پیدائش کے وقت سیب جتنی وزنی دنیا کی سب سے ننھی بچی 13 ماہ بعد ہسپتال سے گھر لوٹ گئی

  • سُرنجنا تیواری
  • بی بی سی نیوز
یوشوان، والدہ اور والد کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہNUH, SINGAPORE

،تصویر کا کیپشن

بچی کا وزن اب چھ اعشاریہ تین کلو یا 14 پاؤنڈ ہے جو صحت مندانہ سمجھا جاتا ہے

سنگاپور کے ایک ہسپتال میں محض 212 گرام وزن کے ساتھ وقت سے پہلے پیدا ہونے والی بچی کو 13 ماہ تک انتہائی نگہداشت میں رکھنے کے بعد ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس بچی کو دنیا کی ’سب سے چھوٹی بچی‘ کہا جا رہا ہے۔

پیدائش کے وقت اس ننھی بچی کا وزن اتنا ہی تھا جتنا کہ ایک سیب کا ہوتا ہے اور اس کا قد صرف 24 سینٹی میٹر تھا۔

کویک یو شوان نامی بچی کی پیدائش حمل کے صرف 25 ہفتوں بعد ہوئی تھی جو 40 ہفتوں کے اوسط دورانیے سے بہت کم ہے۔

یونیورسٹی آف آئیوا کی سب سے ننھے بچوں کی رجسٹری کے مطابق اس سے پہلے یہ ریکارڈ امریکہ کی ایک بچی کا تھا جس کا سنہ 2018 میں پیدائش کے وقت وزن صرف 245 گرام تھا۔

یو شوان کی والدہ پری ایکلیمپسیا نامی عارضے میں مبتلا ہو گئی تھیں جس میں بلڈ پریشر میں انتہائی اضافے کے باعث ماں اور بچے کے اہم اعضا متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

اس لیے یو شوان کی پیدائش سی سیکشن کے ذریعے ہوئی تھی۔ یو شوان کا وزن اب چھ اعشاریہ تین کلو یا 14 پاؤنڈ ہے جو صحت مندانہ سمجھا جاتا ہے۔

سنگاپور کے نیشنل یونیورسٹی ہسپتال (این یو ایچ) کے مطابق بچی کی 'زندہ بچنے کی امید بہت کم تھی'۔

،تصویر کا ذریعہKwek Family

،تصویر کا کیپشن

پیدائش کے وقت اس ننھی بچی کا وزن اتنا ہی تھا جتنا کہ ایک سیب کا ہوتا ہے اور اس کا قد صرف 24 سینٹی میٹر تھا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 'پیدائش کے وقت صحت کی پیچدگیوں اور دیگر مسائل کے باوجود ان کی ثابت قدمی اور ان کی نشونما نے ان کے اردگرد موجود افراد کو متاثر کیا ہے اور یہ انھیں ایک غیر معمولی 'کووڈ 19 بے بی' بناتا ہے یعنی بحران میں امید کی کرن۔'

ہسپتال میں یو شوان پر مختلف طریقہ علاج آزمائے گئے اور انھیں زندہ رکھنے کے لیے مختلف مشینوں کی ضرورت بھی پڑی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی صحت اور نشونما میں بہتری آتی رہی اور اب ان کی طبیعت اتنی بہتر ہو چکی ہے کہ انھیں ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

یو شوان اس وقت بھی پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا ہیں اور انھیں گھر پر سانس لینے کے لیے مشینوں کی مدد درکار ہو گی۔ تمام ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ اس میں بھی بہتری آئے گی۔

ان کی والدہ وانگ می لنگ نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یو شوان کی پیدائش اور ان کا وزن اور صحت ان کے لیے بھی ایک دھچکا تھا کیونکہ ان کے چار سالہ بیٹے کی پیدائش معمول کے مطابق ہوئی تھی۔

یو شوان کے والدین ان کے ہسپتال میں طویل علاج کا خرچہ کراؤڈ فنڈنگ مہم کے ذریعے پورا کر سکے ہیں جس میں انھیں دو لاکھ 70 ہزار ڈالر کے عطیات موصول ہوئے۔