لیپ ٹاپ کو ہر وقت بجلی پر لگانا یا بیٹری پر چلانا، آخر بہتر کیا ہے؟

لیپ ٹاپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیپ ٹاپ کا استعمال کرنے والے ایک عام سوال اکثر پوچھتے ہیں کہ اس کی بیٹری لائف کو کیسے بڑھایا جائے یا کم از کم اس کے بار بار ختم ہونے کو کیسے کم کیا جائے۔

حالانکہ تمام بیٹریاں وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہوتی ہیں لیکن بہت سے لیپ ٹاپ استعمال کرنے والے صارفین یہ سوال کرتے ہیں کہ جس طرح ہم انھیں استعمال کرتے ہیں کیا اس میں تبدیلی سے ان کی کارکردگی میں کوئی فرق آ سکتا ہے یعنی یہ زیادہ دیر تک قابل استعمال رہیں۔

اگر ایسا ہے تو ہم بیٹریوں کو کیسے استعمال کریں؟ کیا ہم انھیں ہر وقت سو فیصد چارج رکھیں یا ان کے چارجنگ لیول کے مطابق انھیں بجلی کے پلگ سے لگاتے اور ہٹاتے رہیں۔

بی بی سی منڈو نے اس سلسلے میں چند ٹیکنالوجی ماہرین سے بات کی ہے کہ بیٹریاں استعمال کرنے کا بہترین طریقہ کار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

بیٹری لائف

موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز کی بیٹریاں زیادہ تر لیتھیم سے تیار کردہ ہوتی ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنی لینووو کی آئرلینڈ اور برطانیہ میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر ایشلی رولف کا کہنا ہے کہ ’بیٹری لائف کی ٹیکنالوجی ہر نسل کے ساتھ بہتر سے بہتر ہوتی گئی ہے۔ دس سال پہلے لیپ ٹاپ بیٹریوں کی کارکردگی چند سو مرتبہ چارج کرنے کے بعد کم ہونا شروع ہوجاتی تھی۔‘

‘لیکن اب لیپ ٹاپ بیٹریوں کی کارکردگی عمومی طور پر تین سے پانچ برس تک کام کرتی ہے جس دوران اس کو پانچ سو سے ایک ہزار مرتبہ چارج کیا جا سکتا ہے۔‘

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں توانائی کی ٹیکنالوجی کے ایک محقق کینٹ گریفتھ نے بی بی سی ورلڈ کو بتایا کہ ’آپ چاہتے ہیں کہ بیٹری آپ کو چارج کے مطابق ہر حد تک زیادہ سے زیادہ توانائی دے اور تین سے پانچ سال تک کام کرے۔'

اس توازن کو کیسے حاصل کیا جائے؟

ٹیکنالوجی کمپنی لینووو کے رولف کا کہنا ہے کہ ’اپنے لیپ ٹاپ کو ہر وقت بجلی کے ساتھ لگائے رکھنا اور بیٹری کو ہر وقت سو فیصد چارج رکھنا بالکل محفوظ اور عام بات ہے۔‘

انھوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’لینووو یا دیگر کمپنیوں کے تیارکردہ لیپ ٹاپ کمپیوٹروں میں ایسے سینسرر اور کنٹرول لاجک کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ لیپ ٹاپ کی بیٹری اوور چارج یا زیادہ گرم نہ ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تاہم بیٹری کو ہر وقت چارج پر رکھنا اور سو فیصد رکھنے سے اس کی لائف میں کچھ کمی ہو جاتی ہے۔‘

لینووو کمپنی کے سٹریٹیجک ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر اور پرنسپل انجینیئر اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘حالیہ برسوں میں زیادہ توانائی والی بیٹریاں بنانے کے بعد ہمیں یہ علم ہوا ہے کہ اگر انھیں ہر وقت چارجنگ پر رکھا جائے خصوصاً گرم درجہ حرارت میں تو ان کی کارکردگی میں معمول کے مقابلے میں تیزی سے کمی آتی ہے اور ان کی بیٹری لائف کم ہوتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کینٹ گریفتھ اس کی وضاحت دیتے ہوئے کہتے ہیں ’ایسا اس لیے ہے کیونکہ جب کوئی بھی بیٹری سو فیصد چارج ہوتی ہے تو اس کے سب سے زیادہ اعلیٰ کنڈیشن ہوتی ہے کیونکہ زیادہ توانائی کی وجہ سے اس کے وولٹیج بھی زیادہ ہوتے ہیں۔‘

کمپیوٹر بنانے والی ٹیکنالوجی کمپنی ایچ پی بھی ایسا ہی سمجھتی ہے۔ کمپنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ایچ پی لیپ ٹاپ کو ہر وقت بجلی کے پلگ کے ساتھ لگانے کی تجویز نہیں دیتا۔‘

ایچ پی کمپنی کا کہنا ہے کہ 'آج کل کی بیشتر بیٹریوں میں جب وہ سو فیصد چارج ہو جائیں تو اوور چارجنگ روکنے کی ٹیکنالوجی موجود ہوتی ہے لیکن یہ ٹیکنالوجی بجلی کے زیادہ وولٹیج کو کنٹرول نہیں کر سکتی جو بیٹری پر اضافی دباؤ کی وجہ بنتا ہے اور اس کی کارکردگی کو مقررہ وقت سے پہلے متاثر کرتا ہے۔‘

