نظام شمسی کا ’خیالی‘ نواں سیارہ جس کی تلاش کئی دہائیوں سے جاری ہے

  • زاریہ گوریٹ
  • بی بی سی فیوچر
سیارے

،تصویر کا ذریعہESA/Hubble, M. Kornmesser

پرسیول لوول ایک ایسے شخص تھے جن کی غلطیاں کافی مشہور ہوئیں۔ وہ انیسویں صدی کے مصنف تھے اور چونکہ کاروبار کے شعبے سے منسلک تھے اس لیے کافی امیر بھی تھے۔ ہمیشہ بڑی موچھیں رکھے ہوئے ہوتے تھے اور اکثر انتہائی نفیس تھری پیس سوٹ میں پائے جاتے تھے۔

پرسیول نے سیارہ مریخ کے بارے میں ایک کتاب پڑھی تھی اور اُسی کی بنیاد پر وہ ایک ماہرِ فلکیات بن گئے۔ اس کے بعد آئندہ چند دہائیوں تک وہ کچھ انتہائی عجیب و غریب دعوے کرتے رہے۔

انھیں یقین تھا کہ مریخ پر زندگی موجود ہے اور اُن کا خیال تھا کہ انھوں نے مریخ پر رہنے والی مخلوق کو ڈھونڈ بھی لیا ہے (یہ دعویٰ درست نہیں تھا)۔ کچھ اور لوگوں نے سیارے کی سطح پر موجود چند لکیروں کی نشاندہی کی تھی اور پرسیول کا دعویٰ تھا کہ درحقیقت یہ نہریں ہیں، جنھیں مریخ پر بسنے والی مخلوق نے سیارے کے برف پوش قطبین سے پانی حاصل کرنے کے لیا بنایا تھا۔

پھر انھوں نے اپنی ساری دولت ایک رسدگاہ بنانے میں لگا دی تاکہ وہ بہتر انداز میں اس سیارے کا جائزہ لے سکیں۔ بعد میں پتا چلا کہ دراصل یہ لکیریں نظر کا دھوکہ تھیں جو کہ اصل میں مریخ کی سطح پر موجود پہاڑ اور گڑھے تھے جو غیرمعیاری دوربینوں میں لکیروں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔

لوول کو یقین تھا کہ سیارہ وینس نوک دار سیارہ تھا۔ اُن کے نوٹس میں یہ نوکیں سیارے کے وسط سے مکڑی کے جالے کی طرح باہر کو آتی دیکھی جا سکتی تھیں (اور آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ ایسا حقیقت میں نہیں ہے)۔ اگرچہ اُن کے شاگردوں نے ان نوکوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کی تاہم ایسا لگتا تھا کہ یہ نوکیں صرف لوول کو ہی نظر آتی تھیں۔

اب خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اُن کی آنکھوں میں اترنے والے موتیے کی وجہ سے دکھائی دینے والے سائے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

مگر لوول کی سب سے بڑی کوشش یہ تھی کہ وہ کسی طرح ہمارے نظام شمسی کے نویں سیارے کا کھوج لگا سکیں، ایک فرضی ’پلینٹ ایکس‘ جسے زمین سے بہت دور واقع یورینس اور نیپچون کے روگ مدار کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔

اگرچہ وہ اس خیالی سیارے کو کبھی دیکھ نہیں سکے مگر اس کی کھوج ان کی زندگی کے آخری دس سال کھا گئی اور پھر وہ 61 سال کی عمر میں ذہنی توازن کھونے کے بعد وفات پا گئے۔

شاید ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہو گا کہ اُن کی یہ تلاش، تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ سنہ 2021 میں بھی جاری رہے گی۔

،تصویر کا ذریعہNASA/ Johns Hopkins University /Southwest Research

،تصویر کا کیپشن

سنہ 2006 میں پلوٹو کا درجہ کم کر کے اسے پست قد فلکی اجسام میں شامل کر دیا گیا تھا

ایک سعی لاحاصل

لوول نے مرتے وقت چند لاکھ ڈالر اسی مشن کو جاری رکھنے کے لیے وقف کیے تھے۔ اسی لیے ان کی بیوہ کے ساتھ ایک چھوٹی سی قانونی جنگ کے بعد اُن کی بنائی ہوئی رسدگاہ نے اس سیارے کی تلاش جاری رکھی۔

چودہ سال بعد 18 فروری 1930 کو ایک نوجوان ماہرِ فلکیات ستاروں کی دو تصاویر پر غور کر رہا تھا کہ اسے ایک نقطہ نظر آیا۔ یہ ایک چھوٹی سی دنیا تھی۔ اُسے پلوٹو مل گیا تھا جو کہ ایک وقت تک ’پلینٹ ایکس‘ سمجھا جاتا تھا۔

ایسا نہیں تھا مگر سائنسدانوں کو جلد یہ احساس ہوا کہ لوول جو ڈھونڈ ہے تھے، پلوٹو اتنا بڑا نہیں تھا کہ یورینس اور نیپچون کے مداد کو تبدیل کر سکے۔ پلوٹو تو حادثاتی طور پر سامنے آ گیا تھا۔

آخرکار پلینٹ ایکس کے خیال کو اس وقت ٹھیس پہنچی جب 1989 میں وائجر 2 نامی مصنوعی سیارے کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ نیپچون کے وزن کا تخمینہ غلط تھا اور وہ اصل میں کم وزن سیارہ تھا۔

اس کے بعد جب ناسا نے مداروں کا جائزہ لیا تو معاملہ قدرے واضح ہو گیا۔ لوول جس تلاش کا آغاز کر کے گئے تھے اس کی ضرورت ہی نہیں تھی اور جیسے جیسے اس خفیہ سیارے کا خیال ترک کیا گیا، اسی طرح اس تلاش کی دوبارہ بنیاد بھی رکھی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشن

لوول نے اپنی رسدگاہ فلویڈا میں قائم کی تھی جس کا مقصد مریخ کی ذہین مخلوق کا سراغ لگانا تھا

وائجر مشن نے ایک اور دریافت بھی کی اور وہ تھی کوئیپر بیلٹ کی موجودگی۔ یہ جمی ہوئی چیزوں کا ایک خلائی ڈونٹ ہے جو کہ نیپچون کے مدار سے باہر موجود ہے، ہمارے نظامِ شمسی کے اہم ترین عناصر میں سے ایک۔

یہ اس قدر بڑا تھا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں لاکھوں ایسی چیزیں ہیں جو کہ 100 کلومیٹر سے زیادہ بڑی ہیں اور اس میں ایک ٹریلین دُمدار ستارے بھی موجود ہیں۔

جلد ہی سائنسدانوں کو احساس ہو گیا کہ پلوٹو ہی وہ واحد بڑا سیارہ نہیں جو کہ نظامِ شمسی کی آخری حدود میں پایا جاتا ہے اور پھر یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا یہ سیارہ ہے بھی یا نہیں۔ انھیں سیڈنا نامی سیارہ ملا جو کہ پلوٹو کے 40 فیصد حجم کا تھا، کوائر جو کہ پلوٹو کے نصف حجم کا تھا اور ایرس ملا جو کہ پلوٹو کے برابر کے سائز کا تھا۔ سائنسدانوں کو اس سیارے کی نئی تعریف چاہیے تھی۔

سنہ 2006 میں انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل یونین نے پلوٹو کو ایک پست قد یا ڈوارف پلینٹ کا درجہ دے دیا۔ کیلٹیک یونیورسٹی کے پروفیسر مائیک براؤن جنھوں نے ایرس کی دریافت کی تھی، خود کو وہ شخص کہہ کر پکارتے ہیں، جنھوں نے ’پلوٹو کا قتل‘ کیا۔

،تصویر کا ذریعہNasa/JPL

،تصویر کا کیپشن

نیپچون اس وقت ہمارے نظام شمسی کا سب دور سیارہ ہے، لیکن کیا معلوم ایک سیارہ اس کے پیچھے چھپا ہوا

