ٹنڈر: ڈیٹنگ ایپ پر انتباہ کے ذریعے نفرت انگیز اور ہراسانی کے پیغامات روکے جائیں گے

ٹنڈر

ڈیٹنگ ایپ ٹنڈر پر اب گالم گلوچ والے پیغامات کا پتا لگایا جائے گا اور جنسی ہراسانی سے نمٹنے کی کوشش میں لوگوں کو پیغام بھیجنے سے پہلے ’رکنے اور سوچنے‘ کے لیے کہا جائے گا۔

اس خودکار نظام کے تحت ’تکلیف پہنچانے والی زبان‘ کو سیکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کی بنیاد وہ پیغامات ہیں جن کے بارے میں صارفین نے شکایت کی ہے۔

ٹِنڈر نے کہا ہے کہ ’آر یو شیور‘ نظام کے تحت آزمائشوں کے دوران ’نامناسب زبان کے استعمال والے پیغامات‘ میں تقریباً دس فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔

انسٹاگرام اور ٹوئٹر پہلے سے ہی اسی طرح کے نظام کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ گالم گلوچ والے تبصرے اور ٹویٹس کا پتا چل سکے۔

یہ بھی پڑھیے

انسٹاگرام اگر کسی تصویر پر کمنٹس میں ایسا مواد پاتا ہے جو کسی کو نقصان پہنچانے یا ہراسانی کا باعث ہے تو وہ اپنے صارفین سے پوچھتا ہے کہ ’کیا آپ واقعی یہ پوسٹ کرنا چاہتے ہیں؟‘

مئی کے شروع میں ٹوئٹر نے کہا تھا کہ وہ لوگوں سے پوسٹ کرنے سے پہلے اپنے ٹویٹس پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کرنا شروع کر دے گا اگر ان میں ’نقصان دہ یا توہین آمیز‘ زبان کا استعمال کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹِنڈر پہلے سے ہی لوگوں سے ایسے پیغامات موصول ہونے پر پوچھتا ہے، جس میں اسے کوئی گالم گلوچ والا جملہ ملا ہو کہ ’کیا یہ آپ کے لیے پریشان کن ہے؟‘

لیکن نئے نظام میں مصنف سے پیغام بھیجنے سے پہلے اس پر نظر ثانی کرنے کے لیے کہا جائے گا۔

ڈیٹنگ ایپ نے کہا کہ جن لوگوں نے آزمائشی ورژن کے دوران انتباہ دیکھا، ان کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ ان کے خلاف ’اگلے مہینے کے دوران غیر موزوں پیغامات کے بارے میں اطلاع دیے جانے کے امکانات کم ہوں گے۔‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سوشل میڈیا پر زہریلے پیغامات کو روکنے کے لیے اقدامات

بی بی سی ٹیکنولوجی رپورٹر کرس فوکس کا تجزیہ

اگر آپ کو لگتا ہے کہ سوشل میڈیا زہریلا ہوسکتا ہے تو آپ ڈیٹنگ ایپس پر آنے والی تبدیلیوں تک انتظار کریں۔

سوشل میڈیا ایسے لوگوں سے بھرا ہوا ہے جو ہراسانی یا نفرت سے بھرے پیغامات شیئر کرتے ہیں اور لوگوں کو ٹِنڈر پر اجنبیوں سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔

حیرت انگیز طور پر لوگ بعض اوقات دوسروں سے گالم گلوچ میں ’مقابلہ‘ کرتے نظر آتے ہیں۔

ٹِنڈر کے تجربے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ لوگوں کو روکنے اور سوچنے کے لیے کہنے سے ہراسانی سے بھرے پیغامات میں دس فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے 90 فیصد اب بھی جال سے بچ نکل رہے ہیں۔

ان ڈیٹنگ ایپس کا کیا کِیا جائے ہے جو اس زہریلے ماحول کو فروغ دیتے ہیں؟

شاید لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف ان کی تصاویر پر مبنی ’پُرکشش ہنگر گیمز‘ پر اُکسانا اس مسئلے کا ایک حصہ ہے۔

لیکن یہ ٹِنڈر کے لیے ایک منافع بخش کھیل ہے جس میں یہ اپنے ’ٹاپ پکس‘ کی لامحدود سوائپنگ کے لیے ایک سال میں 116 پاؤنڈ وصول کرتا ہے۔

اور یہ ٹاپ پِکس ایک حساب پر مبنی ہے جس میں سب سے زیادہ مانگ والے صارف کی فہرست تیار ہوتی ہے۔