اسی طرح کینٹ گریفتھ کا کہنا ہے کہ ‘لہذا اگر آپ اپنی لیپ ٹاپ یا کسی اور ڈیوائس کی بیٹری کو سو فیصد چارج ہونے سے قبل ہی چارجنگ سے اتار لیں گے تو یقیناً آپ کی بیٹری زیادہ دیر چلے گی۔‘

ان ماہرین کی سفارش یہ ہے کہ لیپ ٹاپ کو مکمل طور پر چارج رہنے کے وقت کو محدود کر دیں یا جب بھی آپ اسے بجلی کے پلگ میں لگائیں تو اس کی بیٹری کو سو فیصد تک چارج کرنے کے بجائے، صرف 80 فیصد تک چارج کریں۔

رولف کہتے ہیں کہ ‘تکنیکی طور پر، بیٹریاں صفر یا سو فیصد چارج کے مقابلے میں 50 فیصد چارج پر زیادہ ’خوش‘ ہوتی ہیں، لہذا تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کو 20 سے 80 فیصد کے درمیان چارج رکھنا بہتر ہے۔‘

اسی طرح ٹیکنالوجی ماہر جیکس کا کہنا ہے کہ ‘بیٹریوں کو 80 فیصد چارج پر ان پر پڑنے والے دباؤ کو محدود کرنے سے بہت سے فوائد ہیں۔‘

مائیکرو سافٹ نے اپنی ویب سائٹ پر بھی خبردار کیا ہے کہ اس کے سرفیس لیپ ٹاپ (دوسرے برانڈز کے لیے نہیں) میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کو ‘زیادہ چارج کرنے کی صورت میں ان کی کارکردگی میں زیادہ تیزی سے کم ہو گی۔‘

مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ ‘آپ اپنے سرفیس لیپ ٹاپ کی بیٹریوں کو زیادہ دیر تک چارجنگ پر نہ لگا کر تیزی سے خراب ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اگر آپ کو بیٹری کو مسلسل چارجنگ پر لگانے کی ضرورت ہے تو ہم آپ کو بیٹری چارجنگ کے لمٹ موڈ استعمال کرنے کی تجویز دیں گے۔‘

مائیکروسافٹ، لینووو اور ایچ پی جیسے کئی برانڈز اپنے لیپ ٹاپ فیچرز میں اس کے بیٹری پر بوجھ کی زیادہ سے زیادہ مقدار کو محدود کرنے کا آپشن فراہم کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مثال کے طور پر ایچ پی آپ کو ’بیٹری کی صحت‘ کے موڈ میں زیادہ سے زیادہ 80 فیصد تک چارجنگ کی سہولت کا آپشن دیتا ہے۔

گریفتھ کہتے ہیں کہ ’عمومی طور پر اگر آپ اپنی بیٹری کو زیادہ دیر تک قابل استعمال بنانا چاہتے ہیں تو اس کو سو فیصد کی بجائے 80 فیصد تک استعمال کریں اس سے اس کا چارچنگ سائیکل بڑھ جائے گا۔‘

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو اپنی بیٹری کو زیادہ دیر تک قابل استعمال بنانے کے لیے اس میں ایک توازن قائم رکھنا پڑے گا کہ ہر مرتبہ چارجنگ کرنے پر آپ کی بیٹری کتنی دیر چلتی ہے بمقابلہ آپ اسے کتنی مرتبہ چارج کرتے ہیں۔

آپ اپنا لیپ ٹاپ کیسے استعمال کریں گے؟

لیکن ماہرین کی ان سفارشات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر مرتبہ جب آپ کا لیپ ٹاپ سو فیصد چارج ہو جائے تو آپ اسے فوری طور پر چارجنگ سے ہٹانے کے لیے لپکیں۔

لینووو کمپنی کے رولف کا کہنا ہے کہ ‘تمام لیپ ٹاپ میں ایک کنٹرول سرکٹ لگایا جاتا ہے تاکہ وہ بیٹری کو اوور چارج ہونے سے بچا سکے لیکن آپ اپنی بیٹری کی قابل استعمال مدت کو 80 فیصد تک چارج کر کے بڑھا سکتے ہیں۔‘

لیکن اس کے ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ 'آج کل بیٹریاں اتنی دیر چلتی ہیں کہ شائد بہت سے صارفین کے لیے یہ پریشانی کی بات نہ ہو۔'

ان کا کہنا ہے کہ ’آج کل کی بیٹریاں اتنی اچھی ہے کہ عموماً یہ لیپ ٹاپ سے زیادہ دیر تک کارآمد رہتی ہیں۔‘

رولف کی آخری سفارش یہ ہے کہ آپ لیپ ٹاپ کو کس طرح جانچیں گے یعن، اس کی تشخیص کریں کہ آیا آپ کو پلگ تک مستقل رسائی حاصل ہو رہی ہے یا اگر آپ طویل عرصے سے بجلی سے منسلک نہیں ہوں گے۔ دوسری صورت میں بہتر ہو گا کہ آپ اس کو مکمل چارج کر لیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘اگر آپ زیادہ تر وقت اپنی میز پر موجود ہیں تو بیٹری پر بوجھ کی حد مقرر کریں لیکن اگر آپ زیادہ تر وقت باہر ہیں تو اسے 100 فیصد چارج پر چھوڑ دیں اور اس کی فکر نہ کریں!‘