بھوتوں کی نشانی

اس کے ساتھ ہی ان سارے نئے سیاروں کی دریافت کی وجہ سے اس خفیہ سیارے کی تلاش دوبارہ شروع ہو گئی۔

پتا چلا ہے کہ سڈینا کا مدار بھی ویسا نہیں جیسا ہونا چاہیے۔ یہ کوئپر بیلٹ کے اندر ہی سورج کے گرد الیپٹیکل چکر لگا رہا ہے۔ اس کا مدار اس قدر طویل ہے کہ اسے مکمل کرنے کے لیے 11 ہزار سال لگتے ہیں۔ اس وقت سڈینا جہاں پر ہے، آخری مرتبہ جب یہ سیارہ اسی مقام پر تھا تو انسان نے کھیتی باڑی دریافت کی تھی۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سڈینا بڑی مشکل سے اپنے مدار میں چل رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نظامِ شمسی میں ایک نئے سیارے کا خیال کیا جا رہا ہے مگر ویسے نہیں جو پہلے سوچا گیا تھا۔

سنہ 2016 میں وہی پلوٹو کو ’قتل کرنے والے‘ پروفیسر مائیک براؤن اور ان کے ساتھی کونسٹین بیٹگن نے ایک مقالہ شائع کیا جس میں انھوں نے ایک ایسے سیارے کی موجودگی کا دعویٰ کیا جو کرۂ ارض کے مقابلے میں پانچ سے دس گنا بڑا ہو سکتا ہے۔

یہ خیال اس تحقیق کی بنیاد پر پیش کیا گیا کہ سڈینا ہی وہ واحد چیز نہیں جو اپنی جگہ پر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ چھ اور چھوٹے سیارے اپنی جگہ پر نہیں ہیں اور یہ سب کے سب ایک ہی سمت میں جھکے ہوئے ہیں۔ محققین کے مطابق تمام چھ کے ایک ہی سمت میں صرف اتفاق سے جھکے ہونے کا امکان 0.007 فیصد ہے۔

بیٹگن کا کہنا ہے کہ ’ہمارے حیال میں یہ بہت دلچسپ بات تھی۔ ہم نے سوچا ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔یہ واقعی حیران کن تھا کیونکہ ایسا جھرمٹ اتنے لمبے عرصے کیسے رہ سکتا ہے، کیونکہ دوسرے سیاروں کی کشش ثقل کی وجہ سے اسے بکھر جانا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشن

ریاست ہوائی میں نصب سوبرو دوربین نظام شمسی کے سب سے دور اجسام کو کھوج لگا چکی ہے

اس کے بجائے انھوں نے یہ تجویز کیا کہ نویں سیارے نے ہمارے نظام شمسی کی آخری حدود میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں اور اپنی کشش کی وجہ سے اپنے قریب اجسام کے مداروں میں خلل ڈالا ہے۔ کئی سال بعد ایسے اجسام کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا جو عام روش سے ہٹ کر مدار میں گھوم رہے تھے اور ان کا جھکاؤ ایک طرف بڑھا رہا تھا ’اب ہمیں 19 کے قریب ایسے اجسام معلوم ہیں۔‘

گو کہ ابھی کسی نے اس فرضی سیارے کو نہیں دیکھا لیکن یہ ممکن ہے کہ اس کے بارے میں بہت کچھ اخذ کر سکیں۔

کیوپر بیلٹ سے پرے دوسرے اجسام کی طرح، نویں سیارے کا مدار اتنا عجیب ہے کہ اس کا آخری سرا اس کے نزدیک ترین سرے سے دو گنا دور ہے جو کہ سورج سے زمین کا فاصلہ چھ سو گنا زیادہ ہے (نوے ارب کلو میٹر یا 56 ارب میل) جب کہ اس کا نزدیکی سرا 45 ارب کلو میٹر یا 28 ارب میل ہے۔

خفیہ ٹھکانا

اس کے بعد یہ مشکل سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نواں سیارہ آخر کہاں سے آیا ہے۔ اس بارے میں اب تک تین قیاس کیے جاتے ہیں۔

