طوفانی بادلوں کے اوپر درجہ حرارت ریکارڈ منفی 111 ہونے کا انکشاف

  • جوناتھن ایموس
  • بی بی سی، سائنس نامہ نگار
اینوِل کلاؤڈز

،تصویر کا ذریعہSPL

،تصویر کا کیپشن

یہ سندانی صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بادل کی اوپری سطح بلند ہوتی چلی جاتی ہے

ہم سب نے وہ پرشکوہ طوفانی بادل دیکھے ہیں جو گرمیوں میں بنتے ہیں، لیکن آپ کے خیال میں اس کے بالکل اوپر درجۂ حرارت کتنا ہوتا ہے۔

یقیناً بہت سردی ہوتی ہے۔ بلندی پر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ہوتا ہے۔ مگر کیا آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ کبھی کبھی یہ منفی 100 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلا جاتا ہے۔

سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک تحقیق شائع کی ہے جس میں سنہ 2018 میں منطقہ حارہ میں آنے والے طوفانی سسٹم کے بارے میں پتا چلا ہے کہ درجۂ حرارت منفی 111 ڈگری سنیٹی گریڈ تک گر گیا تھا۔ یہ ممکنہ طور پر اب تک کا ریکارڈ کم ترین درجۂ حرارت تھا۔

یہ اُس سال 29 دسمبر کو مغربی بحرالکاہل میں خط استوا کے بالکل جنوب میں دیکھا گیا تھا۔ اس درجۂ حرارت کو وہاں سے گزرنے والی امریکی سیٹلائیٹ نوا-20 نے ریکارڈ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ہوا کا بگولا تیزی سے اوپر کی جانب ٹروپوسفیئر یا کرۂ اول کہلانے والے فضا کے نچلے حصے میں پہنچا جہاں پر بادل کی سطح ہموار ہو جاتی ہے۔ تاہم اگر طوفان بہت زیادہ طاقت ور ہو تو ایسے میں اوپر اٹھتی ٹروپوپاز سے ٹکرا سکتی ہے۔ جو دراصل زمین کی فضا کے دوسرے مرکزی حصے سٹریٹوسفیئر اور ٹروپوسفیئر کے درمیان ایک سرحد کی مانند ہے۔

سنہ 2018 میں سب سے اوپر بننے والا بادل بیس اعشاریہ پانچ کلو میٹر کی بلندی پر تھا۔

،تصویر کا کیپشن

بادل کے مختلف حصوں پر موجود درجہ حرارت

ڈاکٹر سائمن پراؤڈ آکسفورڈ یونیورسٹی کے نیشنل سینٹر فار ارتھ آبزرویشن میں سیٹلائٹ سے متعلق امور کے بارے میں ریسرچ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'ہوا کے اس تیزی سے اوپر اٹھنے کے عمل کو اوور شوٹنگ ٹاپ کہا جاتا ہے۔'

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اوور شوٹنگ ٹاپس کا عمل عام ہے۔ اسے ہم برطانیہ میں بھی کبھی کبھار دیکھتے ہیں جیسا کہ اگست میں جب بہت زیادہ طوفان آتے ہیں۔ لیکن یہ بہت تیز رفتار تھا۔

عام طور پر جب ہوا اوپر کی جانب اٹھتی ہے تو ہر کلومیٹر پر اس کا درجہ حرارت سات ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہوتا جاتا ہے۔ یہ ٹروپوپاز کی نسبت 13 سے 14 ڈگری سینٹی گریڈ ٹھنڈی تھی اس لیے یہ ایک بڑا اوور شوٹ تھا۔

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشن

ہموار سطح والے بادل میں وقوع پذیز نا ہمواری

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ڈاکٹر پراؤڈ اور سکاٹ بیچمیئر نے، جو امریکی یونیورسٹی وِسکانسن میڈیسن میں موسمیات کے محقق ہیں، اس واقعے کے بارے میں جریدے جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز میں ایک مضمون شائع کیا ہے۔

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ اس میں کون سے عوامل کار فرما تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ بحرالکاہل کے اس حصے میں بڑے طوفان دسمبر سے جنوری کے دوران کئی بار آتے رہتے ہیں لیکن یہ کچھ زیادہ بڑا تھا۔

تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ طویل المدتی اعداد و شمار میں ان انتہائی سرد طوفانوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ یہ خطے میں سمندر کے بہت گرم پانی سے آیا ہے لیکن موسمیاتی ماہرین کے مطابق اس کے لیے اسے اس عمل سے بھی مدد ملی جسے وہ میڈین جولین اوسیلیشن کہتے ہیں۔ یہ عمل مشرق کی جانب بڑھتی ہواؤں کا عمل ہے جو موسم کی خشکی یا نمی کو واضح کرتی ہیں۔

پوری دنیا میں اس قسم کے واقعات گذشتہ تین سال میں دیکھے گئے جو اس سے 13 برس پہلے بھی دیکھے گئے تھے۔ اور عمومی طور پر یہ ایک دوسرے سے تعلق بھی رکھتے ہیں کہ جتنا کم درجۂ حرارت میں آنے والا طوفان ہو گا اتنا ہی موسم خراب ہو گا جیسا کہ بجلی کڑکے گی اور سیلابی صورتحال پیدا ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہBall Aerospace

،تصویر کا کیپشن

خاکہ: این او اے اے - 20 نچلے مدار میں گردش کرتا مصنوعی سیارہ ہے جو موسمی پیش گوئی سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے

ڈاکٹر پراؤڈ کہتے ہیں کہ اگر آپ وہاں ہوتے تو آپ بھیگ جاتے اور ممکنہ طور پر آپ کے سر پر بہت سے اولے آ کر گرتے اور بہت گرج چمک ہو رہی ہوتی۔

’گذشتہ 20 برسوں کے دوران یہ دیکھا گیا ہے کہ سپر کلاؤڈ طوفان زیادہ آنے لگے ہیں۔ یہ دلچسپ ہے کہ دنیا کے اس حصے میں زمین کے گرد فضا کے کرۂ اول سے آگے کا حصہ گرم ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے ہم شاید اب ٹھنڈے بادلوں کے بجائے گرم بادلوں کو دیکھیں جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اب زیادہ سخت طوفان دیکھیں گے۔‘

موسمیاتی ایجنسیاں اس سے آگاہ ہیں کہ تمام سیٹلائٹس کے سینسرز انتہائی کم درجۂ حرارت ناپنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جسے نوا 20 کے ویزیبل انفراریڈ امیجنگ ریڈیومیٹر نے ریکارڈ کیا۔ اس لیے ان میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر اس روز امریکی خلائی جہاز کم درجۂ حرارت کو نہیں ریکارڈ کر سکا تھا۔

یہ صبح کے تین بجے اس کے اوپر سے گزرا تھا جبکہ اس عمل کا نقطۂ عروج ساڑھے چار بجے آیا۔