ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر موٹاپا چھپانے والی ایپس سے ’نوجوان غذائی مسائل کے شکار ہو سکتے ہیں‘

  • کرسٹینا کریڈل
  • ٹیکنالوجی رپورٹر
گرافکس

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ٹک ٹاک یا انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیو میں آپ کی جسامت بدل دینے والی باڈی ایڈیٹنگ ایپس کی تشہیر سے نوجوانوں میں غذائی بے ترتیبی پیدا ہوسکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر موجود ان اشتہارات میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کیسے لوگ ان ایپس کے استعمال سے مصنوعی طور پر کمر پتلی یا خوبصورت جسم دکھا کر ویڈیو کو تبدیل کرسکتے ہیں۔

صحت کی غذائی مشکلات پر آگاہی پھیلانے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں کمزور طبقوں پر ان ایپس کے اثرات کو مدنظر رکھیں۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا کہنا ہے کہ ان ایپس نے اشتہارات سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی نہیں کی تاہم ٹک ٹاک نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا۔

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ایپ کو مسلسل بہتر بنانے اور یہاں ’باڈی پازیٹو انوائرمنٹ (ہر طرح کے جسم کے حامل افراد کے لیے مثبت ماحول)‘ کی حمایت کے لیے کوشاں ہے۔

گذشتہ برس نوجوانوں میں مقبول اس سوشل میڈیا ویب سائٹ نے فاسٹنگ ایپس اور وزن کم کرنے کے سپلیمنٹس کی تشہیر کرنے والی ایپس پر پابندی عائد کر دی تھی۔

’وبا مزید پھیلے گی‘

خوراکی عارضوں کے بارے میں آگاہی مہم چلانے والی کارکن ہوپ ورگو کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر متحرک کمپنیوں کو کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے اور ان کے اس قسم کے غیر صحتمندانہ اور مددگار ثابت نہ ہونے والے اشتہارات پر پابندی عائد کی جائے۔

’ایک سال کے عرصے میں ہم نے ایسے لوگوں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ دیکھا ہے جن کی خوراک کے شیڈول میں خلل پیدا ہوا ہے اور بھلے ہی یہ ضروری نہیں کہ جسم کے بارے میں خراب تاثر اس کی وجہ ہو، مگر ہمیں معلوم ہے کہ یہ آپس میں منسلک ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ 'انسٹاگرام اور ٹک ٹاک اس وقت باڈی تبدیل کرنے والی ایپس کی تشہیر کر رہے ہیں جس سے خوراکی عارضوں کی یہ وبا مزید پھیلے گی۔'

خوراک میں بے ترتیبی سے متعلق کام کرنے والی خیراتی تنظیم سیڈ کا کہنا ہے کہ اس نے اس وبا میں 68 فیصد اضافہ دیکھا ہے۔ ان کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے پھوٹنے سے لے کر اب تک 10 سے 19 برس کے بچوں اور نوجوانوں نے زیادہ مدد مانگی ہے۔

،تصویر کا ذریعہDanae Mercer

ڈانا میرسر صحت سے متعلق امور پر رپورٹنگ کرتی ہیں، جو کھانے میں خلل سے متعلق خوب واقف ہیں۔

وہ باقاعدگی کے ساتھ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر جسم سے متعلق لکھتی ہیں اور وہ ایسی ویڈیوز بھی بناتی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ کیسے جسم کو مصنوعی طور پر بدل کر دکھایا جاتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے تجربے سے بتا سکتی ہیں کہ یہ ایپس مسئلے کو بہت بڑھا دیتی ہیں۔

ان کے مطابق ان ایپس نے انھیں اتنا پتلا بنا دیا کہ وہ ہمیشہ اگر ورزش کرتی رہتیں تب بھی ممکن نہ ہو پاتی۔ ‘ان ایپس نے میرے جسم میں موجود مساموں کو اس طرح ختم کیا جو فطرتی طور پر بھی ممکن نہیں ہے۔ وہ ایک ایسی 'میں' تشکیل دیتے ہیں جو کہ سادہ الفاظ میں کہیں تو ناقابلِ حصول ہے۔ اور یہ سب ایک بٹن دبانے سے ہوتا ہے۔‘

‘اس طرح کی ٹیکنالوجی کے بہت گہرے اثرات ہیں اور میں یہ دیانتداری سے بتا رہی ہوں کہ ہمیں اس کے صحیح نتائج کو دیکھنے کے لیے کئی سال لگ سکتے ہیں۔‘

ان کے مطابق یہ بہت پریشان کن ہے کہ یہ ایپس خاص طور پر کمزور نوجوانوں کو زیادہ ہدف بنا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کے مطابق نوجوان لڑکے لڑکیاں ابھی ان باتوں کا صیحح ادراک نہیں رکھتے، اسی طرح ہم بچوں میں وزن میں کمی کی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی اجازت نہیں دیں گے، ہمیں صحیح معنوں میں اس حوالے سے نئے قواعد وضع کرنے ہوں گے کہ کون سی ایپس کمزور طبقات کو ہدف بنا سکتی ہیں۔

بہت ساری مفت ایپس ایپل اور اینڈرائیڈ ایپ سٹورز پردستیاب ہیں جو جسم میں اس طرح کے اضافوں پر آمادہ کرتی ہیں۔ صارفین فوٹوز یا ویڈیوز میں ترمیم کرسکتے ہیں، چہرے، سائز اور جسم کے حلیے میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ان ایپس کی مدد سے وہ جلد کو ہموار کرتے ہیں اور پٹھوں کو بڑھاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داری

سیڈ کی منیجر جیما اوتان کا کہنا ہے کہ ہم پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ وقت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صرف کرتے ہیں۔

’مگر جب ہم حقیقی دنیا میں جائیں گے تو پھر ہم سکرین اور ایپس کے پیچھے نہیں چھپ سکیں گے۔ ان کے مطابق لوگ آن لائن اپنے تشخص کو بدلنے پر تیار ہوجاتے ہیں مگر یہ حقیقی زندگی میں ان پر دباؤ کا ذریعہ بنتا ہے۔‘

’سوشل میڈیا پر مہمات چلانے والوں کو فرائض کی بھی ادائیگی کا بھی خیال ہونا چاہیے اور ایسی تشہیر کو نکال دینا چاہیے جو جسم کے لیے کسی بھی طرح خطرے کا سبب بن سکتی ہو۔‘

برطانیہ کے خیراتی ادارے بیٹ کے مطابق ’جسم میں تبدیلی رونما کرنے والی ایسی ایپس جو وزن کو دھبے کے طور پر پیش کرتی ہیں یا وہ پتلے پن کے تصور کو فروغ دیتی ہیں، وہ ایسے افراد کے لیے بے چینی کا سبب بن سکتی ہیں جو پہلے سے ہی کمزور یا خوراکی عارضوں میں مبتلا ہیں۔‘

بیٹ کے خارجہ امور کے ڈائریکٹر ٹام کوئن کا کہنا ہے کہ ’ہم ان ایپس کے بنانے والوں سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے اس طرح کے اشتہارات کے اثرات کا جائزہ لیں جو کمزور لوگوں پر مرتب ہوتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’ہم کسی بھی جدوجہد کرنے والے کی حوصلہ افزائی کریں گے جو جہاں ممکن ہو اس طرح کی ایپس کے منفی اثرات کے بارے میں مطلع کریں اور اس طرح کے حربوں سے ایک قدم دوری ہی اختیار کریں اور اپنی بہتری کے لیے بیٹ جیسے مثبت ذرائع پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔‘