کورونا: ویکسین لگوانے اور نہ لگوانے والے افراد میں اس بیماری کی علامات کس قدر مختلف ہیں؟

  • آندرے برناتھ
  • بی بی سی ورلڈ سروس
کورونا ویکسین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان میں ایک بار پھر کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں کورونا کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے باعث حکومت نے ایک بار پھر کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کو سختی سے اپنانے اور ملک میں ویکسین مہم کو تیز کرنے کا کہا ہے۔

حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 333 نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ دو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اس سال جنوری میں کراچی میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی جس کے بعد اب جون کے مہینے میں یہ شرح دوبارہ بڑھتی جا رہی ہے اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح دس فیصد تک پہنچ گئی ہے تاہم ہسپتالوں میں مریضوں کے داخل ہونے کی شرح نہایت ہی کم ہے۔

حکومت نے ملک میں کورونا وبا کی ممکنہ نئی لہر کے پیش نظر ملک میں ویکسینیشن کے مہم کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے جبکہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین لگوانے کے چھ مہینے کے بعد کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت کافی کم ہو جاتی ہے، اس لیے ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ پہلی اور دوسری بوسٹر ڈوز ضرور لگوائیں۔

مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسے افراد جنھوں نے کورونا ویکسین لگوائی ہے ان میں کورونا کی کیا علامات ظاہر ہوتی ہیں اور ایسے افراد جنھوں نے ویکسین نہیں لگوائی ان میں یہ علامات کیا ہیں۔

کورونا کی علامات کیا ہیں؟

ناک کا بہنا، سر درد، چھینکیں، گلے میں خراش اور مسلسل کھانسی۔ یہ پانچ علامات ان لوگوں میں سب سے عام ہیں جنھیں ویکسین کی دو یا دو سے زیادہ خوراکیں لینے کے بعد کووڈ ہوا اور جنھوں نے ویکسین نہیں لگوائی ان میں یہ علامات کچھ اس ترتیب میں ظاہر ہوتی ہیں: سر درد، گلے میں خراش، بہتی ناک، بخار اور مسلسل کھانسی۔

یہ دریافتیں ٹیکنالوجی کمپنی زو کی طرف سے تیار کردہ ایک ایپلیکیشن کے ذریعے برطانیہ میں کووڈ کے کیسز کی دو سال سے زیادہ عرصے کی مانیٹرنگ کے بعد سامنے آئی ہیں۔

کنگز کالج لندن کے محققین کے ساتھ مل کر ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور اسے برطانوی ادارہ برائے صحت (این ايچ ایس) کی حمایت حاصل رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

وقت کے ساتھ وبائی مرض کی علامات میں کمی واقع ہوتی نظر آئی ہے

کووڈ کے ٹیسٹ کے مثبت نتائج آنے کے بعد ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ 47 لاکھ سے زیادہ صارفین ان علامات کو درج کر رہے ہیں، جو وہ محسوس کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ، ماہرین معلومات کا تجزیہ کرتے ہیں اور سب سے عام علامات کو ایک درجہ بندی میں جمع کرتے ہیں، جو وبائی مرض کے دور میں کافی حد تک بدل چکی ہیں۔

اس کام (جسے مارچ 2022 تک برطانوی حکومت سے فنڈز موصول ہوئے) کے تحت سونگھنے یا ذائقے کی حس کھو جانے جیسے کووِڈ کے کچھ کم سے کم متوقع اثرات کو فوری طور پر شناخت کیا گيا۔

ایک معمولی لیکن قابل ذکر فرق

ان لوگوں میں جنھوں نے ویکسین کی کم از کم دو خوراکیں لی ہیں، کووِڈ کی سب سے عام علامات یہ ہیں:

  • بہتی ناک
  • سر درد
  • گلے کی سوزش
  • مسلسل کھانسی

جنھوں نے کووڈ کی کوئی خوراک نہیں لی، ان لوگوں میں اہم علامات یہ ہیں:

  • سر درد
  • گلے کی سوزش
  • بہتی ہوئی ناک
  • بخار
  • مسلسل کھانسی

بنیادی فرق یہ ہے کہ ویکسین نہ لگوانے والوں کو بخار تھا، جو کچھ زیادہ سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انھوں نے ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ سر درد اور گلے کی سوزش کی بھی اطلاع دی، جنھوں نے کووڈ ویکسین کی دو یا زیادہ خوراکیں حاصل کیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

کووڈ کی سنگین صورت حال سے بچنے کے لیے ویکسین بہترین طریقہ ہے

تجربہ کرنے والے افراد نے بتایا ’اس تبدیلی کی وضاحت کرنے کی وجوہات ہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ویکسین لگوانے والے افراد میں کم شدید علامات ظاہر ہوتی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ نوجوان افراد میں زیادہ تعداد میں کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جو کم شدید اور الگ الگ علامات کے متعلق اطلاع دیتے ہیں۔‘

مصنفین نے متنبہ کیا ہے کہ علامات کی درجہ بندی صرف ان معلومات پر مبنی ہے جو ایپلیکیشن میں شیئر کی گئی ہیں۔ اس میں کورونا وائرس کی مخصوص اقسام کے پھیلاؤ پر توجہ مرکوز نہیں کی گئی۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کووِڈ کی علامات کافی حد تک مختلف ہو سکتی ہیں۔ برطانوی ادارہ صحت کے مطابق بیماری کی علامات کی مکمل فہرست میں مندرجہ ذیل علامات شامل ہیں:

  • تیز بخار یا کپکپاہٹ (سردی لگنا)
  • ایک نئی طرح کی مسلسل کھانسی- اس کا مطلب ہے ایک گھنٹے سے زیادہ کھانسی یا 24 گھنٹوں میں کھانسی کے تین یا اس سے زیادہ دورے
  • آپ کی سونگھنے یا ذائقہ کی حس میں کمی یا تبدیلی
  • سانس لینے میں دشواری
  • تھکاوٹ یا بے جان محسوس کرنا
  • جسم میں درد
  • سر درد
  • خراب گلا
  • بند یا بہتی ہوئی ناک
  • بھوک میں کمی
  • اسہال یا دست
  • بیمار ہونے کا احساس

اگر مجھے کووڈ کی علامات ہوں تو کیا کروں؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

برطانیہ اور بین الاقوامی حکام کا کہنا ہے کہ اگر آپ میں کورونا وائرس کے انفیکشن کی عام علامات میں سے ایک یا ایک سے زیادہ علامات ہیں تو آپ کا پہلا کام گھر میں رہنا اور دوسروں کے ساتھ بات چیت کو محدود کرنا ہے۔

یہ اس وقت اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے جب آپ معمر افراد یا ایسے مریضوں کے رابطے میں ہیں، جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے کیونکہ انھیں کووڈ کی پیچیدگیوں سے زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ایک اور اہم قدم اس کی جانچ کرانا ہے تاکہ بیماری کی تصدیق یا اسے مسترد کیا جا سکے۔ اس کے لیے پی سی آر ٹیسٹ ہے جسے تشخیص کے اہم اور مؤثر طریقہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس کے علاوہ بہت سے ممالک میں فارمیسیوں اور دیگر جگہوں پر تیز رفتار اینٹیجن ٹیسٹ بھی دستیاب ہے۔

اگر نتیجہ مثبت ہے تو ضروری ہے کہ پانچ سے سات دن تک الگ تھلگ رہیں۔

اگر ان پانچ سات دن میں آپ کی تکلیف میں افاقہ ہوتا ہے تو یہ ممکن ہے کہ آپ اپنے معمولات کو دوبارہ شروع کریں تاہم اگر ان میں شدت آ جائے (یا زیادہ سنگین علامات ظاہر ہوں، جیسے سانس لینے میں دشواری) تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

کووڈ ٹیسٹ

یہ بھی پڑھیے

ویکسین کے بعد بھی لوگوں کو کووڈ کیوں ہوتا ہے؟

کووِڈ کے خلاف ویکسین ایک بنیادی مقصد کے ساتھ تیار کی گئی تھی یعنی بیماری کی شدید ترین پیچیدگیوں کے خطرات کو کم کرنے کے لیے تاکہ ہسپتال میں داخل ہونے کی نوبت نہ آئے اور اموات میں کمی ہو۔

