 میں مکمل تباہ کر دیے گئے تھے۔

ستمبر 2019 میں کیمیائی ہتھیاروں کے حوالے سے عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو نے 39967 ٹن کیمیائی ہتھیاروں کی روس کے ہاتھوں حذف کیے جانے کی تصدیق کی تھی۔

مگر نویچوک زہر کو کبھی او پی سی ڈبلیو کے سامنے ڈکلیئر نہیں کیا گیا تھا کیونکہ ان کی کیمیائی فارمولے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال تھی۔