اول یہ کہ یہ جس جگہ چھپا ہے یہ اسی مقام پر وجود میں آیا ہو۔ بیٹیگن اس کو دوسرے اندازوں کے مقابلے میں رد کرتے ہیں کیوں کہ اس کا امکان صرف اسی صورت ہو سکتا ہے کہ ابتدائی نظام شمسی کی وسعت اس کے مدار کی آخری حدود تک ہو۔

اس کے علاوہ یہ دلچسپ قیاس آرائی بھی کی جاتی ہے کہ نواں سیارہ اصل میں ایک اجنبی بہروپیا ہے، ایک ایسی خلائی چیز جو بہت پہلے، جب سورج ابھی سٹیلر کلسٹر ( کواکب کے جھنڈ) میں تھا، یہ دوسرے ستاروں سے جدا ہو گیا تھا۔

بیٹیگن کہتے ہیں ’اس طرح کی کہانی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ سیارے سے اگلی بار سامنا ہونے پر اسے کھو دینے کا بھی اتنا ہی امکان ہے۔ اس لیے شماریاتی اعتبار سے ایسا ماڈل مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔‘

اس کے علاوہ ہم بیٹیگن کے ماڈل کی بات بھی کر سکتے ہیں جس کے بارے میں ِود ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی بہت پیچیدہ چیز نہیں ہے۔ اس ماڈل کے مطابق سورج کے قریب ترین بننے والا سیارہ اس وقت بنا جب ہمارا نظام شمسی ابتدائی مراحل میں تھا اور گیسوں اور گرد و غبار کے ملنے سے مختلف سیارے تشکیل پا رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہNasa/ JPL-Caltech

،تصویر کا کیپشن

پست قامت سیارے سڈینا کا مدار غیر روایتی ہے جس کی وجہ کسی ایسے سیارے کی کشش ثقل ہو سکتی ہے جس کا ابھی تک سراغ نہیں ملا ہے

صاف ظاہر ہے اس ساری بحث کی بنیاد یہ ہے کہ اگر یہ نواں سیارہ وہاں موجود تھا تو یہ کسی کو دکھائی کیوں نہیں دیا؟

بیٹیگن کے بقول ’میرے لیے شروع میں یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا نویں سیارے کی تلاش کوئی مشکل کام ہو گا لیکن جب جب میں نے ماییک کے ساتھ اسے دوربین پر دیکھنا چاہا تو مجھے لگا کہ کہ یہ تحقیق اس لیے مشکل ہے کیونکہ اکثر جائزوں میں ہم لوگ کسی ایک خاص چیز کی تلاش میں نہیں تھے۔‘

’مثلاً اکثر ماہرین فلکیات اجسام کے ایک مجموعے یا قسم کو تلاش کر رہے تھے لیکن ایک اکیلے نویں سیارے کا کھوج لگانا ایک نہایت ہی مختلف قسم کا کام ہے۔‘

بییٹیگن کہتے ہیں کہ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو کسی خاص وقت پر رسدگاہ میں لگی دوربین تک رسائی حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔

’سچ پوچھیں تو آج نویں سیارے کا کھوج لگانے کی واحد امید یہ ہے کہ آپ اسے سوبرُو نامی دوربین سے دیکھ سکیں۔ امریکی ریاست ہوائی کے ایک خوابیدہ آتش فشاں پر لگی ہوئی آٹھ اعشاریہ دو میٹر کی اس دوربین میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ یہ دور دراز کے خلائی اجسام سے نکلنے والی کمزور روشنی کو بھی دیکھ سکتی ہے۔ یہ ایک بہترین حل ہو سکتا ہے کیونکہ یہ نواں سیارہ سورج سے اس قدر دور ہو گا کہ اس سے سورج کی شعاعیں نہایت کم منعکس ہو رہی ہوں گی۔‘