ویکسین کے پس پشت کون سی ٹیکنالوجی کام کر رہی ہے اس سے قطع نظر، ان سب کا ایک ہی ابتدائی مقصد ہے: ہمارے مدافعتی نظام کو وائرس یا بیکٹیریا (یا کسی ایک کے حصے) سے محفوظ طریقے سے ہم آہنگ کرنا۔

اس ابتدائی رابطے سے، جو ہماری صحت کو متاثر نہیں کرتے، وہ خلیات جو ہمارا دفاع کرتے ہیں وہ ایک ایسا ردعمل پیدا کرتے ہیں جو حقیقی انفیکشن کی صورت میں جسم کو تیار کرنے کے قابل بناتا ہے۔

یہ مدافعتی عمل انتہائی پیچیدہ ہے اور اس میں خلیات اور اینٹی باڈیز کی ایک بڑی قوت شامل ہوتی ہے۔ لہذا یہ مدافعتی ردعمل وائرس کی قسم، اس کے بدلنے کی صلاحیت، ویکسین تیار کرنے کا طریقہ، کسی شخص میں پہلے سے موجود مسائل اور دیگر متغیرات کے لحاظ سے کافی حد تک مختلف ہوتا ہے۔

اس لیے ایسا مدافعتی ایجنٹ تیار کرنا بہت مشکل ہے جو خود انفیکشن کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

لیکن یہاں ایک بہت اہم نکتہ ہے کہ اگرچہ ایسے کیسز میں جہاں ویکسین انفیکشن کو نہیں روک سکتی وہاں ویکسین سے تیار ہونے والا مدافعتی ردعمل اکثر علامات کو کم شدید بنا سکتا ہے اور اس طرح یہ زیادہ شدید بیماری اور موت کے واقعات کو کم کرتی ہے۔

مثال کے طور پر روٹا وائرس اور انفلوئنزا کی ویکسین کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے اور یہ بالکل وہی رجحان ہے جو ہم کووڈ 19 کے ساتھ دیکھ رہے ہیں: اگرچہ دستیاب ویکسینیں وبا کی نئی لہروں کو نہیں روکتی لیکن وہ زیادہ تر انفیکشن کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے اچھی طرح سے کام کر رہی ہیں۔

اس کا ثبوت کورونا وبا کی وہ لہریں ہیں جو سنہ 2021 کے آخر اور 2022 کے آغاز کے درمیان اومیکرون ویرینٹ سے متعلق تھیں، جب بہت سے ممالک میں کیسز کی تعداد میں ریکارڈ توڑ اضافہ دیکھا گیا لیکن ہسپتال میں داخل ہونے اور اموات کی شرح وبائی امراض کی دوسری لہروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھیں۔

یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کی جانب سے مارچ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں اس بچاؤ کی حد کا حساب لگایا گیا۔

معلومات سے پتا چلتا ہے کہ جن بالغ افراد کو کووڈ ویکسین کی تین خوراکیں ملی ہیں ان میں ان لوگوں کے مقابلے میں جن کو ویکسین نہیں لگی، ہسپتال میں داخل ہونے، سانس لینے یا مکینیکل مدد کی ضرورت کا خطرہ 94 فیصد کم تھا۔

اس حفاظتی اثر کا تیسرا ثبوت زو اور کنگز کالج کی طرف سے کئے گئے فالو اپ سے ملتا ہے۔

انھوں نے پایا کہ ویکسین کی دستیابی سے قبل کووڈ کی کچھ شدید علامات، جیسے سانس لینے میں دشواری اور تیز بخار، وبائی مرض کے اوائل میں زیادہ کثرت سے دیکھے گئے تھے۔

کیسز کی مختلف لہروں کے بعد اور اس سے بھی اہم بات یہ سامنے آئی ہے کہ آبادی کی اکثریت نے جو خوراک لی تھی اس کے بعد، اس قسم کی علامات اور ان کی شدت میں کمی واقع ہونے لگی اور آہستہ آہستہ ان کی جگہ معمولی علامات جیسے ناک بہنا اور چھینک وغیرہ کی شکایات دیکھی گئیں۔