ایک پُرفریب متبادل

نویں سیارے کے حوالے سے ایک عجیب و غریب صورت حال کا سامنا بھی ہو سکتا ہم روایتی طریقوں سے اس کا کبھی بھی کھوج نہ لگا سکیں، ہو سکتا ہے کہ اس سیارے کا وجود ہو ہی نہ اور جسے ہم سیارہ سمجھ رہے ہیں وہ کوئی بلیک ہول ہو۔

شکاگو کی یونیورسٹی آف ایلینوئے کے طبیعات کے شعبے سے منسلک پروفیسر جیمز انوِن کہتے ہیں کہ نویں سیارے کی موجودگی کا واحد ثبوت ہمارے پاس یہ ہے کہ اس مقام پر کویی ایسی چیز موجود ہے جس میں کشش ثقل موجود ہے۔

’اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ یہ سیارے ہی ہیں جن میں اتنی زیادہ کشش ثقل ہوتی ہے لیکن کائنات میں ایسی چیزیں بھی موجود ہیں جو سیارہ نہ ہونے کے باوجود کشش ثقل پیدا کر سکتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشن

سنہ 2019 میں ایک سپر ماسِو یا بہت بڑے حجم والے بلیک ہول کا سراغ لگا لیا گیا تھا

ایک توجیح یہ ہو سکتی ہے کہ یہ سیارہ نہ ہو بلکہ وہاں پر بہت زیادہ مقدار میں ڈارک میٹر یا سیاہ مادہ جمع ہو گیا ہو یعنی یہ اصل میں بلیک ہول کی ہی کوئی ابتدائی شکل ہو۔

اب تک ہم جس قسم کے بلیک ہولز سے واقف ہیں ان میں ’سٹیلر‘ کے علاوہ 'سُپر ماسِو' قسم کے بلیک ہولز شامل ہیں جن کا حجم بالترتیب سورج سے تین گنا زیادہ اور اس سے اربوں کھربوں گنا زیادہ ہوتا ہے۔

سٹیلر کا جنم اس وقت ہوتا ہے جب ستارے دم توڑ کر اپنے اندر ہی ٹوٹ جاتے ہیں لیکن سپر ماسِو کا معاملہ زیادہ پراسرار ہے کیونکہ اس قسم کے بلیک ہول کا آغاز شاید اس وقت ہوتا ہے جب یہ خود بڑے بڑے ستارے ہوتے ہیں اور پھٹنے کے بعد یہ اپنے ارد گرد موجود ہر چیز کو اپنے اندر سمو لیتے اور ان میں دوسرے بلیک ہولز بھی ضم ہو جاتے ہیں۔

لیکن پرائموڈیل بلیک ہولز ان دونوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کو آج تک نہیں دیکھا گیا لیکن ماہریحن سمجھتے ہیں کہ ان کا جنم نہایت گرم مادے اور توانائی کے ملاپ سے بِگ بینگ کے ساتھ ہوا تھا۔

پروفیسر انوِن کے بقول اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ بیل ہولز کا آغاز کسی ستارے سے ہوا ہو گا۔

اب وقت ہی بتائے گا نویں سیارے کی تلاش کی تگ و دو جو آج کل کے ماہرین کر رہے ہیں، وہ لوول کی جستجو سے زیادہ کامیاب ثابت ہو گی یا نہیں لیکن بیٹیگن کہتے ہیں کہ ان کا مشن لوول کی کوششوں سے بالکل مختلف ہے۔

’اس حوالے سے پائے جانے والے تمام ممکنات یا تجاویز اس لحاظ سے بہت مختلف ہیں کہ ان میں جو اعداد وشمار اور معلومات استعمال کی جا رہی ہیں اور اس کی وضاحت کے لیے جو طریقہ کار استعمال کیا جا رہا ہے وہ بالکل مختلف ہے۔‘

اس کا نتیجہ جو بھی نکلے، ایک نویں سیارے کی تلاش نے نظام شمسی سے متعلق ہماری سوچ کو بدل دیا ہے۔ کون جانتا ہے کہ جب تک یہ تلاش کسی نتیجے پر پہنچتی ہے، نظام شمسی سے متعلق ہماری سمجھ میں کیا کچھ تبدیلی آ چکی ہو گی۔